- فتوی نمبر: 26-163
- تاریخ: 05 جولائی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
STC بیرون ملک سے میڈیکل لیبارٹری سے متعلق سامان (مشین اور کیمیکل وغیرہ) گورنمنٹ اور پرائیویٹ اداروں کو امپورٹ کرکے دیتی ہے۔
گورنمنٹ اداروں کو سامان دینے کے لئے STC ٹینڈر میں حصہ لیتی ہے، گورنمنٹ نے جب کسی چیز کی خریداری کرنی ہوتی ہے تو گورنمنٹ اخبار کے ذریعے اس کا اعلان کرتی ہے کہ کون یہ چیز سب سے کم ریٹ پردے گا، اس اعلان میں گورنمنٹ اس چیز کی خصوصیات بھی ذکر کرتی ہے، یعنی گورنمنٹ مختلف کمپنیوں کو بولی (Bidding) کی دعوت دیتی ہے۔ اس بولی میں شرکت کی پانچ سو سے پانچ ہزار تک ناقابل واپسی فیس ہوتی ہے اس فیس کے بدلے حکومت کی طرف سے ٹینڈر کے متعلق ضروری معلومات پر مبنی ایک دستاویز دی جاتی ہے، اس کے بعد بہت سی کمپنیاں اپنے اپنے نام سے بولی دیتی ہیں یعنی یہ کہتی ہیں کہ ہم یہ چیز اتنے روپے میں مہیا کر دیں گے، بولی دینے کے دو طریقے ہوتے ہیں خفیہ بولی (Close Bidding) اور اعلانیہ بولی (Open Bidding) خفیہ بولی میں ہر کمپنی ایک خط (Letter) کے ذریعے گورنمنٹ کو بولی دیتی ہے جس کے بارے میں کوئی دوسری کمپنی نہیں جانتی اور اس طریقہ میں گورنمنٹ کسی بھی کمپنی کو بلا کر اس سے دوبارہ بولی لیتی ہے جبکہ اعلانیہ بولی میں دوسروں کو بھی معلوم ہوتا ہے کہ فلاں کمپنی نے کیا بولی دی ہے اور اس طریقہ میں گورنمنٹ کسی کمپنی سے دوبارہ بولی نہیں لیتی بولی کے بعد جن کمپنیوں کے نام بولی نکل آئے ان کو ٹیکنیکل طور پر جانچا جاتا ہے پھر جو کمپنی ان مراحل میں پاس ہوجائے اس کو ٹینڈر دیا جاتا ہے۔ ٹینڈر میں شرکت کی مذکورہ صورتوں اور طریقہ کار کا شرعا کیا حکم ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
STC کے لیے ٹینڈر میں حصہ لینا اور شرکت کی فیس ادا کرنا جائز ہے۔
نوٹ: مذکورہ فتوے کا تعلق صرف فیس ادا کرنے کی حد تک ہے باقی رہی یہ بات کہ ٹینڈر جاری کرنے والی کمپنی کا یہ فیس واپس نہ کرنا جائز ہے یا نہیں تو چونکہ یہ STC کا مسئلہ نہیں اس لیے اس مسئلہ کو زیر بحث نہیں لایا گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved