• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

حالت نماز میں قرآن پاک سے دیکھ کر قراءت کرنے کا حکم

استفتاء

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا  کے  غلام رمضان میں قرآن دیکھ کر انہیں نماز پڑھاتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شبیہ: 2/338، ح: 7216 وسندہ صحیح، ح: 7215 وسندہ صحیح، صحیح بخاری تعلیقاً قبل ح: 692]

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نماز پڑھتے تو ان کے غلام قرآن پکڑے ہوئے لقمہ دیتے تھے۔ [مصنف ابن ابی شبیہ: 2/338، ح: 7222 وسندہ حسن]

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ (تابعی) قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھانے کو جائز سمجھتے تھے۔ [ابن ابی شبیہ: 7214 وسندہ صحیح]

عائشہ بنت طلحہ (بن عبید اللہ التیمیہ) رحمہا اللہ اپنے غلام یا کسی کو حکم دیتیں، وہ قرآن دیکھ کر انہیں نماز پڑھاتا تھا۔ [ابن ابی شبیہ: 7217 وسندہ صحیح]

حسن بصری، محمد بن سیرین اور عطاء بن ابی رباح قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھانے کو جائز سمجھتے تھے۔ [ابن ابی شبیہ: 7218-7220 واسانید الآثار المذکورہ حسنہ]

امام محمد بن سیرین رحمہ اللہ نماز پڑھاتے اور ان کے قریب ہی ایک مصحف (قرآن مجید) ہوتا تھا، جب انہیں کسی (آیت) میں تردد ہوتا تو مصحف دیکھ لیا کرتے تھے۔ [مصنف عبد الرزاق: 2/420، ح: 3931 وسندہ صحیح]

امام ابن شہاب الزہری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا کہ کیا قرآن مجید دیکھ کر نماز پڑھائی جا سکتی ہے؟تو انہوں نے فرمایا: ”جی ہاں! جب سے اسلام ہے، لوگ یہ کر رہے ہیں۔“ [المصاحف لابن ابی داود ص: 222، ح: 806-807 وسندہ حسن، دوسرا نسخہ: 781-782]

یحییٰ بن سعید الانصاری رحمہ اللہ نے فرمایا:”میں رمضان میں قرآن دیکھ کر قرأت کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتا۔“ [المصاحف لابن ابی داود: 780 وسندہ حسن، دوسرا نسخہ: 805]

دلائل کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمادیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ہماری تحقیق میں مذکورہ مسئلہ درست نہیں اور اس کے دلائل انہی کتابوں میں آگے مذکور ہیں  جن کتابوں کے حوالے سوال میں ہیں۔

چنانچہ مصنف ابن ابی شیبہ (5/46) میں ہے:

7224 – حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن العياش العامري، عن سليمان بن حنظلة البكري، «أنه ‌مر ‌على ‌رجل يؤم قوما في المصحف، فضربه برجله»

ترجمہ: حضرت سلیمان بن حنظلہ بکری رحمہ اللہ ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو لوگوں کو قرآن مجید سے دیکھ کر امامت کروا رہے تھے تو انہوں نے اس کو اپنا پاؤں مارا۔

حدثنا وكيع، قال: حدثنا سفيان، عن عطاء، عن أبي عبد الرحمن، «أنه كره أن يؤم في المصحف»

ترجمہ: حضرت ابو عبدالرحمن (سلمی) رحمہ اللہ قرآن مجید سے دیکھ کر امامت کو مکروہ سمجھتے۔

حدثنا أبو معاوية، عن الأعمش، عن إبراهيم «أنه كره أن يؤم الرجل في المصحف، كراهة أن يتشبهوا بأهل الكتاب»

ترجمہ: حضرت ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ قرآن مجید سے دیکھ کر امامت کو مکروہ سمجھتے کہ یہ اہل کتاب کے ساتھ مشابہت ہے۔

حدثنا محمد بن فضيل، عن مغيرة، عن إبراهيم، قال: «كانوا يكرهون أن يؤم الرجل وهو يقرأ في المصحف»

ترجمہ: حضرت ابراہیم (نخعی) رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ قرآن مجید سے دیکھ کر پڑھنے والے شخص کی امامت کو ناپسند کرتے  تھے۔

حدثنا المحاربي، عن ليث، عن مجاهد «أنه كان يكره أن يؤم الرجل في المصحف»

ترجمہ: حضرت مجاہد رحمہ اللہ قرآن مجید سے دیکھ کر امامت کروانے کو مکروہ سمجھتے تھے ۔

حدثنا وكيع، قال: حدثنا هشام الدستوائي، عن قتادة، عن الحسن أنه كرهه، وقال: «هكذا تفعل النصارى»

ترجمہ: حضرت حسن رحمہ اللہ قرآن مجید سے قراءت کو ناپسند کرتے اور فرماتے کہ اس طرح نصاری کرتے ہیں۔

حدثنا أبو داود، عن شعبة، عن حماد، وقتادة، «في رجل يؤم القوم في رمضان في المصحف، فكرهاه»

ترجمہ: حضرت حماد اور قتادہ رحمہمااللہ اس شخص کی امامت کو جو رمضان میں قرآن مجید سے دیکھ کر کرواتا ہو مکروہ سمجھتے۔

حدثنا إسرائيل، عن جابر، عن عامر، قال: «لا يؤم في المصحف»

ترجمہ: حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ  کوئی شخص قرآن مجید سے دیکھ کر امامت نہ کرے۔

کتاب المصاحف لابن ابی داؤد (ص:712)میں ہے:

نا محمد بن عامر بن ابرهيم عن أبيه عامر بن إبراهيم قال: سمعت نهشل بن سعيد يحدث عن الضحاك عن ابن عباس قال: نهانا أمير المؤمنين رضي الله عنه أن نؤم الناس في المصحف.

ترجمہ: حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ہمیں قرآن مجید سے دیکھ کر نماز پڑھانے سے منع فرمایا۔

حدثنا عبد الله بن سعيد قال: ثنا أبوخالد عن ابن أبي عروبة عن قتادة عن ابن المسيب قال: إذا كان معه ما يقوم به ليله ردده ولا يقرأ في المصحف

ترجمہ: حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اگر قیام اللیل میں پڑھنے کے لئے کچھ قرآن یاد ہے تو وہی باربار پڑھے لیکن قرآن مجید کو دیکھ کر نہ پڑھے۔

 حدثنا محمد بن بشار ، ثنا محمد، ثنا شعبة، قال: سمعت قتادة عن سعيد بن المسيب في الرجل يصلي في رمضان فيقرأ في المصحف قال: إذا كان معه ما يقرأ به في ليلته فليقرأ به

ترجمہ:  حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ اس شخص کے بارے میں جو رمضان میں قرآن مجید سے دیکھ نماز پڑھتا ہو فرماتے ہیں کہ اگر اس کو رات کی نماز کے لیے کچھ قرآن یاد ہو تو وہی پڑھے۔

 حدثنا علي بن أبي الخصىب، قال: ثنا وكيع، عن سفيان،عن الأعمش،عن إبرهيم: أنه كره أن يؤم في المصحف وقال: لا تشبه بأهل الكتاب.

ترجمہ: حضرت ابراہیم (نخعی)رحمہ اللہ قرآن مجید سے دیکھ کر امامت کو مکروہ سمجھتے  اور فرماتے اہل کتاب کے ساتھ مشابہت اختیار نہ کرو۔

حدثنا عبدالله بن سعيد ، ثنا المحاربي ،عن ليث، عن مجاهد: أنه كره أن يؤم الرجل في المصحف.

حدثنا أحمد بن سنان، قال:أبو معاوية، عن الأعمش، عن إبراهيم ،قال: كانوا يكرهون أن يؤم الرجل في المصحف كراهية شديدة أن يتشبهو بأهل الكتاب.

حدثنا هارون بن إسحاق وعلي بن حرب، قالا: حدثنا ابن فضيل، عن مغيرة، عن إبراهيم: كره أن يؤم الرجل القوم وهو يقرأ في المصحف.

حدثنا علي بن أبي الخصيب، قال: أخبرنا وكيع، عن سفيان،عن عطاء بن السائب، عن أبي عبدالرحمن السلمي: أنه كره أن يؤم الرجل في المصحف.

مصنف عبدالرزاق (3/139) میں ہے:

 [4058] عبد الرزاق، عن الثوري، عن الأعمش، عن إبراهيم قال: ‌كانوا ‌يكرهون أن يؤمهم، وهو يقرأ في  المصحف، فيتشبهون بأهل الكتاب.

 [4059] عبد الرزاق، عن الثوري، عن منصور، عن مجاهد أنه كرهه.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved