- فتوی نمبر: 35-245
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
1۔اگو کوئی وضو کر رہا ہو اور وضو کے دوران ہی کوئی زخم لگ جائے اور خون بند نہ ہورہا ہو اور نماز کا وقت جانے کا خوف ہو یا کہیں جارہے ہوں تو نماز پڑھنے کے لیے جلدی وضو کیا اس حال میں کہ خون ویسے ہی جاری ہو تو کیا کرے نماز چھوڑ دے اور قضاء کرے یا ایسے خون بہتے ہوئے نماز پڑھے؟
2۔ آگے شیشہ ہو اور کوئی نماز پڑھے اور اس میں شکل بھی نظر آئے تو کیا نماز ہوجاتی ہے ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت میں نماز چھوڑنا تو جائز نہیں البتہ خون بند ہونے کا انتظار کرے اگر وقت کے اندر خون بند نہ ہو تو آخری وقت میں وضو کر کے نماز پڑھے پھر اگر دوسری نماز کا پورا وقت گزرنے سے پہلے خون بند ہو جائے تو پڑھی ہوئی نماز کو دوبارہ پڑھے اور اگر بند نہ ہو تو پڑھی ہوئی نماز درست ہے۔
2۔مذکورہ صورت میں نماز ہو جائے گی لیکن اگر اس کی وجہ سے نمازی کی توجہ ہٹتی ہو اور یکسوئی اور خشوع خضوع میں خلل واقع ہوتا ہو تو ایسی صورت میں شیشے کے سامنے نماز پڑھنا مکروہ تنزیہی ہے۔
1۔ہندیہ (1/74) میں ہے:
لو سال دمها في بعض وقت صلاة فتوضأت وصلت ثم خرج الوقت ودخل وقت صلاة أخرى وانقطع دمها فيه أعادت تلك الصلاة لعدم الاستيعاب.وإن لم ينقطع في وقت الصلاة الثانية حتى خرج لا تعيدها لوجود استيعاب الوقت
مسائل بہشتی زیور (1/58) میں ہے:
ظہر کا کچھ وقت گزر گیا تھا تب زخم وغیرہ کا خون بہنا شروع ہوا تو اخیر وقت تک انتظار کرے اگر بند ہو جائے تو خیر نہیں تو وضو کر کے نماز پڑھ لے پھر اگر عصر کے پورے وقت میں اسی طرح خون بہتا رہا کہ نماز پڑھنے کی مہلت نہیں ملی تو اب عصر کا وقت گزرنے کے بعد معذور ہونے کا حکم لگائیں گے کیونکہ ظہر کا پورا وقت عذر میں نہیں گزرا تھا جب کہ عصر کا پورا وقت عذر میں گزرا ہے اور اگر عصر کے وقت کے اندر ہی اندر بند ہو جائے تو وہ معذور نہیں جو نمازیں اتنے وقت میں پڑی ہیں وہ درست نہیں ہوئی پھر سے پڑھے۔
2۔شامی (2/513) میں ہے:
بقي في المكروهات أشياء أخر ذكرها في المنية ونور الإيضاح وغيرهما: منها الصلاة بحضرة ما يشغل البال ويخل بالخشوع كزينة ولهو ولعب، ولذلك كرهت بحضرة طعام تميل إليه نفسه
(ولا بأس بنقشه خلا محرابه) فإنه يكره لأنه يلهي المصلي
(قوله لأنه يلهي المصلي) أي فيخل بخشوعه من النظر إلى موضع سجوده ونحوه، وقد صرح في البدائع في مستحبات الصلاة أنه ينبغي الخشوع فيها، ويكون منتهى بصره إلى موضع سجوده إلخ وكذا صرح في الأشباه أن الخشوع في الصلاة مستحب. والظاهر من هذا أن الكراهة هنا تنزيهية فافهم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
