- فتوی نمبر: 35-333
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > شرکت کا بیان > شرکت عنان
استفتاء
میں نے زید سے 13 لاکھ روپے لیے اور 4 گائیں خریدیں 4 گائیوں کی قیمت 19,70,000 روپے بنتی ہے جن میں سے 13 لاکھ سے زائد رقم میرے ذمے ہے وہ میں خود دوں گا اور پیسے ادھار ہیں جو کہ میں بعد میں ادا کروں گا اور میرا زید سے یہ طے ہوا ہے کہ ہر ماہ کی 6 تاریخ کو سارا خرچہ اور آمدن کا حساب کتاب کریں گے جو بھی نفع اور نقصان ہوگا اس کو دو حصوں پر تقسیم کریں گے نفع سے مراد ان کا دودھ بیچ کر نفع ہے سارا خرچہ اوردودھ روز کا لکھا جائے گا۔ دیکھ بھال وغیرہ سب میرے ذمے ہے مجھے میرے سرمائے سے زیادہ جو نفع مل رہا ہے وہ کام کی وجہ سے مِل رہا ہے۔
وضاحت مطلوب ہے: کیا دوسرے فریق کو بھی معلوم تھا کہ کل جانور 19 لاکھ 70 ہزار کے خریدے جا رہے ہیں اور 13 لاکھ سے زائد آپ نے بعد میں دینے ہیں؟
جواب وضاحت: جی بالکل شرکت کی بنیاد پر ہی ہم نے معاملہ کیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت بنیادی طور پر جائز ہے البتہ اس میں نقصان آدھا آدھا نہیں ہوگا بلکہ اس میں یہ تفصیل ہے کہ کل سرمایہ میں سے سائل کے سرمایہ کے تناسب یعنی 34.01 فیصد کے حساب سے نقصان تو بہر حال سائل کو برداشت کرنا پڑے گا اور باقی یعنی 65.989فیصد میں دیکھا جائے گا کہ اگر تو سائل کی کوتاہی ہو گی تو اسے ہی برداشت کرنا پڑے گا اور اگر کوتاہی نہ ہو تو پہلے نفع میں سے پورا کریں گے اور نفع سے زائد ہونے کی صورت میں زید کا سرمایہ جائے گا ۔
توجیہ : مذکورہ صورت کی اصل یہ بنتی ہے کہ کل عمل سائل کے ذمہ ہے اور سرمایہ کچھ تو اس کی اپنی جانب سے ہے اور باقی زید کی طرف سے ہے اور نفع سائل کا اس کے سرمایہ سے زیادہ طے ہے لہذا سائل اپنے سرمایہ میں اصیل بنے گا اور زید کے سرمایہ میں مضارب شمار ہو گا لہذا جس حد تک سائل اصیل ہے اتنا نقصان بھی اسے خود برداشت کرنا پڑے گا اور وہ باقی میں چونکہ مضارب ہے اور مضاربت میں ہونے والے نقصان میں یہ تفصیل ہے کہ اگر وہ نقصان مضارب کی کوتاہی سے ہو تو وہ اسے برداشت کرنا پڑتا ہے اور اگر اس کی کوتاہی نہ ہو تو اگر تو پہلے نفع ہوا ہو تو پہلے وہ نقصان نفع میں سے پورا کیا جاتا ہے اور نقصان نفع سے زیادہ ہونے یا نفع ہونے کی صورت میں وہ نقصان سرمایہ والے کو برداشت کرنا پڑتا ہے لہٰذا اسی کے مطابق یہاں بھی عمل کیا جائے گا۔
فتاوی تاتار خانیہ (15/412) میں ہے:
وله ان يشتري بها ما بدا له من سائر التجارات وله ان يِعمل ما هو من عادة التجار
شامی، کتاب المضاربۃ (5/ 649) میں ہے:
«فلو استأجر [أى المضارب، از ناقل] أرضا بيضاء ليزرعها أو يغرسها جاز) ظهيرية»
وقال الرافِعي تحته:قال الرحمتي كان هذا في عرفهم انه صنيع التجار وفي عرفنا ليس منه فينبغي ان لايملكه
فتاوی تاتار خانیہ (15/519) میں ہے:
إذا اشترى المضارب بمال المضاربة أرضا للمضاربة، ثم دفعها إلى غيره مزارعة على أن يكون البذر من قبل المزارع جاز، وتكون حصة المضارب من الخارج بينه وبين رب المال على ما شرطا في المضاربة.
ولو استأجر المضارب أرضا مزارعة، ثم اشترى طعاما، ببعض مال المضاربة فزرعها جاز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
