• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی کو مارنے یا شک کرنے پر طلا ق کو معلق کرنے کا حکم

استفتاء

شوہر کا بیان:

السلام علیکم جناب مفتی صاحب! جب میری اور بیوی کی لڑائی ہوئی  تو میں نے ایک طلاق کی شرط لگائی کہ ’’میرے بغیر تم اپنے میکے نہیں جاؤ گی، اگر گئی تو تمہیں شرطیہ طلاق ہو جائے گی‘‘  میری اس جملے سے طلاق کی نیت نہیں تھی، محض ڈرانے دھمکانے کی نیت تھی، اس کے بعد میری بیوی میرے بغیر اکیلی  اپنے میکےچلی گئی، یہ فروری 2020کا واقعہ ہے، اس کے بعد میری بیوی روٹھ کر میکے بیٹھ گئی، میں نے بیوی کو منانے کے لیے اپنےبھائی اور بھابھی کو بیوی کے میکے بھیجا  تاکہ بیوی کو منا کر لے آئیں لیکن میری بیوی نے کہا کہ میں شرائط رکھوں گی کہ میرا خاوند مجھے مارے پیٹے نہ، دوسری شادی بھی نہ کرے، مجھ پر  کسی قسم کا شک نہ کرے،  بھائی اور بھابھی نے جب یہ باتیں سنیں تو واپس  لوٹ آئے اور صلح نہ ہو سکی، کچھ دنوں کے بعد میں نے خود بیوی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی، بیوی نے کہا کہ میں گھر بسانے کے لیے تیار ہوں مگر میری کچھ شرائط ہیں کہ تم مجھے مارو  پیٹو گے نہیں، زبردستی کام نہیں کرواؤ گے، کسی قسم کا شک نہیں کرو گے، دوسری شادی نہیں کرو گے، ’’اگر تم نے مجھے مارا  پیٹا، یا مجھ پر کسی قسم کا شک کیا، یا  زبردستی مجھ سے باہر کا کام کروایا تو مجھے تینوں طلاق ہو جائیں گی‘‘ پہلے تو میں نے یہ بات سن کر  بیوی کو سمجھانے کی کافی کوشش کی مگر بیوی بضد رہی آخر اسی گفتگو کے دوران میں نے مجبور ہو کر اس کی رکھی ہوئی شرطوں پر ہاں کر دی اوراس کے کہے ہوئے جملے دوہرا کر میں نے کہا کہ ’’مجھے تمہاری یہ شرطیں منظور ہیں‘‘  مگر صلح نہ ہو سکی اور بیوی اپنے میکے میں ہی روٹھ کر بیٹھی رہی،  پھر کچھ دن بعد  میں، میرا بھائی اور بھابھی دوبارہ بیوی کو منانے کے لیے بیوی کے میکے گئے اور بیوی کو منانے کی کوشش کی مگر بیوی نے کہا کہ میں کچھ شرائط رکھوں گی، یعنی  وہی شرائط جو اوپر گزر چکی ہیں اور اب بات بھی پنچایت میں ہو گی،  پنچایت ایک بڑے آدمی کے ڈیرے پر ہوئی جس میں بیوی کے بھائی بھی موجود تھے، کافی دیر تک بحث و مباحثہ ہوتا رہا اور بالآخر بیوی کی رکھی ہوئی شرطوں کو ایک طلاق کے ساتھ مشروط کر دیا گیا،  جس پر بیوی بھی راضی ہو گئی اور پنچایت والے لوگ بھی راضی ہو گئے اور فروری2020ء والے واقعہ کے ایک ماہ بعد  ہماری  صلح ہو گئی، ایک تحریر لکھی گئی جس پر مجھ سے  دستخط لیے گئے، میری  بیوی میرے ساتھ گھر واپس آ  گئی اور ایک سال تک گھر بساتی رہی،  میں نے ایک مرتبہ کسی بات پر بیوی پر شک کر لیا اور بیوی سے اس شک کا اظہار بھی کیا، ہمارا ایک رشتے دار ہمارے گھر آتا تھا، میں نے اپنی بیوی کو اور اس آدمی کو بہت سمجھایا کہ باز آ جاؤ، لیکن وہ دونوں باز نہ آئے تو میں نے کہا کہ اس طرح ملنے سے بہتر ہے کہ تم دونوں آپس میں نکاح کر لو، اب دریافت طلب بات یہ ہے کہ مجھے بیوی پر شک ہو گیا ہے تو  بیوی پر کتنی طلاق واقع ہوں گی؟   یعنی کہ  میاں بیوی دونوں کی آپس میں ٹیلی فون پر جو بات چیت ہوئی اس کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہوئیں یا  جو باتیں پنچایت میں ہوئیں اور ایک طلاق کی  تحریر لکھی گئی اس کی وجہ سے ایک طلاق واقع ہوئی؟

بیوی کا بیان:

مفتی صاحب السلام علیکم! 2008 میں میری شادی ہوئی، بدقسمتی سے خاوند کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہ ہو سکی، شادی کے بعد جلد ہی لڑائی جھگڑا شروع ہوگیا، آئے روز  ایک نئی لڑائی شروع  ہو جاتی تھی، ایک مرتبہ میں اپنے میکے گئی اور ایک ماہ تک وہیں رہی، ایک ماہ کے بعد میرے خاوند نے مجھے کال کہ آپ آ جاؤ، میں آپ کو لینے آتا ہوں، لیکن میں آنے کو تیار نہ ہوئی کہ وہاں جاکر پھر وہی لڑائی جھگڑا شروع ہو جائے گا ،میرا خاوند مجھے تسلی دیتا رہا کہ اب  میں تم سے نہیں لڑوں گا لیکن اس کی سابقہ عادت کے پیش نظر مجھے یقین تھا کہ اس نے پھر وہی کام کرنے ہیں، آخر ہماری بات ایک معاہدے پر طے ہوئی، میں نے اس سے کہا کہ میں اس شرط پر آتی ہوں کہ ’’اگر تو مجھے مارے گا یا کسی قسم کا شک کرے گا، یا مجھ سے زبردستی گھر سے باہر کا کوئی کام کروائے گا تو مجھے تین طلاقیں ہو جائیں گی‘‘ اس  نے کہا کہ ’’مجھے منظور ہے‘‘ پھر جب یہ شرط طے پا گئی تو بعد میں میرے خاوند کے بھائی کو  اس بات کا علم ہوا تو اس نے کہا کہ یہ شرط تین طلاقوں پر نہ رکھو بلکہ دوسری طلاق پر رکھو، [میاں بیوی کے خیال میں پہلی طلاق بیوی کے اکیلے میکے جانے سے واقع ہو گئی تھی، اس لیے معاہدے میں لفظ ’’دوسری طلاق‘‘ لکھا گیا]  پھر انہوں نے اپنی سابقہ بات سے رجوع کرکے تین طلاق کی شرط کو ایک طلاق سے بدلا، پھر جب میں آگئی تو میرے خاوند نے حسب عادت پھر اپنی سابقہ روش شروع کر دی اور اپنی کہی ہوئی بات پر پورا نہ اتر سکا، جن کاموں  سے طلاق مشروط کی تھی وہ کام اس نے کیے، اب میرے لیے شرعی حکم کیا ہے؟  ہمارا نکاح بحال ہے یا طلاق واقع ہو چکی ہے؟ اگر طلاق واقع ہو چکی ہے تو کتنی طلاقیں ہوئیں؟ ایک یا تین؟

معاہدے کی عبارت:

مسمی  زید ولد خالد ذات ****، میں حلفیہ  بیان کرتا ہوں کہ میری شادی مسماۃ  فاطمہ دختر عمر ذات ***سے 12 سال قبل ہوئی، منکوحہ کے بطن سے دو بیٹے زندہ جاوید ہیں، مندرجہ ذیل شرائط اپنی منکوحہ کو تحریر کر کے دے رہا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ (4) اگر ہذا اپنی منکوحہ کو مارے گا یا پیٹے گا تو دوسری طلاق تصور ہو گی، طلاق ہونے کی صورت میں بچے منکوحہ کے پاس رہیں گے، اگر ہذا دوسری شادی کرے گا تو دوسری طلاق تصور ہو گی۔۔۔۔۔۔۔ الخ

دستخط۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں   تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے  بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ:  پہلی مرتبہ جب شوہر نے بیوی سے کہا کہ ’’میرے بغیر تم اپنے میکے نہیں جاؤ گی، اگر گئی تو تمہیں شرطیہ طلاق ہو جائے گی‘‘   تو اس سے ایک طلاق معلق ہو گئی اور جب بیوی  شوہر کے بغیر میکے گئی تو شرط پائے جانے کی وجہ سے ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی، پھر چونکہ عدت کے اندر رجوع ہو گیا تھا جیسا کہ سوال کے   الفاظ  ” فروری2020ء والے واقعہ کے ایک ماہ بعد  ہماری  صلح ہو گئی”  سے معلوم ہو رہا ہے لہذا نکاح باقی رہا، اور اگر مذکورہ الفاظ میں شوہر کی تخویف کی نیت معتبر مان بھی لی جائے تو پھر بھی دوسری تعلیق سے تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں۔ اس کے بعد جب بیوی نے فون پر شرائط رکھیں کہ ’’اگر تم نے مجھے مارا  پیٹا، یا مجھ پر کسی قسم کا شک کیا، یا  زبردستی مجھ سے باہر کا کام کروایا تو مجھے تینوں طلاق ہو جائیں گی‘‘ اور شوہر نے کہا کہ ’’مجھے تمہاری یہ شرطیں منظور ہیں‘‘ تو  مذکورہ تین کاموں میں سے کوئی ایک کام کرنے پر تین طلاقیں معلق ہو گئیں، کیونکہ مذکورہ جملہ اگرچہ مستقبل کا جملہ ہے لیکن مستقبل کے جملے سے تعلیق طلاق اگر فعل زوج پر ہو تو بغیر نیت کے بھی طلاق معلق ہو جاتی ہے، اور تخویف کی نیت معتبر نہیں ہوتی۔ اس کے بعد جب شوہر نے تین طلاقوں کی شرط سے رجوع کر کے ایک طلاق کی شرط پر دستخط کیے تو یہ رجوع درست نہیں ہوا کیونکہ تعلیق طلاق کے بعد شوہر رجوع نہیں کر سکتا،   پھر جب شوہر نے بیوی پر شک کیا اور شک کا اظہار کیا  تو شرط پائے جانے کی وجہ سے تینوں طلاقیں واقع ہو گئیں اور بیوی شوہر پر حرام ہو گئی کیونکہ جب طلاق کو ایسی چیز کے وجود پر معلق کیا جائے جو مخفی ہو تو اس چیز کے وجود کی خبر دینے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، مذکورہ صورت میں بھی چونکہ شوہر نے شک کرنے پر تین طلاقوں کو معلق کیا تھا اور شک کرنا مخفی فعل ہے لہذا جب شوہر نے شک کا اظہار کیا تو شرط پائی گئی اور تین طلاقیں واقع ہو گئیں۔

عالمگیری (1/420) میں  ہے:

وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.

عالمگیری (1/470) میں ہے:

وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية.

عالمگیری (433/1) میں ہے:

إذا قال لامرأته في حالة الغضب: إن فعلت كذا إلى خمس سنين تصيري مطلقة مني وأراد بذلك تخويفها ففعلت ذلك الفعل قبل انقضاء المدة التي ذكرها فإنه يسأل الزوج هل كان حلف بطلاقها فإن أخبر أنه كان حلف يعمل بخبره ويحكم بوقوع الطلاق عليها وإن أخبر أنه لم يحلف به قبل قوله كذا في المحيط.

بدائع الصنائع (3/50) میں ہے:

ثم الشرط إن كان شيئا واحدا يقع الطلاق عند وجوده بأن قال لامرأته إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو أنت طالق إن دخلت هذه الدار يستوي فيه تقديم الشرط في الذكر وتأخيره وسواء كان الشرط معينا أو مبهما بأن قال إن دخلت هذه الدار أو هذه فأنت طالق أو قال أنت طالق إن دخلت هذه الدار أو هذه وكذلك إذا كان وسط الجزاء بأن قال إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو هذه الدار لأن كلمة أو ههنا تقتضي التخيير فصار كل فعل على حاله شرطا فأيهما وجد وقع الطلاق، وكذلك لو أعاد الفعل مع آخر بأن قال إن دخلت هذه الدار أو دخلت هذه سواء أخر الشرط أو قدمه أو وسطه.

بدائع الصنائع (3/204) میں ہے:

إذا قال لها: أنت طالق إن هويت أو أردت أو أحببت أو رضيت فهو مثل قوله: إن شئت ويتعلق الطلاق بالخبر عن هذه الأشياء لا بحقائقها، والأصل أنه متى علق الطلاق بشيء لا يوقف عليه إلا من جهتها يتعلق بإخبارها عنه، ومتى علق بشيء يوقف عليه من جهة غيرها لا يقبل قولها إلا ببينة، وعلى هذا مسائل إذا قال لها: إن كنت تحبيني أو تبغضيني فأنت طالق فقالت: أحب أو أبغض يقع الطلاق استحسانا والقياس أن لا يقع. وجه القياس: أنه علق الطلاق بشرط لا يعلم وجوده فأشبه التعليق بمشيئة الله تعالى. وجه الاستحسان: أنه علقه بأمر لا يوقف عليه إلا من جهتها فيتعلق بإخبارها عنه، كأنه قال لها: إن أخبرتني عن محبتك أو بغضك إياي فأنت طالق، ولو نص على ذلك لتعلق بنفس الإخبار كذا هذا، وعلى هذا إذا قال لها: إن كنت تحبين أن يعذبك الله بالنار أو إن كنت تكرهين الجنة فأنت طالق فقالت: أحب النار أو أكره الجنة، وقع الطلاق لما قلنا.

بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.

امدادالاحکام (2/514) میں ہے:

سوال:اس کابین کے بارے میں ”منکہ ناکح سید احمد ولد بخشا علی حاجی۔۔۔۔۔۔۔  اگر خلاف ایں ورزم بر ماجدہ خاتون مذکورہ سہ طلاق واقع خواہد شد ایں چند کلمہ بطور کابین دادم تا عندالحاجت بکار آید”  ایں کابین بالا مذکورہ کو ایک مولوی صاحب نے لکھا، جس واسطے لکھا وہ بھی مولوی، اور ناکح مولوی صاحب نے محض  دستخط کیا، زبان سے اقرار نہیں کیا، اور دستخط ہرگز نہ کرتا لیکن ان کے مربیوں نے بہت اصرار کیا، اور عبارت کابین میں بھی نقص معلوم ہوا، وہ نقص یہ ہے کہ    ”اگر خلاف ایں ورزم بر ماجدہ خاتون مذکورہ سہ طلاق واقع خواہد شد”   میں ”واقع خواہد شد” صیغہ استقبال ہے اور صیغہ استقبال سے بغیر ارادہ طلاق، طلاق واقع نہیں ہو سکتی، کیونکہ ”واقع خواہد شد” خبر ہے، والخبر یحتمل الصدق والکذب الا و الموضع للاخبار قد استعمل فی الانشاء، یہ خلاف قیاس ہے اور خلاف قیاس اپنے مورد میں منحصر ہے، وہ ماضی ہے نہ کہ لفظ ”واقع خواہد شد” اور وقوع طلاق کے واسطے انشاء ہونا چاہیےخواہ تعلیق یا تنجیز ہو، یہ نقص خیال کر کے دستخط کیے، اگر یہ شبہ نہ ہوتا تو ہرگز دستخط نہ کرتا، کیونکہ طلاق کا منشاء بالکل نہیں ہے، اب عند وجود شرط طلاق، طلاق واقع ہو گی یا نہیں؟ اگر ہوگی تو اس کا کیا مطلب ہے؟   إن فعلت كذا إلى خمسین سنة تصيري مطلقة لايريد طلاقها بل قال على وجه التخويف لم يقع و يكون القول قول الزوج كتبه في الخانية۔ بینوا توجروا  

الجواب: صورت مذکورہ میں مسماۃ ماجدہ خاتون پر تین طلاق واقع ہوگئی ہیں قضاءً لان المضارع فى القضاء بالشرطية غالب للانشاء فدعوى خلاف الظاهر فلا يقبله القاضى و لا المرأة لأنها كالقاضى لاتعلم الا الظاهر پس ماجدہ پر واجب ہے کہ اپنے کو مطلقۃ الثلاث سمجھے اور زوج سے علیحدہ ہو کر عدت تمام کر کے وہ دوسرے سے نکاح کرسکتی ہے اور عبارت عالمگیریہ سے استدلال نہیں ہو سکتا کیونکہ اس میں تعلیق علی فعل المرأۃ ہے اور عورت کے فعل پر طلاق کو معلق کرنے میں تخویف کا احتمال بعید نہیں بلکہ دھمکانے کے طور پر کسی کام سے روکنے کے لئے ایسا کر دیا کرتے ہیں لہذا وہاں نیت زوج کا اعتبار ہے اور یہاں تعلیق علی فعل الزوج ہے اس میں تخویف وغیرہ کا احتمال نہیں لہذا نیت زوج معتبر نہیں لان لفظ الطلاق صريح.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved