- فتوی نمبر: 26-158
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے عدالت سے خلع کی ڈگری لی ہے اس کی وجہ یہ تھی کہ میرے شوہراپنی کوئی ذمہ داری پوری نہیں کرتے تھے، کام بھی نہیں کرتے تھے، جب تک میں ان کے ساتھ رہی گھر کا خرچہ میں نے خود کیا یا میرے امی ابو نے کیا وہ ایک روپیہ بھی نہیں دیتے تھے، میں بہت بیمار ہو گئی تھی تو میری دوائی وغیرہ بھی نہیں لینے جاتے تھے، میرا بھائی مجھے اپنے گھر لے آیا، پھر ان کو بلایا تو وہ آئے اور مجھے لے گئے، دو مہینے میرے ساتھ رہے پھر مجھے چھوڑ کر سکھر چلے گئے، اب ان کو سکھر گئے ایک سال ہوگیا ہے میں آنے کا بولتی بھی ہوں تو نہیں آتے، اور کماتے بھی ہیں لیکن کوئی خرچہ نہیں بھیجتے، میں نے خرچہ معاف نہیں کیا تھا، شک بھی بہت کرتے ہیں، مجھ پر ہاتھ بھی اٹھاتے ہیں، جب میں والدین کے گھر آ گئی تو اس کے بعد انہوں نے میرا سامان بیچ دیا، جب میں نے پوچھا تو کہا کہ گروی رکھوایا ہے، روزانہ مجھے طلاق کی دھمکیاں دیتے تھے، جب میں نے ان کے خرچہ نہ دینے کی وجہ سے خلع کی درخواست دائرکی تو ان کو نوٹس پہنچے لیکن وہ عدالت نہیں آئے اور سائن نہیں کیے، عدالت نے 19-04-2021 کو عدالت نے میرے حق میں فیصلہ جاری کر دیا، اور عدت گزرنے تک بھی وہ خرچہ دینے پر رضامند نہیں ہوئے، اب کہتے ہیں کہ میں تمہیں نہیں چھوڑوں گا۔ کیا مذکورہ صورت میں عدالتی خلع شرعا معتبر ہے اور مجھے طلاق ہو گئی ہے؟ کیا میں کہیں اور نکاح کر سکتی ہوں؟
شوہر کا بیان:
شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے یہ بیان دیا کہ ’’یہ بات درست ہے کہ جب میں سکھر میں تھا تو خرچہ نہیں بھیجتا تھا، مجھے عدالت کی طرف سے نوٹس موصول ہوا تھا لیکن میں چونکہ خلع کے لیے راضی نہیں تھا اس لیے میں عدالت نہیں گیا، اب میں اپنی بیوی کو رکھنا چاہتا ہوں‘‘
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں چونکہ (1) شوہر نان نفقہ نہیں دیتا تھا اور (2) بیوی نے اپنا نان نفقہ معاف بھی نہیں کیا تھا اور (3) تنسیخ نکاح کی درخواست بھی اس وجہ سے دی تھی کہ اس کا شوہر اسے نان نفقہ نہیں دیتا اور (4) عدالت کے نوٹس بھیجنے کے باوجود بھی شوہر عدالت میں حاضر نہیں ہوا اور (5) عدالت نے شوہر کے خرچہ نہ دینے کی بنیاد پر بیوی کے حق میں خلع کی ڈگری جاری کر دی، (6) بیوی کی عدت گزرنے تک شوہر نان نفقہ دینے پر آمادہ نہیں ہوا لہذا عدالت کا فیصلہ بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق شمار ہو گا، جس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے اور بیوی کہیں اور نکاح کرنا چاہے تو کر سکتی ہے۔کیونکہ مذکورہ صورت میں اگرچہ عدالت نے خلع کا طریقہ اختیار کیا ہے اور یکطرفہ خلع شرعا معتبر نہیں ہوتا مگر چونکہ مذکورہ صورت میں فسخ نکاح کی معتبر بنیاد موجود ہے یعنی شوہر کا تعنت ( استطاعت کے باوجود نان نفقہ ادا نہ کرنا) پایا جا رہا ہے لہذا خلع شرعا مؤثر ہے۔
فتاوی عثمانی(2/462) میں ہے:
(1) اگر کوئی شوہر ایسا ہو جو باوجود استطاعت کے اپنی بیوی کو نان و نفقہ نہیں دیتا اور عورت کے پاس نان و نفقہ کا کوئی انتظام نہ ہو اور شوہر طلاق یا خلع کے لئے بھی تیار نہ ہو تو ایسی صورت میں وہ مالکی مذہب کے مطابق اس شوہر سے عدالت کے ذریعے خلاصی حاصل کر سکتی ہے۔
(2)خلاصی حاصل کرنے کے لئے عورت اپنا مقدمہ کسی مسلمان جج کی عدالت میں پیش کرے اور یہ ثابت کرے کہ وہ فلاں کی بیوی ہے اور وہ باوجود استطاعت کے اس کو نان و نفقہ نہیں دیتا اور نہ اس کے پاس نان و نفقہ کا کوئی انتظام ہےجس سے اس کو سخت ضر ر لاحق ہے اور وہ اس وجہ سے اس کی زوجیت سے نکلنا چاہتی ہے۔
(3) عورت “فلاں” کے ساتھ نکاح اور اس کا مذکورہ رویہ گواہوں سے ثابت کرے اور اگر اس کے پاس گواہ نہ ہوں یا گواہ ہوں لیکن اس نے پیش نہ کئے تو اگر شوہر عدالت میں حاضر ہو تو اس سے قسم لی جائے گی، اگر اس نے قسم کھانے سے انکار کیا تو یہ سمجھا جائے گا کہ عورت کا دعوی درست ہے، اب جج شوہر سے کہے کہ اپنی بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق/خلع دو ورنہ ہم تفریق کر دیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ ظالم کسی صورت پر عمل نہ کرے تو قاضی کوئی مہلت دیئے بغیر اسی وقت بیوی پر طلاق واقع کر دے۔
(4) لیکن شوہر یا اس کا وکیل عدالت میں حاضر نہ ہو، جیسا کہ آج کل عموما ایسا ہی ہے، اور عدالت کے بار بار نوٹس اور سمن جاری کرنے اور شوہر کے نوٹس اور سمن کے بارے میں مطلع ہونے کے باوجود شوہر عدالت حاضر نہ ہوتا ہو تو اگر بیوی کے پاس گواہ موجود ہوں اور وہ پیش بھی کرے تو جج ان کی گواہی کی بنیاد پر بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے،اور اگر عورت کے پاس گواہ موجود نہ ہوں، یا ہوں لیکن وہ پیش نہ کرے تو شوہر کا بار بار بلانے کے باوجود عدالت میں حاضر نہ ہونا اس کی طرف سے قسم سے انکار (نکول) سمجھا جائے گا اور اس کی بنیاد پر عدالت شوہر غائب کے خلاف اور بیوی کے حق میں فسخ نکاح کا فیصلہ جاری کرے گی۔۔۔۔۔۔۔الخ
(5) بیوی کے لئے ضروری ہے کہ وہ درخواست برائے فسخ نکاح نان و نفقہ نہ دینے کی بنیاد پر دے ، اور جج اپنے فیصلے میں بھی اسی کو بنیاد بنائے،خلع کا طریقہ کار ہرگز اختیار نہ کرے،اس لئے کہ یکطرفہ خلع شرعا کسی کے نزدیک بھی جائز اور معتبر نہیں، تاہم اگر کسی فیصلے میں بنیاد فیصلہ فی الجملہ صحیح ہو یعنی شوہر کا “تعنت”ثابت ہو رہا ہو البتہ عدالت نے فسخ کے بجائے خلع کا راستہ اختیار کیا ہو اور خلع کا لفظ استعمال کیا ہو تو ایسی صورت میں خلع کے طور پر تو یکطرفہ فیصلہ درست نہ ہو گا تاہم فسخ نکاح کی شرعی بنیاد پائے جانے کی وجہ سے اس فیصلے کو معتبر قرار دیں گے اور یہ سمجھا جائے گا کہ اس فیصلے کی بنیاد پر نکاح فسخ ہو گیا ہے اور عورت عدت طلاق گزار کر کسی دوسری جگہ اگر چاہے تو نکاح کر سکتی ہے بشرطیکہ یہ فیصلہ مذکورہ بالا شرائط اور طریقہ کار کے مطابق ہو۔
حیلہ ناجزہ (ص:73 طبع دارالاشاعت) میں ہے:
متعنت اگر اپنی حرکت سے اس وقت باز نہ آئے جب کہ حاکم اس کی زوجہ پر طلاق واقع کر چکے اور عدت بھی گزر چکے تو اب اس کا کوئی اختیار زوجہ پر نہیں رہتا ( کیونکہ عدت گزرنے کے بعد رجوع کا حق نہیں رہتا گو طلاق رجعی ہی البتہ تراضی طرفین سے نکاح ہو سکتا ہے) اور اگر انقضائے عدت سے پہلے پہلے اپنی حرکت سے باز آجائے اور نفقہ دینے پر آمادہ ہوجائے تو اس بارے میں مالکیہ کے مذہب میں صریح روایت نہیں، اس لیے ارباب فتوی کے نزدیک دو احتمال ہیں: ایک یہ کہ اس تفریق کو طلاق رجعی قرار دیا جائے اور عدت کے اندر اندر رجعت کو صحیح کہا جائے، دوسرا یہ کہ طلاق بائنہ قرار دی جائے اور رجعت کا حق خاوند کو نہ دیا جائے لیکن علامہ صالح نے احتمال اول کو اقرب لکھا ہے (كما فى الرواية الرابعة عشر مع التنبيه و التلخيص من الفتوى الثانية للعلامة الصالح) اور ہم کو بھی علامہ صالح کی رائے ان کے فتوی میں غور کرنے کے بعد درست معلوم ہوتی ہے، اس واسطے ہمارے نزدیک فتوی یہی ہے کہ عدت کے اندر اندر تعنت سے باز آ جانے کی صورت میں عورت کو اسی کے پاس رہنا پڑے گا خواہ عورت راضی ہو یا نہ ہو، کیونکہ رجعت میں عورت کی رضامندی ضروری نہیں مگر احتیاطا تجدید نکاح ہو جائے تو بہتر ہے (فقط والله اعلم بالصواب و اليه المرجع و الماب)
حیلہ ناجزہ (ص:72 طبع دارالاشاعت) میں ہے:
زوجہ متعنت (جو باوجود قدرت کے حقوق نان نفقہ وغیرہ ادا نہ کرے) کو اول تو لازم ہے کہ کسی طرح خاوند سے خلع وغیرہ کر لے لیکن اگر باوجود سعی بلیغ کے کوئی صورت نہ بن سکے تو سخت مجبوری کی حالت میں مذہب مالکیہ پر عمل کرنے کی گنجائش ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور سخت مجبوری کی دو صورتیں ہیں: ایک یہ کہ عورت کے خرچ کا کوئی انتظام نہ ہو سکے یعنی نہ تو کوئی شخص عورت کے خرچ کا بندوبست کرتا ہو اور نہ خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو الخ “
تنبیہ: خود عورت حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش پر قدرت رکھتی ہو یا اس کے عزیز و اقارب اس کا نفقہ برداشت کرنے پر تیار ہوں مالکیہ کے نزدیک یہ شرط نہیں، “حیلہ ناجزہ” میں اس شرط کے لگانے اور مذہب مالکیہ کو علی الاطلاق نہ لینے کی وجہ عدم ضرورت بیان کی گئی ہے۔
چنانچہ حیلہ ناجزہ کے حاشیہ (72) میں ہے:
و هذا الحكم عندالمالكية لا يختص بخشية الزنا و إفلاس الزوجة لكن لم نأخذ مذهبهم على الإطلاق بل أخذناه حيث وجدت الضرورة المسوغة للخروج عن المذهب.
ہم نے اپنے فتوے میں مذہب مالکیہ کو علی الاطلاق لیا ہے کیونکہ اب عدالتیں اپنے فیصلوں میں اس شرط کو (یعنی عورت کے حفظ آبرو کے ساتھ کسب معاش کی قدرت یا عورت کے عزیز و اقارب کے نفقہ برداشت کرنے کو) ملحوظ نہیں رکھتیں اور قضائے قاضی رافع للخلاف ہوتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved