- فتوی نمبر: 36-31
- تاریخ: 06 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > غصہ کی حالت میں دی گئی طلاق
استفتاء
السلام علیکم مفتی صاحب، میں نے کچھ دن پہلے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، وہ میری اجازت کے بغیر میری کزن کی شادی میں جا رہی تھی، میں بار بار روکتا رہا، منع کرتا رہا لیکن وہ نہیں رکی جب وہ گھر کے گیٹ سے باہر نکلی تو پھر میرا کنٹرول ختم ہونے لگا۔ میں نے پھر سے بولا کہ میری برداشت ختم ہو رہی ہے، واپس آ جائیں۔ جب وہ جانے لگی تو میرے ہاتھ میں موبائل تھا، میں نے پھینک دیا، گیٹ کو زور کی ٹانگ ماری۔ اس کے بعد مجھے کوئی ہوش نہیں رہا، میں نے کیا بولا اور کیا نہیں، پھر جب اندر سے امی آئیں تو وہ مجھے اندر لے جانے لگیں تو میں نے انہیں بھی برا بھلا بول دیا اور ہاتھ اٹھانے تک کی نوبت آ گئی، حالانکہ کبھی زندگی میں میں نے امی کے ساتھ ایسا نہیں کیا۔ اور میرا پورا جسم کانپ رہا تھا، آنکھوں کے آگے اندھیرا آ گیا تھا ۔ پھر میں واش روم میں آیا، منہ دھونے لگا تو میری بیوی رونے لگی۔ انہوں نے امی کو بتایا کہ انہوں نے 8-9 بار طلاق کہہ دی ہے۔ پھر مجھے ہوش آیا اور پھر مجھے بہت افسوس ہوا کہ یہ کیا بول دیا۔ میری بیوی اب قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہہ رہی ہے کہ اس نے مجھے 3 طلاق دے دی ہیں، براہ کرم اس بارے میں بتائیں کہ کیا طلاق ہو گئی ہے؟
وضاحت مطلوب ہے :1۔بیوی سے معاملہ کی تصدیق کے لیے اس کا نمبر درکار ہے ۔2۔والدہ سے معاملہ کی تصدیق کے لیے ان کا نمبر درکار ہے ۔
جواب وضاحت: 1۔بیوی جس علاقے میں رہتی ہے وہاں سگنل نہیں آتے اس لیے اس سے رابطہ ممکن نہیں البتہ شوہر نے ان میسجز کے سکرین شاٹ بھیجے جو بیوی نے اپنے بھائی کو معاملہ کی صورتحال بتانے کے لیے کیے تھے وہ درج ذیل ہیں :
“میں کشمیر جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی چونکہ وہ اس وقت سو رہے تھے، اس لیے میں نے ان سے پوچھے بغیر تیاری کر لی۔ جب وہ بیدار ہوئے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ کہاں جا رہی ہو ، میں نے جواب میں کہا کہ جہاں میری مرضی ہو، آپ کو کیا مسئلہ ہے۔ یہ بات میں نے بطورِ مذاق کہی تھی۔ اس کے بعد جب میں گھر کے گیٹ سے باہر نکلی تو وہ مجھے مسلسل روکنے کی کوشش کرتے رہے ، اسی دوران جب وہ باہر نکلے تو انہوں نے پیچھے سے آواز دی کہ میری برداشت کی حد نہ آزماؤ اور واپس آ جاؤ۔ جب میں نہ رکی تو انہوں نے کہا کہ اگر اب تم گئی تو میں تمہیں طلاق دے دوں گا۔ میں نے یہ سمجھا کہ وہ محض مذاق کر رہے ہیں، اس لیے میں نے اس بات کو سنجیدگی سے نہ لیا۔
اس کے بعد وہ خود باہر آئے اور میرا بازو پکڑ کر مجھے واپس لے جانے لگے۔ میں نے اپنا بازو چھڑوا لیا اور ان سے کہا کہ میرے راستے سے ہٹ جائیں۔ اس پر انہوں اپنے ہاتھ میں موجود موبائل فون میری طرف زور سے پھینک دیا، جس سے وہ مکمل طور پر ٹوٹ گیا۔ پھر امی ہمارے درمیان آ گئیں۔ انہوں نے امی سے بھی سخت لہجے میں کہا کہ میری نظروں سے دور ہو جائیں ورنہ میں مار دوں گا۔ اس دوران انہوں نے مجھے پہلی مرتبہ گالی دی اور پھر طلاق کے الفاظ بار بار دہرائے، یعنی “طلاق، طلاق” کہا۔ تقریباً انہوں نے یہ الفاظ دس بارہ مرتبہ کہے۔ بعد ازاں جب انہیں سب اندر لے جانے لگے اور باہر لوگ جمع ہو گئے تو امی نے انہیں پکڑا مگر انہوں نے امی کو بھی دھکا دے دیا”
2۔والدہ نے بھی شوہر کے بیان کی تصدیق کی ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر واقعتاً صورتحال ایسی تھی جیسی سوال میں مذکور ہے تو مذکورہ صورت میں طلاق واقع نہیں ہوئی۔
توجیہ : طلاق دیتے وقت اگر شوہر کو اتنا شدید غصہ ہو کہ اس سے خلاف عادت اقوال و افعال صادر ہونے لگیں تو غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ہوتی۔چونکہ سائل کے بقول مذکورہ صورت میں بھی طلاق دیتے وقت شوہر سے خلاف عادت اقوال و افعال (موبائل پھینکنا، دروازے کو ٹانگ مارنا، والدہ کو برا بھلا کہنا اور ان پر ہاتھ اٹھانا ) صادر ہوئے ہیں لہذا مذکورہ صورت میں دی گئی طلاق معتبر نہیں ۔
رد المحتار(4/439) میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله.
الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله. اه……………
(وبعد اسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved