• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نکاح پڑھانے کی اجرت سے متعلق ایک مسئلہ کی تحقیق

استفتاء

1۔اگر د لہن کنواری ہے تو اس کا نکاح پڑھانے کا ہدیہ ایک دینار ہے۔

2۔او را گرد لہن بیوہ ہو تو اس کا نکاح پڑھانے کا ہد یہ آدھا دینا ر ہے ۔

 نوٹ: دینار سونے کا ہوتا ہے اور ایک دینار کا وزن 4 گرام 665 ملی گرام ہے تو آج کے بھاؤ کے حساب سے ایک دینار کی قیمت تقریباً 54347 بنتا ہے۔ لہٰذا کنواری کا نکاح پڑھانے کا ہدیہ 54347 ہے اور بیوہ کا 27173 ہے۔ اگر اس سے کم رقم میں قاضی یا ائمہ مساجد صاحب نکاح پڑھاتے ہیں تو یہ ان کا مسلمانوں پر کرم ہے ورنہ وہ چاہیں تو پورا ہد یہ لے سکتے ہیں۔( فتوى تاج الشریعہ [8/75]، اور فتویٰ ہندیہ [3/375])

اماموں کو چاہئے کہ شریعت کے اعتبار سے جو نکاح پڑھانے کا ہدیہ بنتا ہے۔ وہ ہر حال میں وصول کریں تاکہ شادیوں میں ناچنے گانے والوں کو ان کی اوقات پتہ چل سکے علماء کرام اور ائمہ مساجد سے گزارش ہے کہ   جب نکاح شریعت کے مطابق پڑھا رہے ہیں تو ہدیہ بھی شریعت کے مطابق لیجئے !

مفتی صاحب اس کی تنقیح فرمادیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جن فقہی عبارات کے پیش نظر مذکورہ تحریر تیار کی گئی ہے ان عبارات کا تعلق قاضی سے ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ بعض اوقات قاضی پر نابالغ بچے یا بچی کا نکاح پڑھانا واجب ہوتا ہے جبکہ اس نابالغ بچے یا بچی کا قاضی کے علاوہ کوئی اور ولی (سرپرست) نہ ہو اور جو کام قاضی پر واجب ہو اس کی اجرت لینا قاضی کے لیے جائز نہیں تو اس سے یہ سوال پیدا ہوا کہ اگر قاضی پر نکاح پڑھانا واجب نہ ہو مثلا لڑکا یا لڑکی بالغ ہو یا اگر نابالغ ہوں تو ان کا قاضی کے علاوہ کوئی اور ولی  (سرپرست) ہو تو کیا اس صورت میں قاضی کے لیے اجرت لینا جائز ہے یا نہیں ؟ تو اس کا جواب فقہائے کرام نے یہ دیا کہ ایسی صورتوں میں قاضی کے لیے اجرت لینا جائز ہے پھر سوال پیدا ہوا کہ قاضی کس حد تک اجرت لے سکتا ہے تو بعض فقہائے کرام نے یہ حد بندی  کر دی کہ اگر دلہن  کنواری ہو تو ایک دینار اور بیوہ یا مطلقہ ہو تو آدھا دینار اجرت لے سکتا ہے اور یہ حد بندی اس لیے کی تاکہ قاضی اجرت کے معاملے میں اپنے عہدے کی وجہ سے من مانی نہ کرے اس لیے نہیں تھی کہ اس سے کم اجرت لینا یا مفت نکاح پڑھانا شریعت میں منع ہے اور یہ اجرت حق مہر کی طرح کوئی شرعی حکم ہے لہذا ان عبارات سے یہ نتیجہ نکالنا غلط ہے کہ ایک دینار یا آدھا دینار شریعت کا کوئی تقاضا ہے جسے پورا کرنا  مطلوب ہے۔

ہندیہ (5/264) میں ہے:

‌وفي فتاوى النسفي ‌إذا ‌كان ‌القاضي ‌يتولى القسمة بنفسه حل له أخذ الأجرة وكل نكاح باشره القاضي وقد وجبت مباشرته عليه كنكاح الصغار والصغائر فلا يحل له أخذ الأجرة عليه، وما لم تجب مباشرته عليه حل له أخذ الأجرة عليه، كذا في المحيط. واختلفوا في تقديره والمختار ‌للفتوى أنه إذا عقد بكرا يأخذ دينارا وفي الثيب نصف دينار ويحل له ذلك هكذا قالوا، كذا في البرجندي

فتاویٰ بزازیہ (5/229) میں ہے:

ولو تولى [أى القاضى، از ناقل]  نكاح صغير لا يحل له أخذ شيء لأنه واجب عليه وكل ما وجب عليه لا يجوز أخذ  الأجر وما لا يجب عليه يحل أخذ الأجر وذكر عن البقالي في القاضي يقول اذا عقدت عقدا لبكر فلي دينار ولو ثيبا فلي نصفه أنه لا يحل له إن لم يكن لها ولى ولو كان لها ولى غيره يحل بناء على ما ذكرنا.

امداد الفتاویٰ  (2/297) میں ” برجندی” کے حوالے  سے عبار ت مذکور  ہے کہ:

وفي شرح أداب القاضي للخصاف أن للقاضي أن ياخذ في عقود الانكحه شيئا زائدا على ما يأخذه الاكابر في ذلك الموضع إن كان الولي غيره وإن كان هو الولي لا يحل له الأخذ واختلفوا في تقديره والمختار للفتوى إنه اذا عقد بكرا ياخذ دينارا وفي الثيب نصف دينار يحل له ذلك وهكذا قالوا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved