• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر کے جیل جانے کی وجہ سے عدالتی خلع لینے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرے بہنوئی آج سے تقریبا دس سال پہلے ایک قتل کے کیس میں جیل گئے تھے، اس کیس میں میری بہن کا  نام بھی تھا، اپنی بہن کا مقدمہ جیتنے کے لیے ہم نے بذریعہ عدالت خلع لی تھی، اب میرے بہنوئی جیل سے رہا ہو کر آ گئے ہیں، ہم اپنی بہن کو دوبارہ ان کے گھر واپس بھیجنا چاہتے ہیں، کیا اس کی گنجائش ہے، یا عدالتی خلع سے طلاق واقع ہو چکی ہے ؟ اس کے بارے میں مہر شدہ فتوی مطلوب ہے۔

وضاحت مطلوب ہے کہ: (1) کیا یہ معاملہ بہنوئی کی اجازت اور منشاء سے ہوا تھا؟ (2) کیا بہنوئی نے خلع کے کاغذات پر دستخط کیے تھے؟

جواب وضاحت:(1)یہ معاملہ بہن اور بہنوئی کی اجازت اور منشاء کے بغیر ہوا تھا، بلکہ بہنوئی کو اس معاملے کا علم ہی نہیں تھا (2) بہنوئی نے دستخط نہیں کیے تھے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ میاں بیوی کی رضامندی کے بغیر خلع ہوا ہے، لہذا شرعا اس خلع سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی، اور آپ اپنی بہن کو ان کے گھر بھیج سکتے ہیں، تاہم قانون کے اعتبار سے چونکہ نکاح ختم ہوچکا ہے لہذا قانون کے اعتبار سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تو کرسکتے ہیں۔

بدائع الصنائع (3/229) میں ہے:

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.  

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved