• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مسجد کی تعمیر کے بعد مسجد کی چھت پر امام کے لئے کمرہ بنانا

استفتاء

مسجد کی چھت پر امام کے لئے رہائشی کمرہ بنانا کیسا ہے؟ مسجد دو تین سال سے بنی ہوئی ہے، کمرہ مسجد کے اوپر ابھی بنایا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد مسجد کی چھت پر امام کے لئے کمرہ بنانا جائز نہیں، لہذا  مسجد کی چھت پر امام کے لئے  جوکمرہ بنایا  گیا ہے وہ کمرہ شرعی مسجد میں داخل ہوگا اور شرعی مسجد کے احکامات اس پر جاری ہوں گے، مثلا بلا ضرورت اس کمرے میں سونے سے پرہیز کیا جائے ، جنبی شخص اس کمرے میں داخل نہ ہو وغیرہ۔

البحر الرائق (421/5)میں ہے:

لو جعل مسجدا، ثم أراد أن يبنى فوقه بيتا للإمام أو غيره، هل له ذالك؟ قلت: قال في التاتارخانية: إذا بنى غرفة وهو فى يده، فله ذالك وإن كان حين بناه خلى بينه وبين الناس، ثم جاء بعد ذالك يبنى، لا يتركه. إذا قال: عنيت ذالك، فإنه لا يصدق.

درمختارمع ردالمحتار (6/549)میں ہے:

فرع: لو بنى فوقه بيتا للإمام لا يضر لإنه من المصالح، أما لو تمت المسجدية ثم أراد البناء منع ولو قال عنيت ذالك لم يصدق.

وفي الشامية تحت قوله: (أو جعل فوقه بيتا إلخ) ظاهره أنه لا فرق بين أن يكون البيت للمسجد أو لا، إلا أنه يؤخذ من التعليل أن محل عدم كونه مسجدا فيما إذا لم يكن وقفا على مصالح المسجد، وبه صرح فى الاسعاف فقال: وإذا كان السرداب أو العلو لمصالح المسجد أو كانا وقفا عليه صار مسجدا اه‍. شرنبلالية.

قال فى البحر: حاصله: أن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى: {وأن المساجد لله} اه‍..

فتاوی محمودیہ (14/564)میں ہے:

سوال: ایک مسجد سہ منزلہ ہے، اس میں امام اور مؤذن کے رہنے کی کوئی جگہ نہیں ہے، نیز مسجد کے احاطہ میں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے کہ جہاں امام اور مؤذن کے لئے کمرے برائے رہائش بنائے جا سکیں۔ ایسی صورت میں مسجد کے کم حصہ یا پوری چھت پر کمرہ یا کمرے برائے دینی مدرسہ ورہائش طلباء بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب: اجازت نہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved