• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر کے بیٹے کا ماں کے پہلے شوہر کی بیٹی سے نکاح کا حکم

استفتاء

ایک بچی کی امی نے دوسری شادی کی تو دوسرے شوہر کی   پہلی بیوی سے بیٹے کی شادی اس بچی سے ہوسکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

جب دونوں کے ماں باپ الگ ہوں تو شادی ہوسکتی ہے۔

البحر الرائق (3/105) میں ہے:

ولا بأس أن يتزوج الرجل امرأة ويتزوج ابنه أمها أو بنتها؛ ‌لأنه ‌لا ‌مانع، وقد تزوج محمد بن الحنفية امرأة وزوج ابنه بنتها

ہندیہ (1/288) میں ہے:

لا بأس ‌بأن ‌يتزوج ‌الرجل امرأة ويتزوج ابنه ابنتها أو أمها، كذا في محيط السرخسي

فتاوی دارالعلوم  دیوبند (7/141) میں ہے:

 سوال : جب کہ ایک مسماۃ نے پہلے خاوند کیا اور اس سے دختر یافرزند تولد ہوئے اور اتفاق سے پہلا خاوند گزر گیا اور وہ مسماۃ بیوی نے دوسرا خاوند کر لیا اس صورت میں پہلے خاوند کی دختر سے دوسرے خاوند کے فرزند کا نکاح جائز ہو سکتا ہے یا نہیں؟

 جواب : دوسرے شوہر کا فرزند اگر اس کی دوسری زوجہ سے ہو یعنی اس بیوہ سے نہ ہو جس نے اب اس سے نکاح کیا ہے تو زوجہ منکوحہ کی دختر از شوہر سابق کا نکاح شوہر ثانی کے فرزند  اززوجہ سابقہ سے صحیح ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved