- فتوی نمبر: 26-161
- تاریخ: 05 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > زبردستی طلاق کہلوانا
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے ایک لڑکی سے کورٹ میرج کی، وکیل نے ایک قاری صاحب کو بلایا تھا اس نے گواہوں کی موجودگی میں خطبہ پڑھ کر باقاعدہ ایجاب و قبول کروایا اور نکاح پڑھایا، نکاح کے بعد ہم نے ہمبستری بھی کی تھی، جب لڑکی کے والدین کو معلوم ہوا تو لڑکی کا والد دو آدمیوں کو لے کر آیا اور مجھ سے کہا کہ لڑکی کو طلاق دو، انہوں نے مجھے کہا کہ اگر تم نے طلاق نہ دی تو ہم تمہارے خلاف کیس کریں گے، تو میں نے تین مرتبہ کہا کہ ’’میں صبا کو طلاق دیتا ہوں، میں صبا کو طلاق دیتا ہوں، میں صبا کو طلاق دیتا ہوں‘‘ لڑکی وہاں موجود نہیں تھی اس کے ابو اور دو آدمی اور وہاں موجود تھے، اب میں اس لڑکی کو رکھنا چاہتا ہوں، مذکورہ صورت میں طلاق ہوگئی ہے یا نہیں ہوئی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر چہ آپ نے دباؤ میں آ کر طلاق دی ہے لیکن زبان سے دی گئی طلاق خواہ دباؤ میں ہی دی جائے واقع ہو جاتی ہے، لہذا مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے آپ کی بیوی آپ پر حرام ہو گئی ہے، لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے، نیز طلاق واقع ہونے کے لیے بیوی کا سامنے ہونا ضروری نہیں۔
درمختار مع ردالمحتار (427/4) میں ہے:
(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ………..(ولو عبدا أو مكرها) فإن طلاقه صحيح لا إقراره بالطلاق.
و في الشامية تحته: وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية.
درمختار مع ردالمحتار (4/509) میں ہے:
كرر لفظ الطلاق وقع الكل.
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق.
بدائع الصنائع (3/295) میں ہے:
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله – عز وجل – {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: ٢٣٠] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved