- فتوی نمبر: 35-224
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کھانے پینے کی اشیاء
استفتاء
Fresh ST کمپنی کی Burger Sauce (برگر ساس) کا استعمال کرنا کیسا ہے؟ اس کے اجزائے ترکیبی درج ذیل ہیں:
Rapeseed Oil, Mustard Seeds, Vinegar, Turmeric, Tomato Concentrate, Gherkins, Sugar, Modified Starch, Citric Acid, Xanthan gum, Water, Salt, Egg yolks, ETDA
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
Fresh ST کمپنی کی Burger Sauce (برگر ساس)کے اجزائے ترکیبی میں سے کسی جزء کے حرام ہونے پر ہمیں کوئی قابل اعتبار دلیل نہیں ملی لہذا جب تک مذکورہ Burger Sauce (برگر ساس) میں کسی حرام جز ء کے شامل ہونے کی کوئی قابل اعتبار دلیل سامنے نہیں آتی اس وقت تک اس ساس کے استعمال کی گنجائش ہے ۔
توجیہ:مذکورہ ساس کے پیکٹ پر 14 اجزائے ترکیبی مذکور ہیں جن میں سے دس (10) نباتاتی ، دو(2) معدنی،ایک (1) حیوانی اور ایک (1) مصنوعی ہے۔ ان اجزاء کی تفصیل اور ان کا حکم درج ذیل ہے :
نباتاتی اجزاء:
Rapeseed Oil(رائی کے بیج کا تیل )
Mustard Seeds (سرسوں کے بیج)
Vinegar (سرکہ)
Turmeric (ہلدی)
Tomato Concentrate (ٹماٹر کا گاڑھا پیسٹ)
Gherkins (اچار والے چھوٹے سائز کے کھیرے)
Sugar (چینی)
Modified Starch (تبدیل شدہ نشاستہ)
Citric Acid (لیموں، کینو/ مالٹا وغیرہ سے حاصل کیا گیا تیزاب)
Xanthan gum (سبز پتوں والی سبزیوں سے حاصل ہونے والی گوند)
نباتاتی اجزاء کا حکم:
ان میں سے نشہ آوریامضر اجزاء کے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء میں سے کوئی بھی جز نشہ آور اور مضر نہیں ہے لہذایہ سب اجزاء حلال اور پاک ہیں اور سرکہ بھی تبدیل ماہیت کی وجہ سے حلال اور پاک ہے۔
معدنی اجزاء :
Water(پانی)
Salt(نمک)
معدنی اجزاء کا حکم:
ان کا حکم بھی نباتات والا ہے کہ نشہ آور یا مضر اجزاءکے علاوہ سب پاک اور حلال ہیں اور ہماری معلومات کے مطابق مذکورہ اجزاء نشہ آور یا مضر نہیں ہیں لہذا یہ اجزاء بھی حلال اور پاک ہیں۔
حیوانی اجزاء :
Egg yolks(انڈے کی زردیاں)
حیوانی اجزاء کا حکم:
جن جانوروں کا گوشت حلال ہے ان کا انڈہ بھی حلال ہے اور جن کا گوشت حرام ہے ان کا انڈہ بھی حرام ہے ہماری معلومات کی حد تک پوری دنیا میں تجارتی سطح پر عموما مرغی کے انڈے استعمال کیے جاتے ہیں لہذا جب تک ان انڈوں کے کسی حرام جانور سے حاصل ہونے کا علم یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان انڈوں کو بھی حلال کہا جائے گا۔
مصنوعی اجزاء :
ETDA ایتھیلین ڈائیمین ٹیٹرا ایسٹک ایسڈ (ایک سفید تحفظی تیزابی مادہ جو کسی چیز میں موجود لوہے جیسے دھاتی ذرات کو اپنے سے جکڑ کر انہیں گلانے کی صلاحیت رکھتا ہے)
مصنوعی اجزاء کا حکم:
مصنوعی اجزاء بھی درحقیقت مذکورہ بالا تین اجزاء نباتاتی معدنی اور حیوانی میں سے کسی ایک سے یا ایک سے زائد سے ہی تیار ہوتے ہیں ان سے ہٹ کر کسی اور چیز سے تیار نہیں ہوتے اس لیے مصنوعی اجزاء کا اصل حکم تو اسی وقت معلوم ہو سکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ ان کو کن اشیاء سے تیار کیا گیا ہے اور پھر اس مصنوع میں ان میں سے کون سا مصنوعی جزو استعمال کیا گیا ہے ۔مذکورہ صورت میں چونکہ ان اجزاء کے کسی حیوان یا دیگر حرام اشیاء سے تیار ہونے کا یقین یا غالب گمان نہیں اس لیے جب تک ان مصنوعی اجزاء کے کسی حرام جانور یا کسی حرام شئے سے حاصل ہونے کا یقین یا غالب گمان نہ ہو اس وقت تک ان مصنوعی اجزاء کو بھی حلال کہا جائے گا۔
نوٹ:ہمارے اس فتوے کا تعلق صرف صارف (Consumer) کے ساتھ ہے کیونکہ ایک مفتی اور عام صارف کو کسی مصنوع(Product)کے ان اجزائے ترکیبی تک ہی رسائی ہو سکتی ہے جو پیکٹ پر درج ہوں اور وہ ان اجزاء کو ہی سامنے رکھ کر اپنے لیے یا دوسروں کے لیے حلال یا حرام کا فیصلہ کر سکتا ہے۔
جبکہ صانع(Manufacturer)کو اصل حقیقت کا علم ہوتا ہے اس لیئے صانع(Manufacturer) نے اگر اپنی کسی مصنوع(Product)میں کوئی حرام جز شامل کیا ہو اور اسے کسی بھی مصلحت سے اجزائے ترکیبی میں ذکر نہ کیا ہو تو صانع (Manufacturer) کا یہ فعل بہر حال حرام ہوگا اور چونکہ ہمارے پاس ایسے وسائل نہیں کہ ہم اس کی تحقیق کر سکیں کہ کسی مصنوع میں واقعتاً کوئی حرام جز شامل تو نہیں ،اس لیئے ہمارے اس فتوے کی صانع (Manufacturer) کے لیئے سرٹیفکیٹ کی حیثیت نہیں ہے۔
نیز ہمارا یہ فتوی موجودہ پیکٹ پر درج اجزائے ترکیبی کے بارے میں ہے لہذا اگر کمپنی آئندہ اجزائے ترکیبی میں کوئی تبدیلی کر ےتو ہمارا یہ فتوی اس کو شامل نہ ہوگا۔
إحياء علوم الدين(2/ 92)میں ہے:
«أما المعادن فهي أجزاء الأرض وجميع ما يخرج منها فلا يحرم أكله إلا من حيث أنه يضر بالآكل….. وأما النبات فلا يحرم منه إلا ما يزيل العقل أو يزيل الحياة أو الصحة»
الموسوعۃ الفقہیۃ (5/153) میں ہے:
إن خرج البيض من حيوان مأكول في حال حياته، أو بعد تذكيته شرعا، أو بعد موته، وهو مما لا يحتاج إلى التذكية كالسمك، فبيضه مأكول إجماعا، إلا إذا فسد.
فتح الباری (9/ 635) میں ہے:
«ويستفاد منه أن كل ما يوجد في أسواق المسلمين محمول على الصحة وكذا ما ذبحه أعراب المسلمين لأن الغالب أنهم عرفوا التسمية»
تبیین الحقائق(6/219) میں ہے:
’’ألا ترى أن أسواق المسلمين لا تخلو عن المحرم من مسروق ومغصوب، ومع ذلك يباح التناول اعتمادا على الظاهر‘‘
طبی جوہر (ص:110) میں ہے:
ہر جانور کا انڈہ اس کے گوشت کے حکم میں ہوتا ہے۔
بہشتی زیور (ص:604) میں ہے:
’’نباتات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا مسکر ہو۔‘‘
بہشتی زیور (ص:600) میں ہے:
’’جمادات سب پاک اور حلال ہیں الا آنکہ مضر یا نشہ لانے والا ہو۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved