• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نماز میں گلہ کھنکارنے کا حکم

استفتاء

نماز   میں   کھنگورا مارناتاکہ گلہ صاف ہوجائے یاکبھی کھنگورا عادتا  ہوجائے تو کیا  اس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورۃ دونوں صورتوں میں نماز فاسد نہیں ہوتی ہے۔البتہ اس بات کی کوشش کرنی چاہیے کہ عادتاً بھی ایسا نہ ہو۔

عالمگیری (216/1)میں ہے:

ويفسد الصلاة ‌التنحنح بلا عذر بأن لم يكن مدفوعا إليه وحصل منه حروف. هكذا في التبيين ولو لم يظهر له حروف فإنه لا يفسد اتفاقا لكنه مكروه. كذا في البحر الرائق وإن كان بعذر بأن كان مدفوعا إليه لا تفسد لعدم إمكان الاحتراز عنه

عمدۃالفقہ(252/2)میں ہے:

کھنکارنا یا کھانسنا دو حرفوں سے یعنی اح اح کہنا بلاعذر یا بلاغرض صحیح ہو تو نماز فاسد ہوجائے گی اور اگر کھنکارنا  عذر کے ساتھ مثلا کھانسی کا مرض ہے یا بےاختیار کھانسی آجائےیعنی اس طرح ہو کہ نمازی کی طبیعت سے خود بخود بلا تکلف (بے اختیار)پیدا ہوتو اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ اس سے بچ نہیں سکتا۔۔۔۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved