• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایام مخصوصہ والی عورت کا میت کو غسل دینا

استفتاء

ایام مخصوص والی عورت ایام مخصوصہ میں مردہ عورت کو غسل دے سکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

حیض یا نفاس والی عورت کے لیے میت کو غسل دینا مکروہ ہے، اس لیے میت کو غسل دینے کے لیے پاک عورت موجود ہو تو حیض یا نفاس والی عورت میت کو غسل نہ دے۔  ہاں اگر غسل دینے کے لیے حیض یا نفاس والی عورت کے علاوہ کوئی اور عورت نہ  ہو تو حیض یا نفاس والی عورت بھی  میت کو غسل دے سکتی ہے۔

فتاویٰ ہندیہ(337/1) میں ہے:

ولو كان الغاسل جنبا أو حائضا أو كافرا جاز ويكره كذا في معراج الدراية۔

فتاوی تاتارخانیہ (3/116) میں ہے:

وينبغي أن يكون غاسل الميت على الطهارة ، ويكره ان يكون جنبا او حائضا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved