- فتوی نمبر: 35-352
- تاریخ: 10 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز کو توڑنے والی چیزوں کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ تراویح میں امام سے سہواً ایسی غلطی ہوئی جس کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب ہو گیا، لیکن امام کو خود اس کا علم نہ تھا۔ مقتدیوں میں سے ایک مقتدی نے امام کو متنبہ کرنے کے لیے “سبحان اللہ” کہنے کے بجائے صرف یہ لفظ کہا “سجدہ سہو”امام نے مقتدی کی بات سن کر سجدۂ سہو ادا کر لیا ۔اب پوچھنا یہ ہے کہ مقتدی کا “سبحان اللہ”کے بجائے “سجدہ سہو” کہنے سے مقتدی کی نماز میں کوئی خلل اور فساد تو واقع نہیں ہوتا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مقتدی نے اگر مذکورہ جملہ بقدر تشہد بیٹھنے کے بعد کہا تو اس جملے کی وجہ سے اس کی نماز مکمل ہوگئی لیکن سلام چھوڑنے کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوئی جس کا لوٹانا ضروری ہے۔ اور اگر بقدر تشہد بیٹھنے سے پہلے کہا تو اس کی نماز فاسد ہوگئی ۔نیز اگر امام نے محض مقتدی کے کہنے پر عمل نہیں کیا بلکہ امام کو مقتدی کے لقمہ دینے کے بعد خود یاد آگیا اور اپنی یادداشت پر عمل کیا تو امام اور باقی مقتدیوں کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا لیکن اگر امام نے اپنی یاداشت کے بنیاد پر عمل نہیں کیا بلکہ محض مقتدی کےکہنے سے سجدہ سہو کیا تو امام اور باقی مقتدیوں کی نماز بھی مکروہ تحریمی ہوئی جس کا لوٹانا ضروری ہے۔
توجیہ :تکلم بکلام الناس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ۔مذکورہ صورت میں بھی چونکہ سجدہ سہو ایک فقہی اصطلاح ہے جو کلام الناس کی قبیل سے ہے اس لیے اگر مقتدی نے مذکورہ جملہ بقدر تشہد بیٹھنے کے بعد کہا ہو تو اس کی نماز مکمل ہوگئی کیونکہ نماز کے فرائض وارکان پورے ہوگئے لیکن چونکہ لفظ سلام کے ساتھ نماز سے نکلنا واجب ہے اس لیے اس واجب کے چھوٹنے کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوئی اور مکروہ تحریمی نماز کا لوٹانا ضروری ہے اور اگر بقدر تشہد بیٹھنے سے پہلے کہا ہو تو مقتدی کی نماز فاسد ہوگی کیونکہ قعدہ جو نماز کے فرائض میں سے ہے ادا نہیں ہوا۔نیز اگر امام اپنی یادداشت کی بنیاد پر سجدہ سہوکر لیتا ہے تو امام اور باقی مقتدیوں کی نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوا کیونکہ یہ تذکر ہے جوتعمیل لامر الشارع ہے جس سے نماز فاسد نہیں ہوتی لیکن اگر امام محض اس کے کہنے کی وجہ سے سجدہ سہو کر لیتا ہے اپنی یاداشت کی بنیاد پر نہیں کرتا تو وہ سجدہ سہو کرنے کی وجہ سے نماز سے نکل گیا کیونکہ جب لقمہ دینے والا مقتدی نماز سے نکل گیا تو امام نے غیر مقتدی کے لقمے پر عمل کیا جو تلقن من الخارج ہے اور تلقن من الخارج تعمیل لامر غیر الشارع ہے جس سے امام اور باقی مقتدی بھی نماز سے نکل جائیں گے لیکن چونکہ وہ بقدر تشہد بیٹھنے کے بعد نماز سے نکلے ہیں اس لیے نماز کے فرائض و ارکان پورے ہونے کی وجہ سے نماز مکمل ہو گئی صرف سلام چھوڑنے کی وجہ سے نماز مکروہ تحریمی ہوئی جس کا لوٹانا ضروری ہے ۔
شامی (2/170) میں ہے:
(قوله ومنها الخروج بصنعه إلخ) أي بصنع المصلي أي فعله الاختيار، بأي وجه كان من قول أو فعل ينافي الصلاة بعد تمامها كما في البحر؛ وذلك بأن يبني على صلاته صلاة ما فرضا أو نفلا، أو يضحك قهقهة، أو يحدث عمدا، أو يتكلم ………. قوله وإن كره تحريما فإنه لا يكره إلا فيما عدا السلام فافهم؛ واحترز بالمنافي عن نحو قراءة وتسبيح (قوله بعد تمامها) أي بعد قعوده الأخير قدر التشهد، وقيد به لأن إتيانه بالمنافي قبله يبطلها اتفاقا.
ہندیہ (1/209) میں ہے:
إذا تكلم في صلاته ناسيا أو عامدا خاطئا أو قاصدا قليلا أو كثيرا تكلم لإصلاح صلاته بأن قام الإمام في موضع القعود فقال له المقتدي اقعد أو قعد في موضع القيام فقال له قم أو لا لإصلاح صلاته ويكون الكلام من كلام الناس استقبل الصلاة عندنا. كذا في المحيط هذا إذا تكلم قبل أن يقعد قدر التشهد. هكذا في فتاوى قاضي خان
شامی (2/182) میں ہے:
وكذا كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها
(قوله وكذا كل صلاة إلخ) ……………. بقي هنا شيء، وهو أن صلاة الجماعة واجبة على الراجح في المذهب أو سنة مؤكدة في حكم الواجب كما في البحر وصرحوا بفسق تاركها وتعزيره، وأنه يأثم، ومقتضى هذا أنه لو صلى مفردا يؤمر بإعادتها بالجماعة، وهو مخالف لما صرحوا به في باب إدراك الفريضة من أنه لو صلى ثلاث ركعات من الظهر ثم أقيمت الجماعة يتم ويقتدي متطوعا، فإنه كالصريح في أنه ليس له إعادة الظهر بالجماعة مع أن صلاته منفردا مكروهة تحريما أو قريبة من التحريم، فيخالف تلك القاعدة، إلا أن يدعي تخصيصها بأن مرادهم بالواجب والسنة التي تعاد بتركه ما كان من ماهية الصلاة وأجزائها فلا يشمل الجماعة لأنها وصف لها خارج عن ماهيتها.
امدادالفتاوی جدیدمطول(2/425)میں ہے:
سوال( ۴۵۰): قدیم ۱/۵۳۴- صلوٰۃ مغرب میں امام نے سہواً دورکعت پر سلام پھیرا اور سلام ہی پھیرنے میں اس کو شبہ ہوا کہ شاید دو رکعتیں پڑھیں مگر عدم تیقن اور اس شبہ کی مرجوحیت کے باعث توجہ نہ کی سلام پھیرنے کے بعد مقتدی نے کہا “دورکعت ہوئیں “مقتدی کے اس قول سے اس کا شبہ راجح ہوااور امام فوراًکھڑا ہوگیا سب مقتدی بھی کھڑے ہوگئے اور تیسری رکعت پر سلام پھیر کر سجدہ سہو کرلیا نماز ہوئی یا نہیں؟اگرہوئی تو اس مقتدی متکلم کی بھی ہوئی یا نہیں؟………….. الخ
الجواب : اس قسم کی جزئیات میں فروع مختلف لکھی ہیں ۔ کما یظهر من مطالعة الدر المختار وردالمحتار صفحہ ۵۹۶و۶۵۰ و۶۷۳ ۔ لیکن اس باب میں طحطاوی نے خوب فیصلہ کیا ہے جس سے سب فروع بھی متفق ہوجاتی ہیں ۔ شامی نے صفحہ ۵۹۶میں اسطرح نقل کیا ہے ۔وقال لوقیل بالتفصیل بین کونه امتثل امرالشارع فلاتفسد وبین کونه امتثل أمرالداخل مراعاة لخاطره من غیر نظر لامر الشارع فتفسد لکان حسنا۔ پس جب امام کاشبہ راجح ہوگیا تو امر شارع کے سبب سے وہ کھڑاہوا ہے اس لیے اس کی اورمقتدیوں کی سب کی نماز ہوگئی بجز کلام کرنے والے مقتدی کے کہ اس کی نماز بوجہ کلام کے فاسد ہوگئی جیسا حنفیہ کا مذہب مشہور اور متون میں مذکور ہے ۔الخ
امدادالفتاوی جدیدمطول(2/430)میں ہے:
سوال:امام کے سہواً قعدہ پر مقتدی بجائے سبحان اللہ کے التحیات للہ کہے جو تعلیم ہے یا یوں کہے بیٹھ جاؤ نماز ہوگئی یا نہیں ؟
الجواب : سبحان اللہ اور التحیات دونوں جائز ہیں اور یہ تعلیم وتلقین التحیات کی نہیں ہے بلکہ تذکیر ہے البتہ یہ کہنا درست نہیں کہ” بیٹھ جاؤ ” اور اگریہ کلمہ کہدیا تو اس کی نماز تو فاسد ہوجاوے گی اورامام کی نماز میں جواب سوال سابق میں تفصیل آچکی ہے کہ امر شارع سمجھ کر عمل کیا تو مفسد صلوٰۃ نہیں اوراگرمحض اس کی خاطر سے اس کے کہنے پر عمل کرلیا تو مفسدصلوٰۃ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved