- فتوی نمبر: 26-215
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا گھر میں پالی جانے والی مرغیوں کو بازار میں دستیاب خوراک جس میں حرام اجزاءبھی شامل ہوتے ہیں دے سکتے ہیں؟
وضاحت مطلوب ہے کہ: آپ کو بازار میں دستیاب خوراک میں حرام اجزاء کے شامل ہونے کا علم کیسے ہے؟ تفصیل سے لکھیں۔
جواب وضاحت: اس میں خون شامل کیا جاتا ہے اور خوراک میں بدبو بھی بہت ہوتی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہماری معلومات کے مطابق مرغیوں کی فیڈ میں کوئی حرام جزء شامل نہیں ہوتا لہذا یہ فیڈ مرغیوں کو ڈالی جا سکتی ہے۔
توجیہ :انٹرنیٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق مرغیوں کی فیڈ میں 70فیصد زرعی اجناس ہوتی ہیں اور 20 فیصد دیگر معدنیات وغیرہ ہوتی ہیں جبکہ 10 فیصد حیوانی پروٹین ہوتی ہے۔ پاکستان میں فیڈ میں ڈالی جانے والی حیوانی پروٹین جہاں خون سے حاصل کی جاتی ہے وہیں جانوروں کی ہڈیوں، ان کے کھروں اور مچھلی وغیرہ سے بھی حاصل کی جاتی ہے لیکن ایک ماہر کے مطابق اب کچھ عرصہ سے پاکستان میں فیڈ میں ڈالے جانے والی حیوانی پروٹین محض مچھلیوں سے حاصل کی جاتی ہےخون اور ہڈیوں سے حاصل نہیں کی جاتی۔ اور مچھلی سے حاصل کردہ پروٹین میں کوئی حرج کی بات نہیں ہے کیونکہ مچھلی میں ذبح کا مسئلہ نہیں ہے نیزہمارے ادارے کے محترم مفتی *** صاحب کو فیڈ بنانے کے ایک ماہر نے رابطہ کرنے پر بتایاکہ فیڈ میں وٹامنز بھی ڈالے جاتے ہیں اور عموماً تیز بو وٹامنز کی ہوتی ہےاور انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اب کچھ عرصے سے پاکستان میں بننے والی فیڈ میں خون نہیں ڈالا جاتا لہٰذا ہماری معلومات کے مطابق مرغیوں کی فیڈ میں حرام اجزاء شامل نہیں ہوتے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved