- فتوی نمبر: 35-266
- تاریخ: 30 مئی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
مفتی صاحب میں نے یہ مسئلہ پوچھنا تھا کہ کوئی دکاندار مجھ سے سامان ادھار خریدنا چاہتے ہیں تو وہ مجھے اپنی ڈیمانڈ کی چیزیں بتاتے ہیں وہ لکھ کر دیتے ہیں کہ فلاں فلاں سامان لا دو میں خود ہی خرید کر کبھی اپنے پاس رکھ لیتا ہوں اور وہ آ کر لے لیتے ہیں یا کبھی خود ان کی دکان پر ہی پہنچا دیتا ہوں میں سامان تھو ک میں لاتا ہوں تو کم قیمت میں ملتا ہے سامان میں چھوٹی چھوٹی بہت ساری چیزیں ہوتی ہیں اب مثال کے طور پر اگر میں چار لاکھ کا سامان لاؤں تو اس پر لاکھ کا منافع رکھ کر اس کو دیتا ہوں اور جو سامان ہے وہ موٹر سائیکل کی چیزوں اور سپیر پارٹ کا ہوتا ہے ان کو سامان دیتے وقت طے ہوتا ہے کہ ایک مہینہ تک وہ سارے پیسے دے دیں گے اور روزانہ دینا شروع کر دیتے ہیں تو آپ بتا دیں یہ صورت مناسب ہے اور وہ یہ پیسے کبھی ایک ماہ میں اتار دیتے ہیں یا کبھی ڈیڑھ ماہ میں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر چند شرائط کا لحاظ رکھا جائے تو جائز ہے ورنہ نہیں اور وہ شرائط درج ذیل ہیں :
1۔جس وقت وہ آپ کو ان چیزوں کا آرڈر دیں گے اس آرڈر کی حیثیت وعدہ کی ہونی چاہیے یعنی خرید وفروخت کا معاملہ فی الحال نہیں ہونا چاہیے کیونکہ فی الحال وہ چیز آپ کی ملکیت میں نہیں ہوتی اور جو چیز ملکیت میں نہ ہو اسے بیچنا جائز نہیں اور وعدہ کا مطلب یہ ہے کہ فریقین میں سے کوئی بھی دوسرے کا پابند نہیں یعنی آپ کے وہ چیز خریدنے کے بعد آپ اُنہی کو بیچنے کے پابند نہیں اور وہ آپ سے خریدنے کے پابند نہیں، تاہم بغیر مجبوری کے فریقین کو وعدہ خلافی کرنا جائز نہیں اور اگر کسی فریق کے وعدہ خلافی کرنے سے دوسرے فریق کا حقیقی نقصان ہو تو اس کی ذمہ داری وعدہ خلافی کرنے والے فریق پر ہوگی۔
2۔آپ کے ان چیزوں کو خریدنے کے بعد جب خرید وفروخت کا معاملہ ہو اور ادھار ہو تو کل قیمت اور اس کی ادائیگی کی مدت طے ہوجائے جو متعین ہونی چاہیے جس پر وہ فریق ادائیگی کا پابند ہے البتہ کچھ گنجائش آپ اپنی مرضی سے بعد میں دے دیں وہ آپ کا احسان ہے لیکن تاخیر کی بناء پر جرمانہ نہیں لیا جا سکتا ۔
سنن ابی داؤد (رقم الحدیث: 3503) میں ہے:
عن حكيم بن حزام، قال: يا رسول الله، يأتيني الرجل فيريد مني البيع ليس عندي، أفأبتاعه له من السوق؟ فقال: “لا تبع ما ليس عندك “
فتح القدیر (6/242) میں ہے:
قال (ويجوز البيع بثمن حال ومؤجل إذا كان الأجل معلوما) لإطلاق قوله تعالى {وأحل الله البيع} [البقرة: 275] وعنه – عليه الصلاة والسلام – «أنه اشترى من يهودي طعاما إلى أجل معلوم ورهنه درعه»
امداد الفتاویٰ (3/39) میں ہے:
سوال (۱۶۴۰) : قدیم ۳/ ۳۹- عمرو نے زید سے کہا کہ تم مجھ کو یک صد روپیہ کا مال جفت پاپوش منگادو، میں تم سے صد کا منافع دے کر ادھار ایک ماہ کے واسطے خرید کر لوں گا، یا جس قدر مدت کے واسطے تم دوگے اسی حساب سے منافع دونگا، یعنی پانچ روپے یک صد روپیہ کا منافع ایک ماہ کے واسطے ہے، جب مال آجاوے گا اس وقت مدّت ادھار اور منافع کی معین ہوجاوے گی، اس کے جواب میں زید نے کہا کہ میں منگادوں گا ، مگر اطمینان کے واسطے بجائے یک صد کے دو صد کا رقعہ لکھاؤں گا تاکہ تم خلاف عہدی نہ کرو، عمرو نے منظور کیا؟
الجواب: اس میں دو مقام قابل جواب ہیں ، ایک یہ کہ زید وعمرو میں جو گفتگو ہوئی یہ وعدہ محضہ ہے، کسی کے ذمہّ بحکم عقد لازم نہیں ۔ اگر زید کے منگانے کے بعد بھی عمرو انکار کر دے تو زید کو مجبور کرنے کا کوئی حق نہیں ، پس اگر عرف وعادت میں عمرو مجبور سمجھا جاتا ہو تو یہ معاملہ حرام ہے ورنہ حلال
امداد الفتاویٰ (3/40) میں ہے:
سوال (۱۶۴۱) : قدیم ۳/ ۴۰- عمرو نے زید کو مبلغ سو روپے واسطے خریدنے جفت پاپوش کے دیئے اور کوئی اجرت بطور معاوضہ خریداری کے قرار نہیں پائی، متعاقدین میں اجرت کی نسبت ذکر بھی نہیں آیا، اور قبل خریداری مال اور دینے زرکی قیمت کے باہمی یہ امر طے ہو چکا تھا کہ یہ مال مبلغ سوا چھ روپے سیکڑہ کے منافع سے بمیعاد ایک مہینے کے تم کو دیدیں گے، مال دساور سے خرید کر زید اپنے گھر لے آیا، اور عمرو کو بلا کر مال دکھلا کر جوڑدیا یعنی شمار کرادیا، اور دونوں نے سمجھ لیا کہ مال مبلغ سو روپے کا ہے، اس کے بعد عمرو نے زید سے دریافت کیا کہ تم یہ مال ہم سے کس قدر مدت کے واسطے بشرح منافع مذکورہ بالا لیتے ہو، زید نے کہا کہ ایک ماہ کے واسطے لیتا ہوں ، عمرو نے اس کو قبول کیا، بعد ختم ہونے مدت ایک ماہ کے عمرو نے زید سے اصل روپیہ مع منافع طلب کیا، زید نے صرف منافع مبلغ سوا چھ روپے عمرو کو دے کر اصل روپیہ کی نسبت عذر کیا کہ میرے پاس اس وقت موجود نہیں ہے بلکہ کچھ مال موجود ہے کچھ نقد ہے اور کچھ اُدھار میں ہے تو عمرو نے کہا کہ اگر تمہارے پاس زراصل موجود نہیں ہے تو تم اس کے عوض میں اس قدر کا مال آئندہ کے لئے مجھ کو دے کر اور جوڑوا کر پھر ہم سے اس کو خرید لو، زید نے مبلغ سو روپے کا مال اپنے پاس دکھلایا، اور عمرو کو دے کر جوڑوادیا، اور پھر بشرح منافع بالا عمرو سے خرید لیا، اور مدت کبھی ایک ماہ تراضِی طرفین سے قرار پاتی ہے، اور کبھی زائد؟
الجواب: یہاں دو بیعیں علی سبیل التعاقب ہیں ، ایک وہ کہ زید نے عمرو سے مال خریدا اس کا حکم یہ ہے کہ اگر زید عمرو کو اور عمرو زید کو بیع وشراء پر بنا بر وعدہ، سابقہ مجبور نہ کرے تو جائز ہے، اور اگر مجبور کرے تو ناجائز ہے۔ دوسرے بیع وہ جو سو روپیہ بقیہ زرثمن کے عوض میں زید نے عمرو کو دیا، اس کا حکم یہ ہے کہ اگر اس میں یہ شرط ٹھہری کہ پھر عمرو سے زید اس کو خریدے گا تو حرام ہے ۔ اور اگر یہ شرط نہ ٹھہری پھر اگر خریدے آزادی سے جدید رائے سے خریدے تو جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
