• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اجتماعی قربانی میں تشہیر کا خرچہ شرکاء سے لینے کا حکم

استفتاء

مدرسہ والے عید الاضحیٰ کی اجتماعی قربانی کے لیے شرکاء سے حصے کی رقم  جمع کررہے ہیں ۔کیا ان جمع شدہ پیسوں میں سے قربانی کے اشتہارات، پمفلٹس یا تشہیری امور پر خرچ کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

وضاحت مطلوب ہے:  مدرسہ والوں کے  قربانی کے نظم  اور اس تشہیر سے کوئی مفادات متعلق ہوتے ہیں ؟ اگر ہوتے ہیں تو اگر وہ مفاد  کسی وجہ سے حاصل نہ ہوں تو کیا تب بھی مدرسہ یہ نظم اور تشہیر برقرار رکھے گا ؟

جواب وضاحت :مدرسہ کو کچھ جزوی فائدہ ہوتا ہے لیکن اگر وہ فائدہ نہ بھی ہو تب بھی مدرسہ نظم اور تشہیر باقی رکھے گا ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ اشتہارات سے مقصود اجتماعی قربانی میں حصہ ڈالنے کی اطلاع اور ترغیب ہے جس کا بظاہر حصہ ڈالنے والوں سے کوئی تعلق نہیں،اگر یہ اشتہارات نہ بھی ہوں تو وہ خود فون وغیرہ کے ذریعے معلوم کر سکتے ہیں، نیز آجکل زیادہ تر لوگ آن لائن تشہیر پر انحصار کرتے ہیں جس میں کوئی خاص خرچہ نہیں ہوتا لہذا ہماری معلومات کے مطابق ان اشتہارات کا خرچہ حصہ داران سے لینا درست نہیں تا ہم اس بارے میں کسی اور مستند دارالافتاء سے بھی معلوم کر لیا جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved