- فتوی نمبر: 26-170
- تاریخ: 05 جولائی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > سود
استفتاء
مسئلہ یہ ہے کہ بھٹہ میں کام کرنے والامزدور طبقہ جو کہ کچی اینٹیں بناتا ہے ان کی روزانہ کی مزدوری ایک ہزار ہے مالک جو بھٹہ چلارہا ہے اگر ایڈوانس میں ان کو اس شرط پر ایک لاکھ روپے دے یا مزدور طبقہ خود سے ایڈوانس ایک لاکھ روپے لے پھر روزانہ کی مزدوری ایک ہزار کےبجائے 8سولے تو یہ سود کے زمرے میں تو نہیں آتا ؟ تفصیل سےفرق بتادیجیے ۔
وضاحت مطلوب ہے کہ:یہ ایک لاکھ بطور قرض ہوگا؟ اور کیا اس کی واپسی الگ ہوگی اور اجرت کا معاملہ الگ ہوگا؟ یا یہ ایک لاکھ اجرت میں ہی کٹتا رہے گا؟
جواب وضاحت: یہ ایک لاکھ اجرت میں سے کٹتا رہے گا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت سود کی ہے کیونکہ بھٹے والاایک لاکھ روپے قرض دے کرمقروض سے یومیہ 200روپے کافائدہ اٹھارہاہے جو کہ سود ہے۔البتہ متبادل صورت یہ ہو سکتی ہے کہ مزدور کی یومیہ مزدوری 800روپے مقرر کرکے جتنے دنوں کے ایک لاکھ روپے بنتے ہیں اتنے دنوں کی مزدوری ایڈوانس (پیشگی )دیدی جائے اس صورت میں مزدور کو یومیہ مزدوری نہیں ملے گی۔
توجیہ: بھٹے والا جو ایک لاکھ روپے ایڈوانس دیتا ہے یا مزدور طبقہ ایک لاکھ روپے ایڈوانس دیتا ہے اس کی حیثیت قرض کی ہے نہ کہ ایڈوانس اجرت کی۔ کیونکہ ایک تو عرف میں اس رقم کو قرض سمجھا جاتا ہے اور دوسرے خود عاقدین(بھٹے والا اور مزدور طبقہ) اسے قرض سمجھتا ہے اور تیسرے اگر اسے ایڈوانس اجرت پر محمول کریں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ 800روپے یومیہ مزدوری کے لحاظ سے 125دن کا اجارہ ہوگیا ہے جس کی اجرت ایڈوانس دے دی گئی ہے لہٰذا کوئی ایک فریق کسی قابل اعتبار عذر کے بغیر 125دن سے پہلے اس اجارے کو ختم نہیں کر سکتا حالانکہ فریقین نہ تو عملاً اس کی پابندی کرتے ہیں اور نہ ہی ان کے ذہنوں میں اس کا تصور ہوتا ہے کہ وہ 120 دن تک کے لیے ایک دوسرے کے پابند ہوگئے ہیں لہٰذا مذکورہ ایڈوانس کو اجرت پر محمول کرنا درست نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved