- فتوی نمبر: 36-27
- تاریخ: 06 جولائی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > شادی بیاہ سے متعلق مسائل
استفتاء
دولہا اپنی شادی کے موقع پر مہندی لگا سکتا ہے ؟ یہ سنت کے طریقہ پر ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
نہیں، سنت کے خلاف ہے اور ناجائز ہے۔
مرقاۃ المفاتیح (7/2828) میں ہے:
وأما خضب اليدين والرجلين، فيستحب في حق النساء ويحرم في حق الرجال إلا للتداوي
شامی (6/422) میں ہے:
(قوله خضاب شعره ولحيته) لا يديه ورجليه فإنه مكروه للتشبه بالنساء
شرح المشکاۃ للطیبی (9/2936) میں ہے:
وعنها، قالت: أومت امرأة من وراء ستر، بيدها كتاب إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقبض النبي صلى الله عليه وسلم يده. فقال: (ما أدرى أيد رجل أم يد امرأة؟)
قالت: بل يد امرأة. قال: (لو كنت امرأة لغيرت أظفارك) يعني بالحناء. رواه أبو داود، والنسائي.
(لو كنت امرأة لغيرت أظفارك). وفيه بيان كراهية خضاب الكفين للرجال تشبيهاً بالنساء
قوله: (لو كنت امرأة) أي لو كنت تراعين شعار النساء لخضبت يدك
کشف المناہج والتناقیح، محمد بن ابراہیم المناوی،ت: ۸۰۳ھ (4/70) میں ہے:
قالت: أومأت امرأة من وراء ستر، بيدها كتاب إلى رسول الله – صلى الله عليه وسلم فقبض النبي صلى الله عليه وسلم يده! فقال: ما أدري أيد رجل؟ أم يد امرأة؟ قالت: بل امرأة قال: “لو كنت امرأة لغيرت أظفارك” يعني: بالحناء.
قلت: “رواه أبو داود في الترجل والنسائي في الزينة كلاهما من حديث عائشة وسكت عليه أبو داود.
قال بعضهم: خضاب اليد مندوب إليه للنساء ليكون فرقًا بين أكفهن وأكف الرجال، وهو حرام على الرجال من غير عذر، ومن فعل ذلك كان متشبهًا بالنساء فهو داخل في الوعيد الوارد في المتشبهين
فتاویٰ محمودیہ ( 11 / 192 ) میں ہے
سوال :شادی سے کچھ دن پہلے لڑکے کو مہندی لگاتے ہیں اور ابٹن لگاتے ہیں اس کا حکم بیان کریں ۔
الجواب :یہ کوئی شرعی چیز نہیں قابل ترک رسم ہے اس میں عورتوں کے ساتھ تشبہ ہے جس کی ممانعت آئی ہے۔
فتاوی مفتی محمود ( 10 / 280 ) میں ہے :
سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلے میں کہ مہندی پاؤں پر لگانا ٹھیک ہے کہ نہیں؟
جواب: سر اور داڑھی پر مہندی لگانا مردوں کے لیے کم از کم مباح تو ضرور ہے لیکن ہاتھوں اور قدموں پر مہندی لگانا مردوں کے لیے جائز نہیں بلکہ مردوں اور لڑکوں کو مہندی کا استعمال ہاتھوں اور قدموں میں مکروہ ہے کہ اس میں تزین ہے جو کہ مردوں کے لیے جائز نہیں ہے۔
آپ کے مسائل اور ان کا حل ( 6 / 419 ) میں ہے :
سوال : لڑکے کی شادی ہو یا لڑکی کی ایک رسم ہوتی ہے جسے مہندی کی رسم کہتے ہیں میں نے سنا ہے کہ مردوں کو مہندی لگانا جائز نہیں ہے ؟ ہاتھوں اور پیروں پر اس بات کی وضاحت کر دیں کہ لڑکے کو مہندی ہاتھوں اور پیروں پر شادی میں لگانا چاہیے یا نہیں؟
جواب : مہندی لگانا عورتوں کا کام ہے اور عورتوں کی مشابہت کرنے والے مردوں پر اللہ تعالی نے لعنت فرمائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved