- فتوی نمبر: 26-322
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > اذان و اقامت کا بیان
استفتاء
اگر ایک شخص گھر میں تلاوت کر رہا ہو اور دوسرے محلے کی مسجد کی اذان شروع ہو جائے تو ایسی صورت میں یہ شخص تلاوت کو جاری رکھے گا یا اذان کا جواب دے گا؟ ایک شخص کہتے ہیں کہ دوسرے محلے کی مسجد میں اذان ہو تو مکان میں تلاوت جاری رکھنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ مفتی صاحب فقہاء احناف کے نزدیک تحقیقی بات کیا ہے؟ راہنمائی فرمائیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں چاہے پہلے اپنے محلے کی اذان شروع ہو یا دوسرے محلے کی اذان پہلے شروع ہودونوں صورتوں میں یہ شخص تلاوت موقوف کرکے اذن کا زبان سے جواب دے گا۔
شامی (2/87)میں ہے:
وفي التتارخانية إنما يجيب أذان مسجده. وسأل ظهير الدين عمن سمعه في آن من جهات ماذا يجب عليه؟ وفي الشامية تحت قوله: (إنما يجيب أذان مسجده) أي بالقدم، وهو متفرع على قول الحلواني كما أشار إليه الشارح سابقا بقوله كما يأتي ط. (قوله: قال إجابة أذان مسجده بالفعل) قال في الفتح: وهذا ليس مما نحن فيه؛ إذ مقصود السائل: أي مؤذن يجيب باللسان استحبابا أو وجوبا، والذي ينبغي إجابة الأول سواء كان مؤذن مسجده أو غيره.
مراقی الفلاح (ص ۳۹ باب الأذان) میں ہے:
وإذا تعدد الأذان یجیب الأول
طحطاوی علی مراقی الفلاح، (ص: ۱۱۷ باب الأذان) میں ہے:
مطلقاً سواء کان أذان مسجده أم لا؛ لأنه حیث سمع الأذان ندبت له الإجابة، ثم لایتکرر علیه في الأصح ذکره الشهاب في شرح الشفاء
مسائل بہشتی زیور: (1/153) میں ہے:
اگر کئی مسجدوں سے اذان سنائی دے تو اگر ہو سکے تو سب کا جواب دے، ورنہ پہلی اذان کا زیادہ حق ہے۔ اس کا جواب دے خواہ محلے کی ہو یا دوسری جگہ کی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved