• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سامان گاڑی میں لوڈ کرنے کی مزدوری بائع کے ذمے ہے یا مشتری کے؟

استفتاء

ہمارے علاقے میں دکاندار(مشتری)کسی بڑے گودام والے کے پاس جاکر اس سے سامان وغیرہ خریدتا ہے ،سامان خریدنے کے بعد اس کو گاڑی یا ریڑھی وغیرہ میں رکھنا پڑتا ہے تو اس دوران گودام والوں کے پاس جو مزدور ہوتے ہیں وہی مزدوراس سامان کوگاڑی میں رکھ دیتے ہیں یاگاڑی تک پہنچادیتے ہیں پھر ان مزدوروں کو بعض اوقات  مشتری(دکاندار)مزدوری دیتا ہے اور بعض اوقات بائع (گودام والا)مزدوری دے دیتا ہے۔

اب پوچھنا یہ ہے کہ ان مزدوروں کی مزدوری گودام والے کے ذمے ہے یا مشتری کے ذمے ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اصولی طور پر تو یہ مزدوری مشتری کے ذمے ہے کیوں کہ بائع نے محل عقد میں مبیع حوالے کردی ہے اور بائع کی ذمہ داری صرف اسی حد تک ہے ۔تاہم اگر عرف ایسی صورت میں بائع کےذمے  مزدوری  ڈالتا ہو یا فریقین میں یہ طے ہوجائے تو پھر بائع کی ذمہ داری ہو گی ۔

الہدایہ مع البنایہ (7/ 447)میں ہے:

وتسمية المكان الذي يوفيه فيه إذا كان له حمل ومؤنة. وقالا: لا يحتاج إلى تسمية رأس المال إذا كان معينا، ولا إلى مكان التسليم ويسلمه في موضع العقد، فهاتان مسألتان . . . . . . . . . . . ولهما في الثانية أن مكان العقد يتعين لوجود العقد الموجب للتسليم فيه ولأنه لا يزاحمه مكان آخر فيه الخ

البنایہ

(ولهما) ش: أي ولأبي يوسف ومحمد -رحمهما الله- م: (في الثانية) ش: أي في المسألة الثانية م: (أن مكان العقد يتعين) ش: أي للإيفاء، لأن مكان العقد مكان الإلزام متعين لإيفاء ما التزمه في ذمته لوضع الاستقراض والاستهلاك م: (لوجود العقد الموجب للتسليم فيه) ش: أي في مكان العقد، وما كان كذلك يتعين كما في بيع الحنطة بعينها، فإن التسليم يجب في موضع العقد

درر الحكام فی شرح مجلۃ الأحكام (1/ 270)میں ہے:

(مادة 287) إذا بيع مال على أن يسلم في محل كذا لزم تسليمه في المحل المذكور.

مثال ذلك أن يبيع شخص حنطة من مزرعة له على ‌أن ‌يسلمها ‌إلى ‌المشتري في داره فيجب عليه تسليمها إلى المشتري في داره وكذلك إذا شرط تسليم المبيع الذي يحتاج إلى مئونة في نقله إلى محل معين فيجب تسليمه هناك وإن كان يصح البيع بشرط تسليم المبيع في محل معين حسب هذه المادة إلا أنه لا يصح البيع بشرط حمل المبيع ونقله إلى دار المشتري

درر الحكام فی  شرح مجلۃ الأحكام (1/ 246)میں ہے:

(المادة 291) :ما يباع ‌محمولا ‌على ‌الحيوان كالحطب والفحم تكون أجرة نقله وإيصاله إلى بيت المشتري جارية على حسب عرف البلدة وعادتها .وكذلك الحشيش والتبن والحنطة إذا كان عرف تلك البلدة نقلها إلى دار المشتري يتبع في ذلك عرف البلد يعني إذ كان عرف البلد نقل تلك الأشياء إلى دار المشتري يجبر البائع على نقلها إلى داره الخ

امداد الفتاوٰی (3/22)میں ہے:

سوال (۱۶۱۵) :  قدیم  ۳/ ۲۲-   یہاں دستوروعرف ہے کہ جب بقال سے ایک روپیہ یا زائد کا غلہ خریدا جاوے تو وہ مشتری کے مکان تک پہنچا دیتا ہے یا مزدوری اس کی دیدیتا ہے یہ بیع صحیح ہے نہیں ؟

الجواب: اصل قاعدہ سے بائع کا پہنچانا درست نہیں ، مگر جہاں عام عادت ہو جاوے وہاں تعامل کے سبب جواز کی گنجائش ہے اور مزدوری دیدینا ایک تاویل سے جائز ہے اور وہ تاویل حط ثمن ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved