• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تراویح میں ختم قرآن سنانے پر اجرت لینے کاحکم

استفتاء

کیاتراویح میں ختم قرآن سنانے  پر کوئی رقم لینا جائز ہے یا نہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

تراویح پر اجرت طے کر کے لینا جائزنہیں ہے اور اگر زبانی طے نہ کیا جائے لیکن عرف و رواج ایسا ہو کہ زبانی طے کئے بغیر بھی لینا دیناطے سمجھا جاتا ہویعنی  اگر مسجد  والے کچھ نہ دیں تو تراویح پڑھانے والا  تراویح پڑھانے پر آمادہ نہ ہو تو اس صورت میں بھی ناجائز ہے  البتہ اگر نہ زبانی طے کیا ہو، نہ عرف میں طے سمجھا جاتا ہو  اورتراویح پڑھانے والا کچھ نہ ملنے کی صورت میں بھی بخوشی  تراویح  پڑھانے پر  آمادہ ہو اور مسجد والے پھربھی  اپنی خوشی سے کچھ دے دیں تو لینے کی گنجائش ہے کیونکہ  یہ صورت  اجرت کی نہیں بلکہ  مسجد والوں  کی طرف سے تراویح پڑھانے والے کے اکرام کی ہے۔

رد المحتار (2/644)میں ہے:

وأن القراءة لشيء من الدنيا لا تجوز وأن الآخذ والمعطي آثمان لأن ذلك يشبه الاستئجار على القراءة ونفس الاستئجار عليها لا يجوز فكذا ما أشبهه كما صرح بذلك في عدة كتب من مشاهير كتب المذهب وإنما أفتى المتأخرون بجواز الاستئجار على تعليم القرآن لا على التلاوة وعللوه بالضرورة وهي خوف ضياع القرآن ولا ضرورة في جواز الاستئجار على التلاوة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved