- فتوی نمبر: 26-155
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
میں شادی شدہ ہوں، میں نے ایک اکیڈمی میں پڑھانا چاہا تو انہوں نے دو صفحوں پر میرے دستخط کروائے تھے جن میں شرائط لکھی تھیں اور ان شرائط میں کسی طالب علم سے ذاتی طور پر رابطہ کرنے سے منع کیا گیا تھا، میں نے پڑھ کر دستخط کردئیے لیکن اب میں نے وہ اکیڈمی چھوڑ دی ہے تو کیا میں اگر کسی سٹوڈنٹ سے رابطہ کروں تو طلاق ہوجائے گی یا رابطہ کرنے کی کوئی گنجائش ہے؟ دونوں صفحات کی کاپی ساتھ لف ہے۔
پہلے صفحے کی عبارت:
“میں قسم کھاتا ہوں کہ میں پڑھانے کے دوران یا چھوڑنے کے بعد سٹوڈنس سے رابطہ نہیں کروں گا خواہ وہ رابطہ کسی بھی طرح سے ہو، نہ میں خود رابطہ کروں گا اور نہ میں خود کسی عزیز دوست کے ذریعے کروں گا اور اگر ایسا کیا تو مجھے تین طلاق ہے یعنی مجھ پر میری بیوی طلاق ہے، ایسی صورت میں میں نکاحِ فضولی بھی نہیں کرسکتا۔(دستخط) …………………
دوسرے صفحے کی عبارت:
اکیڈمی کا عہد نامہ:
1- میں اکیڈمی سے باہر کسی بھی طالبعلم سے ذاتی طور پر بات نہیں کروں گا۔
2- اور میں کسی بھی قسم کا فون نمبر، واٹس ایپ نمبر، ٹویٹر، فیس بک یا کسی بھی قسم کا نمبر نہیں لوں گا۔
3- میں اکیڈمی کے contact نمبر چاہے وہ سکائپ اکاؤنٹ نمبر یا کوئی اور میں کسی دوست یا کسی بھی قسم کے رشتہ دار کو نہیں دوں گا۔
4-۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
5- میں کسی بھی وقت اکیڈمی کے طالب علم، نئے آنے والے طالب علموں سے نہ ذاتی طور پر اکیڈمی سے باہر بات کروں گا اور نہ کسی دوست، رشتہ دار وغیرہ سے کرواؤں گا اور نہ اکیڈمی کے اندر ذاتی طور پر بات کروں گا اور میں سٹوڈنٹ سے یا ان کے والدین، رشتہ داروں سے کسی بھی قسم کا contact نمبر نہیں لوں گا۔
6- میں کسی بھی طرح اکیڈمی کے طالب علم یا ان کے والدین سے کلما کے بارے میں بحث نہیں کروں گا اور میں کسی بھی طالب علم یا سٹوڈنٹ کو اپنا یا کسی رشتہ دار کا نمبر نہیں دوں گا۔
7- یعنی میں کلما کے ساتھ طلاق دیتا ہوں کہ میں ان میں سے کسی بھی شرط کی خلاف ورزی نہیں کروں گا اور مجھے یہ سارے شرائط منظور ہیں اور نہ میں اکیڈمی کے لئے آنے والے ہر طالب علم کو ذاتی طور پر اپنی ملکیت بنا کر پڑھاؤں گا۔
نوٹ: میں نے یہ شرائط بغور پڑھی ہیں اور میں ان شرائط کا پابند ہوں گا، اگر میں ان میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کروں گا تو مجھے کلما طلاق ہے۔ كلما تزوجت فهى طالق، جب جب میں شادی کروں تو میری بیوی طلاق۔
نام: …………………
شناختی کارڈ نمبر: ………………………………………………………………………
دستخط: ………………………
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ جب بھی ان طالب علموں سے رابطہ کریں گے تو آپ کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی جس کی وجہ سے آپ کی بیوی آپ پر حرام ہو جائے گی اور رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
نوٹ: مذکورہ جواب اس بنیاد پر ہے کہ اکیڈمی والوں نے سائل سے مذکورہ تحریر پر دستخط کروائے اور سائل نے بغیر کسی جبر واکراہ کے اس تحریر پر دستخط کردئیے، باقی رہی یہ بات کہ اکیڈمی والوں کو ایسی طلاق والی تحریر پر دستخط کروانے جائز ہیں یا ناجائز؟ نیز دستخط کرنے والے کو دستخط کرنے چاہئیں یا نہ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ اکیڈمی والوں کا اپنے عملے سے اس طرح کی طلاق کی تحریر پر دستخط لینا جائز نہیں، اور متعلقہ شخص کو بھی اس طرح کے معاہدے پر دستخط نہ کرنے چاہئیں تاکہ آئندہ کوئی ایسی مشکل پیش نہ آئے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں جب شوہر نے اکیڈمی کے اس شرائط نامہ پر اپنی رضامندی سے پڑھ کر دستخط کیے ہیں تو یہ شوہرکی طرف سے طلاق کو ان شرائط کے ساتھ معلق کرنا ہے، لہذا جب شوہرنے پہلے صفحے پر دستخط کیے تو پہلے صفحے کی اس عبارت سے کہ”میں قسم کھاتا ہوں کہ میں پڑھانے کے دوران یا چھوڑنے کے بعد سٹوڈنس سے رابطہ نہیں کروں گا خواہ وہ رابطہ کسی بھی طرح سے ہو، نہ میں خود رابطہ کروں گا اور نہ میں خود کسی عزیز دوست کے ذریعے کروں گا اور اگر ایسا کیا تو مجھے تین طلاق ہے یعنی مجھ پر میری بیوی طلاق ہے” طالب علم کے ساتھ رابطہ کرنے پر تینوں طلاقیں معلق ہوگئیں، کیونکہ ” مجھ پر میری بیوی طلا ق ہے” پہلے جملے کی تشریح ہے لہذا اگرچہ اس میں ایک طلاق مذکور ہے لیکن سابقہ جملے کی تشریح ہونے کی وجہ سے شوہر اگر سٹوڈنٹ سے رابطہ کرے گا تو اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور چونکہ شوہر نے دوسرے صفحے پر بھی دستخط کیے ہیں جس میں یہ عبارت مذکور ہے کہ” اگر میں ان میں سے کسی ایک شرط کی خلاف ورزی کروں تو مجھے کلما طلاق ہے۔ کلما تزوجت فھی طالق، جب جب میں شادی کروں تو میری بیوی طلاق” لہذا اگر شوہر ان ذکر کردہ شرائط میں سے کسی کی خلاف ورزی کرے گا تو اس کے بعد جب بھی نکاح کرے گا تو اس کی بیوی کو ایک بائنہ طلاق ہوجائے گی کیونکہ اولا تو “کلما تزوجت فھی طالق ” جملہ مذکور ہے اور اگر دستخط کرنے والے کو اس کا مطلب معلوم نہ بھی ہو تو چونکہ اردو کا جملہ” جب جب میں شادی کروں تو میری بیوی طلاق ” کلما کے معنی میں ہے، لہذا کلما والا حکم جاری ہوگا اور پہلے صفحے میں یہ عبارت کہ”ایسی صورت میں نکاحِ فضولی بھی نہیں کرسکتا” یہ لغو ہے، کیونکہ یہ جملہ طلا ق کے لئے موضوع نہیں، نہ صراحتا نہ کنایۃ نہ تنجیزا نہ تعلیقا ۔
عالمگیری(1/420)میں ہے:
وإذا أضافه الى الشرط وقع عقيب الشرط إتفاقا مثل أن يقول لإمرأته إن دخلت الدار فأنت طالق.
عالمگیری(1/415)میں ہے:
ألفاظ الشرط إن وإذا وإذاما وكل وكلما ومتى ومتى ما ففي هذه الألفاظ إذا وجد الشرط إنحلت اليمين وإنتهت لأنها لا تقتضي العموم والتكرار فبوجود الفعل مرة تم الشرط وإنحلت اليمين فلا يتحقق الحنث بعده إلا في كلما لانها توجب عموم الافعال فاذا كان الجزاء الطلاق والشرط بكلمة كلما يتكرر الطلاق بتكرر الحنث حتي يستوفي طلاق الملك الذي حلف عليه فان تزوجها بعد زوج آخر وتكرر الشرط لم يحنث عندنا كذا في الكافي، ولو دخلت كلمة كلما علي نفس التزوج بان قال كلما تزوجت امراة فهي طالق او كلما تزوجتك فانت طالق يحنث بكل مرة وان كان بعد زوج آخر هكذا في غاية السروجي.
فتح القدیر(182/7)میں ہے:
قال (ولا يستحلف بالطلاق ولا بالعتاق) لما روينا، وقيل في زماننا إذا ألح الخصم ساغ للقاضي أن يحلف بذلك لقلة المبالاة باليمين بالله وكثرة الامتناع بسبب الحلف بالطلاق.
(قال) أي القدوري في مختصره (ولا يستحلف بالطلاق ولا بالعتاق لما روينا) وهو قوله – عليه الصلاة والسلام – «من كان حالفا فليحلف بالله أو ليذر» (وقيل في زماننا إذا ألح الخصم ساغ للقاضي أن يحلف بذلك) أي بالطلاق أو بالعتاق (لقلة المبالاة باليمين بالله وكثرة الامتناع بسبب الحلف بالطلاق) أقول: يرد عليه أن هذا تعليل في مقابلة النص وهو قوله – عليه الصلاة والسلام – «من كان حالفا فليحلف بالله أو ليذر» فلا يصح على ما عرف في موضعه. وفي فتاوى قاضي خان: وإن أراد المدعي تحليفه بالطلاق والعتاق في ظاهر الرواية لا يجيبه القاضي إلى ذلك لأن التحليف بالطلاق والعتاق ونحو ذلك حرام. وبعضهم جوزوا ذلك في زماننا، والصحيح ظاهر الرواية انتهى. وفي الذخيرة: التحليف بالطلاق والعتاق والأيمان المغلظة لم يجوزه أكثر مشايخنا وأجازه البعض، فيفتى بأنه يجوز إن مسته الضرورة، وإذا بالغ المستفتي في الفتوى يفتي بأن الرأي إلى القاضي انتهى.
وفي فصول الأستروشني: ولو حلف القاضي بالطلاق فنكل لا يقضي عليه بالنكول لأنه نكل عما هو منهي عنه شرعا انتهى. وفي الخلاصة: التحليف بالطلاق والعتاق والأيمان المغلظة لا يجوزه أكثر مشايخنا فإن مست الضرورة يفتى بأن الرأي إلى القاضي، فلو حلف القاضي بالطلاق فنكل وقضى بالمال لا ينفذ قضاؤه انتهى. أقول: قد تلخص من هذه المذكورات كلها أن للقاضي أن يحلف بالطلاق والعتاق عند إلحاح الخصم، وأن يفتي بجواز ذلك إن مسته الضرورة، ولكن ليس له أن يقضي بالنكول عنه، وإن قضى به لا ينفذ قضاؤه وعن هذا قال صاحب العناية: ولكنهم قالوا: إن نكل عن اليمين به لا يقضي عليه بالنكول لأنه نكل عما هو منهي عنه شرعا، ولو قضى به لا ينفذ قضاؤه انتهى
بدائع الصنائع(295/3)میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلى هو زوال الملك وزوال حل المحلية حتى لايجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عزوجل [فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره] سواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
کفایت المفتی(6/234)میں ہے:
“۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کلما کا مطلب یا تو تکرار لفظ “جب” سے پیدا ہوگا مثلا یوں کہے “جب جب میں نکاح کروں” یا لفظ “بھی” لانے سے مثلا یوں کہے “جب بھی نکاح کروں” اور ان دونوں صورتوں میں مخلصی کی صورت یہ ہے کہ خود نکاح نہ کرے بلکہ کوئی فضولی اس کے امر اور اجازت کے بغیر اس کا نکاح کردے اور یہ اجازت بالقول نہ دے بلکہ اجازت بالفعل دے مثلا مہر ادا کردے یا منکوحہ سے وطی کرلے تو طلاق نہیں پڑے گی۔”
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved