- فتوی نمبر: 26-213
- تاریخ: 23 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تحریری طلاق کا بیان
استفتاء
مندرجہ ذیل تحریر کی رو سے شریعت کے مطابق طلاق ہوگئی ہے یا نہیں؟
طلاق نامہ کی عبارت: “میں زید ولد خالد سکنہ ****، … … … اپنے پورے ہوش و حواس، بنا کسی جبر کے یہ فیصلہ کررہا ہوں کہ میں زینب دختر واجد کو اپنے شرعی رشتہ سے آزاد کررہا ہوں۔ … … … ”اپنے ساتھ شرعی رشتہ سے آزاد کرتا ہوں“ … … … ”میں آپ کو زینب دختر واجد طلاق دیتا ہوں“”میں آپ کو زینب دختر واجد طلاق دیتا ہوں“ ”میں آپ کو زینب دختر واجد طلاق دیتا ہوں“ (دستخط:زید )۔ “
وضاحت مطلوب: سائل کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ شوہر کا رابطہ نمبر ارسال کریں۔
جواب وضاحت: میں زید کی بیوی ہوں۔ انہوں نے یہ خود تحریر لکھی ہے، ان کا کہنا ہے کہ اس طرح طلاق نہیں ہوتی اور اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ وہ اس بارے میں کسی سے بات نہیں کرنا چاہتے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتا شوہر نے یہ طلاق نامہ خود لکھا ہے تو تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے، لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہےاور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے جو طلاق کی تحریر لکھی ہے وہ کتابت مستبینہ مرسومہ ہے اور کتابت مستبینہ مرسومہ سے شوہر کی طلاق کی نیت ہو یا نہ ہو طلاق واقع ہوجاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تحریر کے الفاظ ”اپنے ساتھ شرعی رشتہ سے آزاد کرتا ہوں“ … … … ”میں آپ کوزینب دختر واجد طلاق دیتا ہوں“ ”میں آپ کو زینب دختر واجد طلاق دیتا ہوں“ ”میں آپ کو زینب دختر واجد طلاق دیتا ہوں“ سے تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے۔
شامی (442/4) میں ہے:
”قال في الهندية: الكتابة على نوعين: مرسومة وغير مرسومة، ونعني بالمرسومة أن يكون مصدرا ومعنونا مثل ما يكتب إلى الغائب … … … وإن كانت مستبينة لكنها غير مرسومة إن نوى الطلاق وإلا لا، وإن كانت مرسومة يقع الطلاق نوى أو لم ينو ثم المرسومة لا تخلو إما أن أرسل الطلاق بأن كتب: أما بعد فأنت طالق، فكما كتب هذا يقع الطلاق وتلزمها العدة من وقت الكتابة“
ردالمحتار (342/4) میں ہے:
”والمراة كالقاضي اذا سمعته او اخبرته عدل لايحل لها تمكينه“
بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:
”و اما الطلاق الثلاث فحكمها الاصلي هو زوال الملك و زوال حل المحلية ايضا، حتی لایجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عزوجل ، ’’فان طلقها فلا تحل له من بعد حتي تنكح زوجا غيره.“
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved