• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

چائنہ موزے پر مسح کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے ہاں ایک جدید قسم کا موزہ آیا ہے جس کو چائنہ موزہ کہا جاتا ہے یہ موزہ ریگزین کا بنا ہوا ہے اس کی خوبی یہ ہے کہ اس کے اندر ریگزین کے ساتھ لاسٹک بھی ہے جس کی وجہ سے ایک نمبر(سائز) کا موزہ   دو تین نمبروں(سائزوں)  تک کے پاؤں میں  پورا آ جاتا  ہے،  اس  موزہ پر مسح کرنا جائز ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کسی بھی موزے پر مسح کرنے کی تین شرائط ہیں :

(1 اتنا موٹا ہو کہ پانی اس میں جلدی سے سرایت نہ کرے۔

(2  بغیر کسی لاسٹک وغیرہ کے محض اپنے موٹا ہونے کی وجہ سے   پنڈلی پر ٹکا رہے۔

(3بغیر جوتے کے وہ  موزہ پہن کر کچی زمین پر تین میل (تقریباً پانچ کلومیٹر ) تک  مسلسل چلنے سے نہ پھٹے۔

جس موزے کاسوال میں ذکر ہے اس میں ہمارے مشاہدے اور تجربے کی رو سے تینوں شرطیں موجود ہیں، پہلی دو شرطوں کو تو ہر آدمی اس موزے کو دیکھ کر معلوم کر سکتا ہے، باقی تیسری شرط کو معلوم کرنے کے لئے تجربہ کی ضرورت ہے، سو ہمارے دارالافتاء کے ایک معتمد ساتھی  یہ موزہ بغیر جوتے کے پہن کر تین میل چلے ہیں جس کے باوجود   یہ موزہ پھٹا نہیں، اس تجربے سے معلوم ہوا کہ اس میں تیسری شرط بھی موجود ہے لہذا ہماری تحقیق میں  اس موزہ پر مسح کرنا جائز ہے۔

ایک اشکال اور اس کا جواب:

بعض ساتھیوں کی طرف سے یہ اشکال سامنے آیا کہ اس موزے کا پنڈلی پر قیام اس کے موٹا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ اس میں لچک ہونے کی وجہ سے ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ اس موزے کا پنڈلی پر قیام لچک کی وجہ سے نہیں کیونکہ اگر یہ موزہ ایسا شخص پہنے جس کی پنڈلی پتلی ہو جس کی وجہ سے یہ موزہ پنڈلی کے ساتھ نہ چپکے تو پھر بھی یہ موزہ پنڈلی پر قائم رہے گا اور نیچے نہ ڈھلکے گا۔

نوٹ: کسی بھی موزے پر مسح اسی وقت تک جائز رہتا ہے جب تک اس میں مذکورہ تین شرطیں باقی بھی رہیں لہذا اگر اس موزے کے استعمال کی وجہ سے کل کلاں کو کوئی ایک شرط بھی ختم ہو گئی تو اس پر مسح جائز نہ رہے گا۔

فتاوی شامی(486/1)میں ہے:

باب المسح على الخفين …..(شرط مسحه) ثلاثة أمور:

الأول(كونه ساتر )محل فرض الغسل (القدم مع الكعب)

فى الشامية: ( قوله ثلاثة أمور إلخ ) زاد الشرنبلالي : لبسهما على طهارة ، وخلو كل منهما عن الخرق المانع ، واستمساكهما على الرجلين من غير شد ، ومنعهما وصول الماء إلى الرجل ، وأن يبقى من القدم قدر ثلاثة أصابع

قلت : ويزاد كون الطهارة المذكورة غير التيمم ، وكون الماسح غير جنب وسيأتي بيان جميع ذلك في محاله

في الدر: (و)الثاني( كونه مشغولا بالرجل)ليمنع سرايةالحدث……( و) الثالث(كونه مما يمكن متابعة المشي) المعتاد(فيه)فرسخا فاكثر فلم يجز على متخذ من زجاج و خشب أو حديد

في الشامية: قوله:( المشي المعتاد ) بأن لا يكون في غاية السرعة ولا في غاية البطء ، بل يكون وسطا . ونظيره ما قالوه في السير المعتاد في مدة السفر لقصر الصلاة ( قوله فرسخا فأكثر ) تقدم أن الفرسخ ثلاثة أميال اثنا عشر ألف خطوة …..

تنبيه : المتبادر من كلامهم أن المراد من صلوحه لقطع المسافة أن يصلح لذلك بنفسه من غير لبس المداس فوقه فإنه قد يرق أسفله ويمشي به فوق المداس أياما وهو بحيث لو مشى به وحده فرسخا تخرق قدر المانع ، فعلى الشخص أن يتفقده ويعمل به بغلبة ظنه

فتاوى شامى(1/499) میں ہے:

(او جوربيه)….(الثخينين)بحيث يمشي فرسخا و يثبت على الساق بنفسه ولا يرى ما تحته و لا يشف إلا أن ينفذ إلى الخف قدر الفرض….(والمنعلين)…..(والمجلدين)

في الشامية:قوله:(الثخينين ) أي اللذين ليسا مجلدين ولا منعلين نهر ، وهذا التقييد مستفاد من عطف ما بعده عليه ، وبه يعلم أنه نعت للجوربين فقط…..

قوله:( بحيث يمشي فرسخا ) أي: فأكثر كما مر …..

قوله(بنفسه ) أي من غير شد قوله:( ولا يشف ) بتشديد الفاء ، من شف الثوب : رق حتى رأيت ما وراءه ، من باب ضرب مغرب . وفي بعض الكتب : ينشف بالنون قبل الشين ، من نشف الثوب العرق كسمع ونصر شربه قاموس ، والثاني أولى هنا لئلا يتكرر مع قوله تبعا للزيلعي ولا يرى ما تحته ، لكن فسر في الخانية الأولى بأن لا يشف الجورب الماء إلى نفسه كالأديم والصرم ، وفسر الثاني بأن لا يجاوز الماء إلى القدم ………… قوله:(والمجلدين)المجلد:ما جعل الجلد على أعلاه واسفله…….

أقول: بل هو مأخوذ من كلام المصنف، وكذا من قول الكنز وغيره؛ وعلى الجورب المجلد والمنعل والثخين فإن مفاده أن المجلد لا يتقيد بالثخانة، وقدمنا عن شرح المنية أنه لا يشترط استيعاب الجلد جميع ما يستر القدم على خلاف ما يزعمه بعض الناس وقال في شرح المنية أيضا: صرح في الخلاصة بجواز المسح على المجلد من الكرباس. اهـ. ويؤخذ من هذا ومما قبله أنه لو كان محل المسح وهو ظهر القدم مجلدا مع أسفله أنه يجوز المسح عليه……… ولا يعكر عليه اشتراطهم أن يثبت على الساق بنفسه؛ لأن ذاك في الجورب الثخين الغير المجلد والمنعل

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved