• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زندگی میں وراثت تقسیم کرنے کا طریقہ کار

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ:

1۔ میری تین بیٹیاں ہیں اور ہم میاں بیوی سمیت کل پانچ افراد ہیں۔ اگر میں اپنی زندگی ہی میں اپنی جائیداد اور وراثت تقسیم کرنا چاہوں تو شرعی اعتبار سے اس کی تقسیم کس طریقے سے ہوگی؟

2۔ نیز اگر میری وفات کے بعد میری میراث تقسیم کی جائے تو اس وقت شرعی اصولوں کے مطابق میری جائیداد کن وارثوں میں اور کس تناسب سے تقسیم ہوگی؟

براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس مسئلے کی شرعی رہنمائی فرمائیں۔

وضاحت مطلوب ہے: 1۔ آپ کے والدین یا بہن بھائی حیات ہیں؟ 2۔ صرف انہی پانچ افراد میں ہی کیوں تقسیم کرنا چاہتے ہیں؟ بھائیوں وغیرہ کو محروم کرنے کی نیت تو نہیں؟

جواب وضاحت: 1۔ والدین فوت ہوچکے ہیں، تین بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ 2۔ بہن بھائیوں کو محروم کرنے کی نیت نہیں ہے بس اس لیے تقسیم کرنا چاہتا ہوں کہ بعد میں بیوی اور  بیٹیوں کو مشکلات  نہ ہوں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔زندگی میں جائیداد تقسیم کرنے کا افضل طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنے لیے جتنا رکھنا چاہیں رکھ لیں باقی جائیداد میں سے بیوی کو آٹھواں حصہ دیں اس کے بعد جو باقی بچے وہ اپنی اولاد  میں برابر  تقسیم کر دیں  اور اگر کسی معقول وجہ سے اپنی اولاد میں سے کسی کو کم و بیش دینا چاہیں تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

2۔آپ کے مرنے کے بعد  اگر یہی ورثاء  ہوئے تو وراثت تقسیم کرنے کا طریقہ یہ ہوگا کہ کل  ترکہ کے (576) حصے کیے جائیں گے جن میں سے آپ کی بیوی کو 72 حصے(12.5فیصد)  اور تین بیٹیوں میں سے ہر ایک بیٹی کو 128 حصے (22.22فیصد فی کس) اور تین بھائیوں میں سے ہر ایک بھائی کو 30 حصے (5.20فیصد فی کس) اور دو بہنوں میں سے ہر ایک بہن کو 15 حصے (2.60فیصد فی کس) دیے جائیں گے۔

صورت تقسیم  درج ذیل ہے:

24×24=576

بیوی3 بیٹیاں3 بھائی2 بہنیں
8/13/2عصبہ
3165
3×2416×245×24
72384120
72128+128+12830+30+3015+15

البنایہ شرح الہدایہ (3/282) میں ہے:

‌يتصرف ‌المالك في ملكه كيف شاء

شامی (4/444) میں ہے:

ورد ‌في ‌الحديث ‌أنه  صلى الله عليه وسلم قال «سووا بين أولادكم في العطية ولو كنت مؤثرا أحدا لآثرت النساء على الرجال» رواه سعيد في سننه وفي صحيح مسلم من حديث النعمان بن بشير «اتقوا الله واعدلوا في أولادكم» فالعدل من حقوق الأولاد في العطايا والوقف عطية فيسوي بين الذكر والأنثى، لأنهم فسروا العدل في الأولاد بالتسوية في العطايا حال الحياة. وفي الخانية ولو وهب شيئا لأولاده في الصحة، وأراد تفضيل البعض على البعض روي عن أبي حنيفة لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل في الدين وإن كانوا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف أنه لا بأس به إذا لم يقصد الإضرار وإلا سوى بينهم وعليه الفتوى

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved