• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کیا مدرس ایامِ تعطیل کی تنخواہ کا مستحق ہے؟

استفتاء

اگر ایک استاذ کسی ادارے میں ہو تو کیا وہ اس ادارے کی سالانہ چھٹیوں کی تنخواہ کا مستحق ہے یا نہیں  ؟

تنقیح:میں ایک مدرسے میں پڑھاتاہوں ،میں نے ان کے ساتھ معاہدہ کیا ہے لیکن یہ طے نہیں کیا کہ کتنے سال کا معاہدہ ہے ابھی معاہدہ ختم نہیں ہوا اور میرا یہ ارادہ ہے کہ رمضان کے بعد اگلے سال بھی پڑھانے جاؤں گا۔ابھی تک مدرسے والوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ  وہ چھٹیوں کی تنخواہ دیں گے یا نہیں ،سوال کا مقصد یہ ہے کہ اگر میں مستحق ہوا تو میں مدرسے والوں سے مطالبہ کروں گا ورنہ نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں استاذ کا مدرسے سے معاہدہ چونکہ سالانہ ہواہے اس لیے وہ چھٹیوں کےدنوں کی تنخواہ  کا بھی مستحق ہے۔

امداد الاحكام (3/584)ميں ہے:

سوال:تنخواہ ایام تعطیل چوں جمعہ و عیدین و رمضان بحسب دستور و آنچہ درعید و آغاز بعض سورتہائے قرآن مجید وغیرہ چوں پارچہ وروپیہ و شیرینی وغیرہ مدرس صاحبان رادادن ست معروف مشہور ، گرفتنش مباح است یا محظور؟

الجواب مباح است ۔ کما فى رد المحتار وينبغى الحاقه ببطالة القاضى واختلفوا فيها والأصح انه يأخذ لانها للاستراحة. اشباه من قاعدة والعادة محكمة ودر گرفتن اشیاء مرسومہ شکے نیست واگر کسے مانع آید جبر ہم کردہ شود كما فى جامع الرموز وغيره فلو امتنع الاب من الرسوم مثل پنج شنبي وعيدى وغيرهما حبس على ذلك وفى الدر المختار ويجبر على دفع الحلوة المرسومة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved