- فتوی نمبر: 35-256
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > لقطہ
استفتاء
کیا لقطہ کا مال مسجد کو بھی دیا جا سکتا ہے جیسا کہ فتاویٰ عثمانی کی درج ذیل عبارت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے ؟
یہ بات تقریبا مسلّم ہے کہ کسب خبیث کا واجب التصدق ہونا اس بناء پر ہے کہ اس کا صحیح مالک یا تو معلوم نہیں یا اس تک مال پہنچانا متعذر ہے لہذا وہ لقطے کے حکم میں ہو گیا، اور لقطے کا حکم یہ ہے کہ وہ واجب التصدق ہے، اور چونکہ فقہائے حنفیہ نے بیت المال کے مصارف ذکر کرتے ہوئے لقطے کا مصرف صرف فقراء کو قرار دیا ہے، اس لئے اس سے یہ استنباط کیا گیا کہ زکوۃ کی طرح اس کی بھی تملیک ضروری ہے، لیکن یہ استنباط محل نظر ہے۔
اوّل تو بعض فقہائے حنفیہ نے لقطے کو صرف فقراء کے ساتھ خاص نہیں کیا بلکہ اسے تمام مصالح مسلمین میں خرچ کرنے کو درست قرار دیا ہے، چنانچہ علامہ شامی نے علامہ بزدوی سے نقل کیا ۔
أنه يصرف الى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك (3/137)
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ایک قول کے مطابق لقطہ کا مال مسجد کو بھی دیا جا سکتا ہے لیکن یہ قول مرجوح ہے، راجح اور مشہور قول یہی ہے کہ لقطہ کامال مسجد کو نہیں دیا جاسکتا۔
فتاوی عثمانی میں بھی اسے بعض فقہاء کا قول کہہ کر بیان کیا گیا ہے جو اس کے مرجوح ہونے کی طرف اشارہ ہے۔
شامی (3/331) میں ہے:
بيوت المال أربعة لكل … مصارف بينتها العالمونا
فأولها الغنائم والكنوز … ركاز بعدها المتصدقونا
وثالثها خراج مع عشور … وجالية يليها العاملونا
ورابعها الضوائع مثل ما لا … يكون له أناس وارثونا
فمصرف الأولين أتى بنص … وثالثها حواه مقاتلونا
ورابعها فمصرفه جهات … تساوى النفع فيها المسلمونا
(قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك. اهـ.
ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر.
وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره.
وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء فلو ذكر الناظم الرابع مكان الثالث ثم قال وثالثها حواه عاجزونا ورابعها فمصرفه إلخ لوافق ما في عامة الكتب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
