- فتوی نمبر: 26-154
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم نے اپنی بہن کا خلع عدالت سے حاصل کیا ہے۔ عدالت سے خلع لینا ہماری مجبوری تھی کیونکہ ہماری بہن کئی سالوں سے مسلسل جسمانی اور روحانی بیمار ہے اور اولاد بھی نہیں ہوئی۔ شوہر کا رویہ بھی ناقابلِ برداشت ہو گیا اور انہوں نے اجازت لے کر دوسری شادی کر لی، اس کے بعد ان کا رویہ مزید برداشت سے باہر ہو گیا۔ اُن سے طلاق کا کہا گیا تو انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کی اسی ہٹ دھرمی کی وجہ سے ہم نے 15 ماہ بعد عدالت سے خلع حاصل کیا، جج صاحبہ نے دونوں میاں بیوی کو اپنے سامنے بٹھا کر سمجھانے اور معاملات حل کرنے کی کوشش بھی کی لیکن بہن علیحدگی پر بضد تھی چنانچہ عدالت نے دونوں میں علیحدگی/ خلع نامہ جاری کر دیا جس پر لڑکا اور لڑکی دونوں کے دستخط اور انگوٹھے ثبت ہیں اور تصاویر بھی موجود ہیں۔ میری بہن 2سال سے امی کے گھر پر ہیں اور ان دو سالوں میں ایک بار بھی لڑکے سے کسی بھی طرح کی ملاقات نہیں ہوئی۔ہماری مسجد کے پیش امام صاحب کہتے ہیں کہ یہ خلع جائز نہیں ہے۔ لڑکے نے دوسری شادی کی اجازت کے بدلے میں بہن کے نام پلاٹ کیا تھا، جس کے بارے میں آپ کے دار الافتاء سے فتوی نمبر 32/17 لیا تھا جس کی کاپی ساتھ لف ہے جس کے مطابق پلاٹ لڑکی کی ملکیت ہے۔ اب اگر یہ خلع نامہ ناجائز ثابت ہوتا ہے تو لڑکے کا یہ بیان ہے کہ وہ پلاٹ مجھے واپس کیا جائے تو میں طلاق دوں گا۔ ایک مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ خلع نامہ جائز نہیں ہے کیونکہ اس پر دو گواہوں کے دستخط موجود نہیں ہیں جبکہ جج صاحبہ اور وکیل کے دستخط اس پر موجود ہیں۔کیا مذکورہ صورت میں خلع درست ہو گیا ہے؟
بیوی(زینب ) کا بیان:
محترم! میں اس وقت بہت شدیدتکلیف میں ہوں، میری آنکھوں میں جالے بنتے ہیں۔ سانس بھاری ہوتا ہے۔اللہ کے فضل سے 14سالوں میں اللہ نے مجھ پر 21مرتبہ اپنی رحمت کی اور یہ سارے 21حمل ضائع ہوگئے۔ میں نے ان کو (زید ) کو منع کیا تھا کہ اس بات کا ذکر کسی سے نہ کرنا کہ میں 21مرتبہ بیمار ہوچکی ہوں کیونکہ مجھے اس کا اجر اللہ پاک عطا فرمائیں گے لیکن انہوں نے اپنے ابو کو بتا دیا، اُن کے ابو نے ان کے بھائی کو بتا دیا، پھر یہ بات ان کے منہ سے نکلی اور سارے محلے میں پھیل گئی، مجھے اس بات کا بہت دُکھ ہے، اللہ نے پردہ رکھنے کا حکم دیا ہے لیکن میرے شوہر نے اس بات کو پھیلا دیا۔ہر وقت دوسری شادی کی بات کرتے رہتے تھے کہ میں نے تمہارا بہت علاج کروایا ہے۔ اتنا تو کوئی بھی نہیں کرتا، لوگ تو دو، تین سال دیکھتے ہیں۔ اور دوسری شادی کر لیتے ہیں۔ اللہ نے چار شادیوں کی اجازت دی ہے میں تو سنت پوری کر رہا ہوں، اور کہتے ہیں کہ میں اپنی زندگی میں اپنا مال اپنے بھائیوں کو نہیں دوں گا۔
ایک بار میری بھانجی کے سُسر فوت ہوگئے تو میں نے ان کو کہا کہ آپ جنازے میں چلے جانا تو یہ چلے گئے۔ تب بھی میں حمل ضائع ہونے کی وجہ سے شدید تکلیف میں تھی اور ان کو یہ بات پتہ تھی۔ میں نے اللہ سے کہا کہ مجھے تھوڑی سی مہلت دے دیں کہ میں ان کے لیے روٹی پکا سکوں۔ اللہ نے فضل کیا تو میں روٹی پکا کر لیٹ گئی اور ان کو فون کیا لیکن انہوں نے فون نہیں اٹھایا اور گھر آگئے اور کہنے لگے ابھی تک دسترخوان نہیں لگایا؟ تو اس وقت میرے اوپر جو گزری وہ میرا ا للہ ہی جانتا ہے اور میں نے دسترخوان لگادیا اور ان سے کہا کہ آج ہی دیر ہوئی ہے حالانکہ ان کو میری تکلیف کا پتہ تھا۔ یہ سمجھتے ہیں کہ بیمار ہوگئی ہے اور پھر خود ہی ٹھیک ہوگئی ہے۔ جب یہ سال کے لیے جماعت میں گئے تو اپنے بھائی خالد کو کہا کہ ہر ہفتے 200روپے گھر دے دینا، لیکن اُس نے ہر ہفتے 200روپے نہیں دیئے۔ اور جب یہ سال کے بعد واپس آئے تو میں نے سارے سال کے روپے ان کے ہاتھ پر رکھ دیئے اور ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کیا کہ ان کو دُکان کا مال لانا تھا۔ جب یہ ہر سال چلے کے لیے جاتے ہیں تو کبھی 200روپے بھی دے کر نہیں گئے کہ پیچھے گھر میں راشن کے علاوہ بھی ضرورت پڑسکتی ہے کوئی دوا وغیرہ، کوئی پھل کے لیے، ایک بار تو یہ چلّے میں جاتے ہوئے صرف 90روپے دے کر گئے میں نے وہ بھی خرچ نہ کیے اور جب چلے سے واپس آئے تو میں نے 90 روپے واپس ہاتھ میں دے دیئے، چلّے میں جانے کے بعد گھر کے تمام بل میرے ابو دیا کرتے تھے اور یہ واپس آکر پوچھتے بھی نہیں تھے کہ بل کس نے جمع کروایا۔ اب ابو کے جانے کے بعد بھی جب یہ چلّے میں جاتے ہیں تو ان کا بھائی بل کے پیسے ایڈوانس میں لے لیتا ہے کہ پیچھے بل جمع کروانا ہے۔اس بار عید پر انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ تمہاری عیدی نہیں آئی ؟ تو میں نے کہا کہ جس کا گھر برباد ہوجائے اس کی کوئی عید نہیں ہوتی۔ عید کے دن میرے بھائی بہن مجھے عید ی دے گئے جو میں نے امی کو واپس دے دی۔ انہوں نے عید کے تیسرے دن پھر مجھ سے عیدی کا پوچھا میں نے ان کو پھر وہی جواب دیا تو کہنے لگے کہ سامان میں لاؤں اور عیدی تو جمع کرے۔
جس دن میرے ابو فوت ہوئے اُس سے اگلے دن ہی یہ میرے ابو کے گھر میں سیڑھیوں پر کھڑے ہو کر میری بھانجی، بہن اور پھوپھو کی بیٹیوں سے دوسری شادی کی بات کررہے تھے، کیا یہ وقت اس بات کے کرنے کا تھا؟ پھر کچھ دنوں کے بعد میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ اب تمہارے ابو نہیں رہے۔ اب پہلے والی موج نہیں رہی، 2روٹی کھاؤ اور آرام سے پڑی رہو۔ ہر وقت باتیں سناتے ہیں۔ آخر کب تک؟ میں بھی انسان ہوں، ان کی باتیں سنوں اور تکلیف بھی برداشت کروں؟ مجھے کسی وقت بھی سکون نہیں ہے۔ پچھلے چلّے میں ان کے جانے سے 2دن پہلے حمل ضائع ہوا تھا۔ مجھے چکر آرہے تھے۔ شدید تکلیف تھی اور اگلے دن انہوں نے سامان پیک کروانے میں مجھے اپنے ساتھ لگایا جبکہ کپڑے میں نے استری کرکے رکھ دیئے تھے اور چلّے کا سارا سامان نکال کر رکھا ہوا تھا کہ ان کو سامان پیک کرنے میں آسانی ہو۔ ان کو یہ احساس ہے کہ میں انسان ہوں، میرے ابو کے فوت ہوجانے کے بعد ان کی باتیں مزید بڑھنے لگیں جو میری برداشت سے باہر ہوگئیں۔ زمین وُسعت کے باوجود تنگ محسوس ہونے لگی۔ یہ مجھ سے کہتے ہیں کہ میرا کیا قصور ہے کہ 14سال گزر چکے ہیں مجھے اپنے سامنے کچھ نظر نہیں آرہا، اور میں کہاں جاؤں؟ خلع کی بات میں نے یوں کی کہ میں اتنی شدید تکلیف میں ہوں اور ان کے طعنے، باتیں میری برداشت سے باہر ہوتے جارہے تھے۔ ان کی باتیں، غصے، حمل کے ضائع ہونے کی تکلیف، کٹ اور چبھن سے بھی زیادہ تکلیف پہنچاتی ہیں۔پھر میرے بھائیوں اور ماں نے میرے سُسر سے بات کی کیونکہ میں نے کہا کہ اگر یہ دوسری شادی کرتے ہیں تو میں ان کے ساتھ نہیں رہوں گی۔ اور میں ان کو بھی یہ کہتی تھی۔ میرے سُسر نے میرے بھائیوں سے کہا کہ تم اس کو 4ماہ کے لئے لے جاؤ ۔ میرے سُسر نے مجھ سے آکر پوچھا کہ کیا تم نے خلع کی بات کی ہے؟ تو میں نے اُن کو کہا کہ میں نے بہت سوچا کہ میں یہاں رہ کر کیا کروں گی؟ میں ٹھیک نہیں ہو رہی، ابھی تو میں اپنے کام خود کر سکتی ہوں ایسا نہ ہوجائے کہ میں بستر سے لگ جاؤں اور کوئی مجھے پانی پلانے والا بھی نہ ہو۔ یہ تو دوسری شادی کر لیں گے۔ لیکن میرے سُسر نے کہا کہ 4ماہ کے لئے چلی جاؤ، میں دیکھوں گا کہ یہ دوسری شادی کیسے کرتا ہے؟ اور 2ماہ نہیں ٹھہرے کہ اپنے بیٹے کی منگنی کروادی۔ ان کے ابو آکر بتائیں تو سہی کہ یہ میرے مرحوم بھائی کی یتیم بیٹی ہے کہ میں نے اس کے ساتھ کیا کیا؟
2دن بعد انہوں نے مجھے فون کیا کہ پلاٹ کی فائل کہاں ہے قسط جمع کروانی ہے۔ لیکن میری طبیعت کا نہ پوچھا۔ اُس رات یعنی جمعرات کی رات سُسر نے ان سے پوچھا کہ تمہاری بیوی چلی گئی تو یہ کہنے لگے کہ ابو مجھے تو پتہ نہیں میں تو دُکان پر بیٹھا ہوا ہوں،حالانکہ ان باپ بیٹے دونوں کو علم تھا ان لوگوں نے سب میں مجھے بدنام کر دیا کہ ہمیں نہیں پتا کہ کب گئی ہے اور ہمیں بتا کر نہیں گئی۔ ان کے ابو نے ان سے پوچھا کہ کیا لے کر گئی ہے؟ جبکہ میں صرف اپنے روزمرہ کے استعمال کے کپڑے لے کر آئی تھی۔انہوں نے لوگوں سے کہا کہ خلع مانگ رہی ہے، میں نے اس کا بہت علاج کروایا ہے 14سال ہوچکے ہیں۔ لیکن کسی کو یہ اپنے اخلاق کے بارے میں بھی تو بتائے کہ میرا اخلاق کتنا گر گیا تھا۔ پھر 2ماہ بعد خاندان کے بڑے جمع ہوئے اور انہوں نے ان کو کہا کہ ابھی 1سال اور انتظار کرلو۔ انہوں نے کہا کہ میں 1سال اور انتظار نہیں کر سکتا کیونکہ 1سال بعد میری صحت ایسی نہیں رہے گی، بڑوں نے کہا کہ 1سال اس کا علاج کروالو۔ ان کے بھائی بكر نے علاج کی حامی بھری۔ پھر یہ مجھے اپنے گھر لے آئے اور 2دن نہیں گزرے پھر وہی باتیں اور طعنے شروع ہوگئے کہ تو لینے کیا آئی ہے؟ اور علاج کروانے کی کوئی بات نہ کی۔ بكر نے کوئی دَم نہیں کیا۔ ایک کالی مرغی گھر میں رات بھر رکھی اور صبح اس کو اوپر سے وار کر ذبح کرکے مدرسے میں دینے کو کہا تقریباً آدھا گھنٹہ مجھے آرام رہا پھر اس کے بعد وہی حالت ہوگئی۔ پھر فون پر چچا کو طبیعت بتائی کہ کوئی آرام نہیں آیا۔ پھر کافی دنوں بعد بكر نے ان سےطبیعت کا پوچھا، انہوں نے بتایا کہ کوئی فرق نہیں پڑا۔علاج کیا ہوتا میرا، وہاں تو دوسری شادی کی باتیں چل نکلیں۔ نہ ان کے ابو نے ان کو سمجھایا کہ 1سال انتظار کر لو اور نہ ان کے بھائی بكر نے۔ میں *** ہسپتال سے علاج کروانا چاہتی ہوں، انہوں نے مجھے ڈاکٹر کی فیس کے 2000روپے نہیں دیئے جبکہ دوسری طرف 5کلو مٹھائی لے کر گئے اور ہزار روپے کی مٹھائی یہاں بانٹی گئی لیکن مجھے ڈاکٹر کی فیس نہیں دی گئی۔میں نے ابو کا دیا ہوا لاکٹ سیٹ جو کہ تقریباً سوا تولے کا تھا اپنے ابو کو دیا کہ فریج لے کر دو۔ میرے ابو ان کو اور مجھے ساتھ لے کر گئے اور میری پسند کا فریج لے کر دیا۔ میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ لاکٹ سیٹ ابو کو دے دیا ہے جب آپ مجھے روپے دو گے تو میں اپنا لاکٹ سیٹ بنوالوں گی تو انہوں نے کہا کہ ٹھیک ہے۔
ان کی آمدنی اتنی نہیں کہ یہ دو بیویوں کا خرچہ اُٹھا سکیں میں یہ بات ان کو کہتی تھی لیکن انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ میرے سُسر نے یہ بھی کہا کہ ہم نے اس کو 14سال سے رکھا ہوا ہے آپ ان سے یہ پوچھیں کہ میں نے اتنی سخت تکلیف میں بھی ان کو پکا کر کھلایا، کپڑے دھوئے، استری کیے یہ اپنوں کا حال ہے۔ ان کے سالے واجد نے ان کو بتایا کہ میری ماں کہتی ہے کہ زید تو سارا دن دُکان پر ہوگا تو اس کی بیوی ہماری بیٹی کو جان سے مار دے گی۔ انہوں نے مجھ سے یہ بھی کہا کہ اُن کے گھر خط آیا ہے کہ وہ چھ کے چھ بھائیوں کو لٹکا دیں گے۔ پھر میری ماں پر یہ الزام لگا یا کہ میری ماں اور خالہ اور بھابھی نے وہاں جا کر بھانجی کو مارنے کی کوشش کی ہے۔اب آپ لوگ بتائیں کہ ان حالات میں میرا وہاں جانا بنتا ہے؟ میری جسمانی حالت ٹھیک نہیں ہے۔ جسم میں کٹ لگتے ہیں۔ مُسلسل چُبھن ہوتی ہے۔ جسم ٹوٹتا ہے۔ لہٰذا مجھے اپنا جسمانی علاج بھی کروانا ہے اور روحانی بھی۔جب میں اپنی امی کے گھر آئی تھی تو میرے دانتوں کا علاج شروع ہوا تو انہوں نے 5000 ، 2بار دیئے تھے جبکہ علاج پر 35000سے زیادہ خرچ ہوئے۔ محترم! آپ نے یہ بات پوچھی ہے تو میں بتارہی ہوں ان کی بہنوں نے میرے پاس اپنے پیسے امانت کے طور پر رکھوائے ہوئے تھے تو انہوں نے مجھ سےکہا کہ مجھے ان کے پیسوں میں سے کچھ پیسے دے دو مجھے ضرورت ہے، میں نے دینے سے انکار کر دیا تو انہوں نے مجھے تھپڑ مار ا تھا۔
شوہر کا بیان:
شوہر سے دارالافتاء کے نمبر سے رابطہ کیا گیا تھا تو شوہر نے مندرجہ ذیل بیان دیا ہے:
میری بیوی بلا وجہ خلع لینے پر بضد ہے، میں اس کے تمام حقوق ادا کرتا تھا، خرچہ بھی دیتا تھا اور دوسری شادی بھی اس کی اجازت سے کی تھی، میں نہ تو طلاق دینا چاہتا ہوں اور نہ خلع کرنا چاہتا ہوں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
شرعی طور پر بیوی کو روٹی، کپڑا اور رہائش کا مکان دینا شوہر کے ذمے ہے ، مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر اپنی ذمہ داریاں پوری کرتا ہے، لہذا مذکورہ صورت میں عدالت سے خلع لینے کے باوجود شرعا نکاح ختم نہیں ہوا ۔
توجیہ: شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالتی خلع شرعا اس وقت درست ہوتا ہے جب فسخ نکاح کی شرعا قابل اعتبار بنیادیں پائی جا رہی ہوں اور مذکورہ صورت میں شریعت کی نظر میں فسخ نکاح کی کوئی بنیاد نہیں پائی جارہی، لہذاشرعا نکاح ختم نہیں ہوا۔ نیز بیوی کے بیان میں اگرچہ لکھا ہوا ہے کہ شوہرنے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے ہیں لیکن شوہر نے صلح پر رضامندی کے لئے دستخط کیے ہیں، خلع پر رضامندی کے لئے دستخط نہیں کیے ۔
بدائع الصنائع(229/3)میں ہے:
واما ركنه فهو الايجاب والقبول لانه عقد علي الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة ولا يستحق العوض بدون القبول۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved