- فتوی نمبر: 32-279
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > مضاربت
استفتاء
فریق اول(زید) کا موقف:
میں اپنے دوستوں کے ساتھ گاڑیوں کا کاروبار کرتا تھا، ان کا شو روم تھا تو ہم گاڑی لیتے تھے اور بیچتے تھے اور جو نفع ہوتا تھا اس میں سے آدھا میں رکھ لیتا تھا اور آدھا شوروم کا مالک رکھ لیتا تھا۔ میرے بڑے بھائی نے مجھے کہا کہ میرے بھی تین لاکھ روپے لگا لو اور جو پرافٹ وغیرہ ہوگا اس کے ساتھ مجھے بھی شامل کرلو، میں نے کہا کہ ٹھیک ہے جو بھی نفع ہوگا اس میں سے 50 فیصد تو جن کا شوروم ہے وہ رکھ لیں گے اور ان کو دینے کے بعد جو بچے گا اس میں آدھا میں اور آدھا میرے بڑے بھائی لے لیں گے، انہوں کہا کہ ٹھیک ہے اسی وقت میرے بڑے بھائی نے مجھے تین لاکھ روپے دیےاور میں نے شوروم کے توسط سے گاڑی خریدی اور پھر بیچی اس میں سے ہمیں 20 ہزار بچا ، 20 ہزار میں سے 10 ہزار شوروم کے مالک نے رکھ لیا اور باقی 10 ہزار میں سے 5 ہزار میں نے رکھا اور 5 ہزار میں نے اپنے بڑے بھائی کو دیدیا، اس کے فوراً بعد شو روم والے مختلف لوگوں کے اور ہمارے بھی تین لاکھ میرے بھائی والے اور میرے اور بھی پیسے اور مختلف لوگوں کے ایک کروڑ سے زیادہ پیسے لیکر فراڈ کرکے بیرون ملک فرار ہوگئے اب میرے بڑے بھائی مجھ سے اصرار کر رہے ہیں کہ جی نہیں جو نقصان ہے وہ سارا تمہارے ذمہ ہوگا تین لاکھ جو ہے انہوں نے انویسٹ کیا تھا وہ کہتے ہیں اس میں سارا نقصان تم برداشت کرو گے میں نے کہا کہ نہیں میں کیسے برداشت کروں گا کیونکہ جب ہمارا پرافٹ (نفع) آدھا آدھا تھا تو نقصان بھی آدھا آدھا ہوگا یعنی میں تین میں سے پورا تین نہیں دوں گا یعنی آدھا نقصان میرا ہوگا اور آدھا میرے بڑے بھائی کا ہوگا۔ میری یہ رہنمائی کریں کہ میں جو کہہ رہا ہوں کہ آدھا نقصان میرا اور آدھا میرے بھائی کا ہوگا شریعت کے حساب سے کیا یہی بنتا ہے؟ بھائی ہونے کی وجہ سے ہمارے درمیان کوئی تحریری معاہدہ نہیں ہوا تھا لیکن زبانی یہی بات ہوئی تھی۔
فریق دوم (خالد) کا موقف
آج سے تقریباً 18 سال پہلے2005 میں ، میں اعتکاف میں بیٹھا تھا کہ میرے چھوٹے بھائی زید نے مجھ سے 3 لاکھ قرض لیا تھا بعد میں ایک لاکھ 20 ہزار روپے کی رقم میری بیٹی کی شادی کے موقع پر دیدی اور ایک لاکھ روپے والدہ محترمہ نے بھائیوں سے ایڈجسٹ کرواکر دلادی اب میرا ان کے ذمے 80 ہزار قرضہ اور 17 ہزار نقد کیش رہتا ہے۔
تنقیح:زید (فریق اول) نے فون پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس دوران خالد (فریق دوم) ایک مرتبہ نفع بھی لے چکے ہیں تو اگر یہ قرض ہی تھا تو انہوں نے نفع کیوں لیا؟
ہم نے قیصر صاحب سے پوچھا کہ جب یہ انویسٹمنٹ تھی اور آپ کے بقول ڈوب گئی تھی تو آپ نے خالد صاحب کو کچھ رقم واپس کیوں کی؟ اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ میں دباؤ میں آگیا تھا اور چونکہ میں آدھے نفع کے اور آدھے نقصان کا ذمہ دار تھا اس لیے آدھی انویسٹمنٹ تو میں نے واپس کرنی ہی تھی۔
جبکہ خالد (فریق دوم) نے زبانی بات (بذریعہ ٹیلی فون) میں بتایا کہ یہ نفع زید نے اصرار کے ساتھ بلکہ زبردستی دیا تھا اور میں نے اس کے لینے سے انکار کیا تھا لیکن یہ زبردستی پیسے دے گئے تھے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت قرض کی شمار نہ ہوگی بلکہ مضاربت (انویسٹمنٹ) کی شمار ہوگی، لہذا مذکورہ رقم کے ڈوبنے میں اگر زید کی کوتا ہی کا دخل ہے تو زید کے ذمے خالد کی کل رقم واپس کرنا لازم ہے اور اگر اس رقم کے ڈوبنے میں زید کی کوئی کوتاہی نہیں تھی تو پھر وہ خالد کی رقم کا ذمہ دار نہیں ہےبلکہ اس صورت میں جو رقم وہ دے چکا ہے اس کی واپسی کا بھی مطالبہ کرسکتا ہے۔
نوٹ: مذکورہ صورت میں زید کی کوتاہی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کرنا یہ مفتی حضرات کے بس کی بات نہیں ہے بلکہ اس کا فیصلہ متعلقہ سوجھ بوجھ والے غیر جانبدار تاجروں سے کروایا جائے گا۔
بدائع الصنائع(6/110) میں ہے:
ولو قال المضارب: دفعت إلي مضاربة وقال رب المال: أقرضتك فالقول قول المضارب؛ لأنهما اتفقا على أن الأخذ كان بإذن رب المال ورب المال يدعي على المضارب الضمان، وهو ينكر، فكان القول له.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved