- فتوی نمبر: 26-299
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وراثت کا بیان > وراثت کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ ایک شخص (جو کہ 2004 میں فوت ہوگیا تھا اور وہ شخص سرکاری ملازم تھا) نے شادی کی اور ایک بیٹی ہوئی، (اس شخص نے اپنی بیٹی کی شادی بھی کی) پہلی بیوی کو اس نے طلاق دے دی۔ دوسری شادی کی اس سے اس کے تین بیٹے ہوئے اس شخص نے تینوں بیٹوں میں سے بڑے بیٹے کی شادی کی بڑا بیٹا 2017 میں انتقال کرگیا۔ اس نے ورثاء میں 4 بچے (ایک بیٹی تین بیٹے) اور ایک بیوہ اور والدہ چھوڑیں، اس کی تدفین کا خرچہ بھی والد کے چھوڑے ہوئے مال وراثت سے ادا کیا گیا۔ جبکہ اس بڑے بیٹے نے اپنی بیوی کا مہر بھی دینا ہے۔ دوسرا بیٹا جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا اور غیر شادی شدہ بھی تھا وہ بھی 2019 میں فوت ہوگیا تھا اس کے ورثاء میں والدہ، ایک حقیقی بھائی اور ایک باپ شریک بہن ہیں۔ تیسرا بیٹا ابھی حیات ہے۔ اب اس مذکورہ بالا شخص کی (پہلی بیوی سے) بیٹی اپنا شرعی حصہ طلب کرتی ہے کہ والد کی جائیداد جو وہ چھوڑ کر گئے تھے اس میں سے اور ان کی پنشن میں سے میرا 1/2 حصہ دے دو۔
(۱) شرعی رو سےوضاحت فرمائیں کہ اس کو حصہ کس حساب سے ملے گا؟
(۲) مذکورہ شخص کا جو بیٹا 2017 میں فوت ہوا اس کی تدفین کا خرچہ اس کے باپ کے مال میں سے شمار ہوگا؟
(۳) اس شخص کے بیٹے کی بیوی کو حق مہر کیا خود اس شخص کے مال میں سے دیا جائے گا؟
(۴) مذکورہ شخص کی بیٹی کو اس کی پینشن میں سے آدھا حصہ ملے گا؟
(۵) 2004 میں فوت ہونے والے شخص کی پینشن کا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔ مذکورہ شخص کے ترکہ کے کل 672 حصے کرکے ان میں سے اس کی بیٹی کا حق صرف 84 حصے ہیں آدھا ترکہ نہیں ہے۔ 672 کے باقی حصوں میں سے 140 حصے اس شخص کی بیوہ کا حق ہیں اور 308 حصے اس کے موجودہ بیٹے کا حق ہیں، جبکہ 2017 میں فوت ہونے والے بیٹے کی بیوہ کو 21 حصے ملیں گے، اس کی بیٹی کو 17 حصے ملیں گے اور اس کے ہر بیٹے کو 34،34حصے ملیں گے۔
2۔ جو بیٹا 2017 میں فوت ہوا اس کی تدفین کا خرچہ اس کے باپ کے مال میں شمار کرنا درست نہیں ہے، وہ خرچہ خود اس بیٹے کے مال میں آئے گا جس کی صورت یہ ہے کہ اس خرچہ کو 168 حصوں میں تقسیم کرکے ان میں سے 28 حصے اس بیٹے کی والدہ پر 21 حصے اس کی بیوہ پر 17 حصے بیٹی پر اور 34،34 حصے اس کے ہر بیٹے پر آئیں گے۔
3۔ مہر مرنے والے شخص کے ذمہ قرض ہوتا ہے جوکہ اس کے اپنے مال میں سے ادا کیا جاتا ہے۔ لہذا یہ قرض 2017 میں فوت ہونے والے بیٹے کے مال میں سے ادا کیا جائے گا اس کی ادائیگی کی صورت بھی مذکورہ بالا طریقے کے مطابق ہوگی یعنی مہر کی رقم کے کل 168 حصے کرکے ان میں سے 28 حصے اس بیٹے کی والدہ کے حصے سے لیں گے، 17 حصے اس کی بیٹی کے حصے سے اور 34،34 حصے اس کے ہر بیٹے کے حصے سے لیں گے جبکہ مہر کی رقم کے 21 حصے اس کی بیوہ کے اپنے اوپر آئیں گے۔
4۔ پینشن زیر کفالت افراد کا حق ہوتا ہے، شادی کے بعد بیٹی اپنے خاوند کے زیر کفالت ہوتی ہے باپ کی زیر کفالت نہیں رہتی لہذا اس شخص کی پینشنمیں اس کی بیٹی کا کوئی حق نہیں ہے۔
5۔ مذکورہ صورت میں 2004 میں فوت ہونے والے شخص کی زیر کفالت صرف ان کی دوسری بیوی تھی لہذا پینشن میں صرف اس کی دوسری بیوی کا حق ہے۔
نوٹ: طلاق کی وجہ سے بیوی نہ ورثاء میں شمار ہوتی ہے اور نہ زیر کفالت افراد میں، اس لئے پہلی بیوی کا اس شخص کی وراثت اور پینشن میں کوئی حق نہیں ہے۔
مسائل بہشتی زیور (501/2) میں ہے:
’’(۴) فیملی پنشن یا کوئی اور فنڈ جو حکومت یا ادارے کی جانب سے ہمدردی کی بنیادوں پر ملے ہوں وہ ترکہ میں شامل نہیں بلکہ صرف ان افراد کا حق ہے جو میت کے زیر کفالت تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved