- فتوی نمبر: 36-30
- تاریخ: 06 جولائی 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > اخلاق و آداب
استفتاء
1۔گھر میں جائے نماز ہوتی ہے نماز سے فارغ ہونے کے بعد اسے آگے سے یا دائیں، بائیں سے موڑ کر رکھنا ضروری ہوتا ہے یا ایسے ہی پڑی رہنی چاہیے جبکہ گھر میں اور کسی نے نماز پڑھنی ہوتی ہےاس کے لیے رکھ دی جاتی ہے۔
2۔گھر میں بیسن میں جو برتن پڑے ہوتے ہیں دھلنے کے لیے کیا برتن کے اوپر ہاتھ دھو سکتے ہیں؟ مثلاً کھانا کھانے سے پہلے ہاتھ دھوئے جاتے ہیں۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔شرعا ً جائے نماز موڑنا ضروری نہیں ہے ۔
2۔شرعی ممانعت نہیں ہے لیکن چونکہ اس کو معاشرے میں ناپسند سمجھا جاتا ہے اس لیے اس سےاحتیاط کرنی چاہیے اور ایسا کرنا مناسب نہیں ہے۔
توجیہ: عام طور پر بیسن میں جو برتن رکھے ہوتے ہیں چونکہ اکثر ایسے برتن ہوتے ہیں جن میں کھانا کھایا ہوتا ہے اور کھانا کھائے ہوئے برتن میں ہاتھ دھونے کو چونکہ عرف میں ناپسندیدہ سمجھا جاتا ہے لہذا اس سے بچنا چاہیے۔
الآداب الشرعیہ والمنح المرعیہ (3/223) میں ہے:
ولا يكره غسل اليدين في الإناء الذي أكل فيه؛ لأن النبي – صلى الله عليه وسلم – فعله وقد نص أحمد على ذلك قال: ولم يزل العلماء يفعلون ذلك ونحن نفعله وإنما ينكره العامة
آپ کے مسائل اور ان کا حل (3/347 ) میں ہے:
سوال : تنہا نماز پڑھنے کے بعد نمازی جائے نماز یا مصلے کے دائیں طرف سے اوپر کا حصہ تھوڑا سا موڑ دیتے ہیں عام تاویل یہ ہے کہ اگر پوری جائے نماز کو اسی طرح بچھا ہوا رہنے دیا جائے تو شیطان اس پر نماز پڑھنے لگتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟
جواب: شیطان کی نماز پڑھنے کی بات غلط ہے مسجد میں تو 24 گھنٹے صفیں بچھی رہتی ہیں ۔
سوال: بعض جگہوں پر دیکھنے میں آیا ہے کہ نماز کی ادائیگی کے بعد بچھی ہوئی جائے نماز کا ایک کونا موڑ دیا جاتا ہے کیا یہ کسی روایت سے ثابت ہے؟
جواب : نماز پڑھ کر جائے نماز کا کونا پلٹنا محض ایک رواج ہے ضرورت ہو تو اسے تہہ کر دینا چاہیے…..الخ
شمائل کبریٰ (ص: 30)میں ہے :
جس برتن میں کھانا کھایا ہو اس میں ہاتھ دھونا بے ادبی ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved