• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عید کی نماز میں بارہ تکبیریں کہنے کا حکم

استفتاء

حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں قراء ت سے پہلے سات اور پانچ تکبیریں کہتے تھے۔( مسند احمد، رقم الحدیث: 24866)

حضرت عائشہ ؓ سے مروی ہے کہ نبی  ﷺ عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری میں پانچ تکبیر کہتے تھے جو رکوع کی تکبیروں کے علاوہ ہوتی تھیں  ۔(مسند احمد، رقم الحدیث:24913)

حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے باپ سے اور وہ (کثیر ) کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عیدین میں پہلی رکعت میں قراءت سے پہلے سات اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیر کہیں ۔ (مشکوۃ المصابیح، رقم الحدیث:1441)

جناب  عمر و بن شعیب اپنے والد( شعیب ) سے اور وہ اپنے دادا (عبداللہ بن عمر بن عاص ) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کی نماز میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے پھر قراءت کرتے پھر تکبیر کہتے( رکوع کے لیے)  پھر (دوسری رکعت میں ) کھڑے ہوتے اور چار تکبیریں کہتے پھر قراءت کرتے پھر (اس کے بعد ) رکوع کرتے۔

 امام ابو داؤد نے کہا وکیع اور ابن مبارک نے یہ حدیث روایت کی تو ان دونوں نے سات اور پانچ تکبیریں بیان کی ہیں ۔(سنن ابی  داؤد، رقم الحدیث: 1152)

حضرت سعد مؤذن رسولﷺ  سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید  کی نماز میں پہلی رکعت میں قرات سے پہلے سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہتے تھے۔( سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1277)

حضرت کثیر بن عبداللہ اپنے والد (حضرت عبداللہ بن عمر و بن عوف ؒ)سے اور وہ ان کے دادا (حضرت عمر و بن عوف رضی اللہ ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں عیدوں میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں اور دوسری رکعت میں پانچ  تکبیریں کہیں۔(سنن ابن ماجہ، رقم الحدیث:1279)

عبداللہ بن محمد بن عمار رضی اللہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے باپ سے اور انہوں نے ان کے دادا سے بیان کیا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم  عیدین میں پہلی رکعت میں سات تکبیریں  اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہتے تھے اور نماز خطبہ سے پہلے پڑھتے تھے ۔(سنن دارمی، رقم الحدیث: 1647)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نمازوں میں بارہ تکبیریں کہا کرتے تھے،  پہلی رکعت میں سات تکبیریں کہتے تھے اور دوسری میں پانچ تکبیریں کہتے تھے، آپ ایک راستے سے تشریف لے جاتے تھے اور دوسرے راستے سے واپس تشریف لاتے تھے۔  یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ارقم ہے اور وہ ضعیف ہے ۔ (مجمع الزوائد ، رقم الحدیث: 3245)

حضرت ابوواقد لیثی  رضی اللہ عنہ  اور سیدہ حضرت عائشہ صدیقہؓ بیان کرتی ہیں کہ  نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عید کی نماز پڑھاتے ہوئے پہلی رکعت  میں سات تکبیریں  کہی تھیں  اور سورت ق کی تلاوت کی تھی جبکہ دوسری رکعت میں پانچ تکبیریں کہی تھیں اور سورت اقتربت الساعۃ کی تلاوت کی تھی۔

علامہ ہیثمیؒ فرماتے ہیں میں یہ کہتا ہوں  کہ حضرت ابو واقدؓ کے حوالے سے منقول حدیث “صحیح” میں مذکور ہے اور اس میں تلاوت کا ذکر ہے تکبیر کا ذکر نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ کے حوالے سے منقول حدیث کو امام ابو داؤد اور دیگر حضرات نے نقل کیا ہے۔

حضرت عمرو بن عوفؓ سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپﷺ  نے عیدین کی نماز میں پہلی رکعت  میں قراءت سے پہلے سات تکبیریں  اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے  پانچ تکبیریں کہیں۔( صحیح ابن خزیمہ، رقم الحدیث: 1438)

حضرت عمرو  بن عوفؓ  کا بیان ہے کہ رسول اکرمﷺ  دونوں عیدوں کی پہلی رکعت میں قراء ت سے پہلے سات تکبیریں کہتے اور دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے پانچ تکبیریں کہتے۔ (صحیح ابن خزیمہ، رقم الحدیث:1439)

حدیث کی کتابوں میں سے  مذکورہ بالا حوالاجات  میں نے آپ کو پیش کیے ہیں آپ  ان  کا جائزہ لیں اور رہنمائی کریں کہ کیا یہ اس طریقہ سے بھی عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگرچہ مذکورہ طریقے سے بھی عید کی نماز پڑھ سکتے ہیں تا ہم اس طرح پڑھنا خلاف اولی ہے۔

اولی و افضل طریقہ وہ ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سےقولاً وفعلاً مروی ہے کہ  پہلی رکعت میں(تکبیر تحریمہ سمیت)چار تکبیرات قراءت سے پہلے اور دوسری رکعت میں(رکوع کی تکبیر سمیت) چار تکبیرات قراءت کے بعد پڑھنا۔

اس طریقے کے اولی ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ یہ طریقہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے  قولاً وفعلاً دونوں طرح ثابت ہے جبکہ جو طریقہ سوال میں مذکورہ احادیث میں ذکر کیا گیا ہے وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے صرف فعلا ً ثابت ہےقولاً  ثابت نہیں ہے۔

دوسری وجہ یہ ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں جنازے کی تکبیروں کے بارے میں اختلاف ہوا کہ وہ کتنی ہیں؟ تو حضرت عمر ؓنے فرمایا :کہ عیدین کی تکبیروں کی طرح جنازہ کی بھی چار تکبیریں ہیں یعنی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ سمیت چار اور دوسری میں رکوع کی تکبیر سمیت چار، اور اس موقع پر جتنے صحابہ کرامؓ موجود تھے ان میں سے کسی نے بھی اس  سے اختلاف نہیں کیا اور یہ اختلاف نہ کرنا ایک نوع کا اجماع ہے اور سوال میں ذکر کردہ روایات اخبار آحاد ہیں اور اجماع  اخبار آحاد پر مقدم ہے۔

شرح معانی الاثار (4/345 )میں ہے :

عن يحيى بن حمزة قال حدثني الوضين بن عطاء أن القاسم أبا عبد الرحمن حدثه قال حدثني بعض أصحاب رسول الله صلى الله عليه و سلم قال صلى بنا النبي صلى الله عليه و سلم يوم عيد فكبر أربعا وأربعا ثم اقبل علينا بوجهه حين أنصرف قال لا تنسوا كتكبير الجنائز وأشار بأصابعه وقبض إبهامه فهذا حديث حسن الإسناد وعبد الله بن يوسف ويحيى بن حمزة والوضين والقاسم كلهم أهل رواية معروفون بصحة الرواية

ترجمہ: حضرت قاسم ابو عبد الرحمٰن ؒ سے روایت ہے   کہ مجھے بعض اصحاب رسول ﷺ نے یہ حدیث   بیان کی ہے کہ ہمیں  عید کے دن نبی کریم ﷺ نے نماز پڑھائی  پس چار   تکبیریں  (پہلی رکعت میں  تکبیر تحریمہ سمیت)اور چار تکبیریں  (دوسری رکعت میں  رکوع کی تکبیر سمیت ) کہیں،پھر ہماری طرف متوجہ ہوئے   اور ارشاد فرمایا کہ تم  بھول نہ جانا (عیدین کی تکبیریں) جنازہ  کی تکبیرات کی طرح (چار) ہیں اور اپنی   (چار) انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا   اور اپنے انگوٹھے کو بند کیا ۔

طحاوی  (1/495) میں ہے :

فاجمعوا امرهم علی أن یجعلوا التکبیر علی الجنائز مثل التکبیر فی الاضحی والفطر أربع تکبیرات فاجمع (عمررضی الله عنه) امرهم  علی ذالک.

ترجمہ: حضرت  عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم   نے اس بات پر اتفاق  فرمایا  کہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ  کی طرح نماز جنازہ کی چار تکبیریں ہوں گی۔

اعلاء السنن (8/137) میں ہے:

والامر في التكبيرات واسع قال الامام محمد في مؤطاه قد اختلف الناس في التكبير في العيدين فما اخذت به فهو حسن وافضل ذلك عندنا ما روى عن ابن مسعود.

وفيه أيضا: وهو راجح أيضا من حيث ثبوته عن النبي صلى الله عليه وسلم  قولا وما سواه فعلا والقول راجح على الفعل.

بدائع الصنائع (1/277) میں ہے:

والمختار في المذهب عندنا مذهب ابن مسعود لاجتماع الصحابه عليه ثم ذكر قصه الوليد بن عقبه انه ارسل الى الصحابه فاسندوا الامر الى ابن مسعود فعلمه تسع تكبيرات ووافقوه على ذلك .

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved