- فتوی نمبر: 26-172
- تاریخ: 05 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > طہارت > غسل کا بیان
استفتاء
اگر بندہ خواب دیکھے اور احتلام ہوجائے لیکن منی کا اخراج نہ ہو تو اس صورت میں غسل فرض ہو جائے گا یا نہیں؟ہوا ایسے کہ میں نے خواب دیکھا اور احتلام ہونے کے قریب ہی تھا تو میں نیند سے جاگ گیا تو منی کا اخراج نہیں ہوا البتہ جب میں کچھ دیر کے بعد واش روم گیا تو کچھ مادہ کا اخراج ہوا اب اس مادہ کو منی سمجھا جائے یا مذی یا ودی ؟اور اس صورت میں غسل فرض ہوگا یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے کہ کتنی دیر بعد واش روم گئے تھے ؟
جواب وضاحت :تقریباً 20 یا 22 قدم چل کر واش روم گیا تھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں غسل لازم ہوگا۔
حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح(صفحہ نمبر:99) میں ہے:
فيجب الغسل إتفاقا فيما إذا تيقن أنه مني تذكر إحتلاما أو لا وكذا فيما إذا تيقن أنه مذي وتذكر الإحتلام أو شك أنه مني أو مذي أو شك أنه مني أو شك أنه مذي أو ودي وتذكر الإحتلام في الكل۔
امداد الفتاویٰ (82/1) میں ہے:
سوال :اگر کوئی شخص بیدار ہوا اور اُس کو خواب یاد ہے پس حالت بیداری میں اُس کے بستر پر سے اُٹھنے سے پہلے بیدار ہونے کے دو یا تین منٹ بعد اُس کو تری معلوم ہوئی جس کو وہ مذی سمجھتا ہے تو اُس پر یہ خیال کرکے کہ شاید یہ منی رُک گئی ہو جواب نکلی ہے غسل واجب ہوگا یا اُس کو خیال نہیں کرنا چاہئے بلکہ یہ دیکھنا چاہئے کہ دفق وشہوت کے ساتھ نکلی ہے یا کس طرح؟
الجواب : جزئیہ تو دیکھا نہیں مگر قواعد سے غسل واجب ہونا چاہئے کیونکہ خواب کا یاد ہونا علامت اس کی ہے کہ یہ یا منی ہے یا مذی اور دونوں کا احتمال خروج موجب غسل ہے اور دفق وشہوت کی شرط ہونے کا یہ مطلب ہے کہ انفصال عن المقر کے وقت شہوت ہو گو خروج کے وقت نہ ہو اور اگر کوئی عارض مانع نہ ہو تو دفق بھی ہو اور یہاں ممکن ہے کہ انفصال کے وقت شہوت ہو اور دفعۃً آنکھ کُھلنے سے رُک گئی ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved