• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مضارب کی کوتاہی کے بغیر ہونے والے نقصان کس کے ذمےہوگا؟

استفتاء

زید اور عمرو نے باہمی رضامندی کے ساتھ  مثلاً ایک لاکھ سے نفع و نقصان پر کاروبار کا آغاز کیا ۔روپے زید کے تھے اور باقی معاملات کی دیکھ بھال  عمرو کے ذمے تھی ۔عمرو نے اس سے مال خریدا اور بکرو کو فروخت کردیا ۔ عمرو نے حسب وعدہ ومعاہدہ اپنے کاروباری شریک  زید کو اصل رقم اداکردی جب کہ نفع کی ادائیگی  بکر سے رقم کی وصولی پر ادا کرنے کا کہا ۔لیکن بکر نے ابھی تک رقم ادا نہیں کی اور بکر اس عدم ادائیگی کا زیدکے سامنے اقرار بھی کرتا ہے ۔

سوال یہ ہے کہ زید اور عمرو اس نقصان میں برابر کے شریک ہیں یا عمرو اپنی طرف سے یہ رقم اپنے کاروباری شریک زید کو اداکرنے کا پابند ہے؟

تنقیح:فریقین (زید اور عمرو) دارالافتاء آئے تھے ،زبانی بات کرتے ہوئے انہوں نے درج ذیل تفصیل بیان کی :

عمرو نے جس آدمی(بکر) کو مال دیا تھا وہ  لاہور کا  مشہور و معروف  تاجر ہے لیکن  مسئلہ یہ ہوا کہ عمرو نے جو مال بکر  فروخت کیا تھا   وہ پانی لگنے کی وجہ سے ضائع ہو گیا اور اتفاق سے بکر پر کچھ  حالات آئے کہ  اس کی مالی حالت بہت کمزور ہوگئی اور وہ مال ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا ،لیکن بعد میں اس نے اپنے بھائی کے تعاون سے رقم ادا کرنی شروع کی ، لیکن اس دوران اس کا بھائی بھی فوت ہو گیا جس کی وجہ سے ادائیگی رک گئی ہے ۔اب صورتحال یہ ہے کہ بکر کہہ رہا ہے کہ میں یہ رقم آپ کو ضرور ادا کروں گا لیکن اس میں وقت لگ جائے گا ۔ یہ تفصیل عمرو نے بیان کی اور زید نے ان سب باتوں کی تصدیق کی ہے ۔

اب زید یہ کہہ رہا ہے کہ عمرو مجھے اپنا نقصان اپنے پاس سے رقم دے کر پورا کروائے اور بعد میں وصول کرتا رہے جبکہ عمرو کا کہنا یہ ہے کہ پہلے بھی میں اپنے پاس سے زید کو کافی رقم ادا کرچکا ہو ں لیکن فی الحال میں مزید رقم ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں ،لہذا جب بکر مجھے رقم ادا کرے گا تو میں زید کو اس کی رقم ادا کردوں گا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں عمرو پر لازم نہیں ہے کہ وہ   اپنے پاس   سے زید کو رقم ادا کرے۔

توجیہ: مذکورہ صورت مضاربت کی ہے جس میں زید رب المال اور عمرو مضارب ہے،مضاربت کا اصول یہ ہے کہ اگر مضارب کی کوتاہی کے بغیر کوئی نقصان ہو تو اس کا تاوان رب المال پر آتاہے اور مذکورہ صورت میں مضارب کی کوتاہی ثابت نہیں ہوئی ،اس لیے کہ  رب المال بھی اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ مضارب نے جس آدمی کے ساتھ کاروبار کیا ہے وہ غیر ذمہ دارنہیں ہے لہذا اگر بکر یہ رقم ادا نہ کرسکے تب بھی عمرو ،زید کا دیندار نہیں ہے بلکہ یوں سمجھا جائے گا کہ زید کا مال گیا اور عمرو کی محنت گئی۔

درر الحکام فی شرح مجلۃالأحكام (3/ 424)میں ہے:

«(‌يعود ‌الضرر والخسار في كل حال على رب المال وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما فلا يعتبر ذلك الشرط) . ‌يعود ‌الضرر والخسار في كل حال على رب المال إذا تجاوز الربح إذ يكون الضرر والخسار في هذا الحال جزءا هالكا من المال فلذلك لا يشترط على غير رب المال ولا يلزم به آخر. ويستفاد هذا الحكم من الفقرة الثانية من المادة الآنفة وإذا شرط أن يكون مشتركا بينهما أو جميعه على المضارب فلا يعتبر ذلك الشرط

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

اب آپ رہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت کا شرعی حل کیا ہے؟

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved