• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

بیوی کی خود کشی کی دھمکی کی وجہ سے سادہ کاغذ پر طلاق لکھنے کا حکم

استفتاء

شوہر کا بیان:

میرا نام زید ہے کچھ عرصہ قبل میں نے دوسری شادی کی، جب میری پہلی بیوی کو پتہ چلا کہ میں نے دوسری شادی کی ہے تو وہ برداشت نہ کرسکی، میری پہلی بیوی ذہنی مریضہ ہے اس لیے اس کا ردعمل بہت خطرناک تھا اور اس نے خودکشی کی کوشش بھی کی، اس کی ذہنی حالت بہت خراب تھی اور اس نے کئی بار مجھے یہ دھمکی دی کہ اگر میں نے اسے (یعنی پہلی بیوی کو) طلاق نہ دی تو وہ خود کشی کر لے گی، میں خود بھی بلڈ پریشر کا مریض ہوں اس لیے میں نے بہت مجبوری میں سادہ کاغذ پر تین مرتبہ طلاق لکھ دی جس کے الفاظ یہ تھے کہ “راحیلہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں،طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں” میری نیت طلاق کی نہیں تھی، میں نے زبان سے طلاق کے الفاظ نہیں کہے تھے، صرف اس کی خودکشی کے ڈر سے مجبورا طلاق لکھی تھی، اب مجھے بھی اور اس کو بھی بہت پچھتاوا ہے اور ہم رجوع کرنا چاہتے ہیں ، راہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟

بیوی کا بیان:

میں ہائی بلڈ پریشر کی مریضہ ہوں، میں ڈیپریشن کی گولیاں ریگولر کھاتی ہوں، میں نے اپنے شوہر پر بہت دباؤ ڈالا کہ مجھے طلاق دے دو، یہ بھی کہا تھا کہ طلاق نہ دی تو میں خود کشی کر لوں گی، دباؤ میں آ کر انہوں نے سادہ کاغذ پر طلاق لکھ دی جو ساتھ لف ہے، میں دوبار خود کشی کی کوشش بھی کر چکی ہوں، مجھے 15 دن سائیکاٹری (دماغی امراض) کے وارڈ میں بھی داخل کیا گیا تھا، اب میں بہت پریشان ہوں، مجھے کسی صورت میں بھی اپنے شوہر کی جدائی قبول نہیں، راہنمائی فرمائیں کہ مذکورہ صورت میں طلاق واقع ہو گئی ہے یا نہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتا آپ   کی بیوی   نے آپ کو خود کشی کی دھمکی دی تھی اور آپ کو بھی غالب گمان تھا کہ اگر آپ نے طلاق لکھ کر نہ دی تو آپ کی بیوی خود کشی کر لے گی،   اس لیے آپ نے دباؤ میں آ کر سادہ کاغذ پر طلاق لکھ دی، اور آپ کی طلاق کی نیت بالکل نہ تھی تو  آپ کی بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ بیوی نے شوہر کو خود کشی کی دھمکی دی تھی اور بیوی کی خود کشی کی دھمکی کی وجہ سے رضا معدوم ہو جاتی ہے، لہذا اگر شوہر کو بھی غالب گمان تھا کہ اگر اس  نے طلاق لکھ کر نہ دی تو اس کی بیوی خود کشی کر لے گی تو اکراہ ثابت ہو گیا اور مکرہ کی تحریری طلاق واقع نہیں ہوتی۔

درمختار مع ردالمحتار (427/4) میں ہے:

(ويقع طلاق كل زوج بالغ عاقل) ………..(ولو عبدا أو مكرها)

و في الشامية تحته: وفي البحر أن المراد الإكراه على التلفظ بالطلاق، فلو أكره على أن يكتب طلاق امرأته فكتب لا تطلق لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة هنا، كذا في الخانية.

عالمگیری (379/1) میں ہے:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته كذا في فتاوى قاضى خان.

درمختار مع ردالمحتار  (217/9) میں ہے:

الإكراه (هو لغة حمل الإنسان على) شيء يكرهه وشرعا (فعل يوجد من المكره فيحدث في المحل معنى يصير به مدفوعا إلى الفعل الذي طلب منه) وهو نوعان تام وهو الملجئ بتلف نفس أو عضو أو ضرب مبرح وإلا فناقص وهو غير الملجئ. (وشرطه) أربعة أمور: (قدرة المكره على إيقاع ما هدد به سلطانا أو لصا) أو نحوه (و) الثاني (خوف المكره) بالفتح (إيقاعه) أي إيقاع ما هدد به (في الحال) بغلبة ظنه ليصير ملجأ (و) الثالث: (كون الشيء المكره به متلفا نفسا أو عضوا أو موجبا غما يعدم الرضا) وهذا أدنى مراتبه وهو يختلف باختلاف الأشخاص فإن الأشراف يغمون بكلام خشن، والأراذل ربما لا يغمون إلا بالضرب المبرح ابن كمال (و) الرابع: (كون المكره ممتنعا عما أكره عليه قبله) إما (لحقه) كبيع ماله (أو لحق) شخص (آخر) كإتلاف مال الغير (أو لحق الشرع)

شامی (217/9) میں ہے:

(قوله: أو حبس) أي حبس نفسه قال الزيلعي: والإكراه بحبس الوالدين أو الأولاد لا يعد إكراها لأنه ليس بملجئ ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه اهـ لكن في الشرنبلالية عن المبسوط: أنه قياس وفي الاستحسان حبس الأب إكراه وذكر الطوري أن المعتمد أنه لا فرق بين حبس الوالدين والولد في وجه الاستحسان زاد القهستاني: أو غيرهم: من ذوي رحم محرم وعزاه للمبسوط.

البحرالرائق (129/8) میں ہے:

والإكراه بحبس الوالدين والأولاد لا يعد إكراها لأنه ليس بإكراه ولا يعدم الرضا بخلاف حبس نفسه وفي المحيط، ولو أكره بحبس ابنه أو عبده على أن يبيع عبده أو يهبه ففعل فهو إكراه استحسانا، وكذا في الإقرار ووجهه أن الإنسان يتضرر بحبس ابنه أو عبده ألا ترى أنه لا يؤثر حبس نفسه على حبس ولده فإن قلت بهذا نفى الأول قلنا لا فرق بين الوالدين والولد في وجه الاستحسان وهو المعتمد كما لا فرق بينهما في وجه القياس.

مبسوط سرخسی میں (143/24) ہے:

ولو قيل له: لتقتلن ابنك هذا، أو أباك، أو لتبيعن عبدك هذا بألف درهم، فباعه، فالقياس أن البيع جائز لأنه ليس بمكره على البيع، فالمكره من يهدد بشيء في نفسه، ولكنه استحسن، فقال: البيع باطل؛ لأن البيع يعتمد تمام الرضا، وبما هدد به ينعدم رضاه، فالإنسان لا يكون راضيا عادة بقتل أبيه، أو ابنه، ثم هذا يلحق الهم، والحزن به، فيكون بمنزلة الإكراه بالحبس، والإكراه بالحبس يمنع نفوذ البيع، والإقرار، والهبة والعقود التي تحتمل الفسخ، فكذلك الإكراه بقتل ابنه وكذلك التهديد بقتل ذي رحم محرم؛ لأن القرابة المتأيدة بالمحرمية بمنزلة الولادة في حكم الإحياء بدليل أنها توجب العتق عند الدخول في ملكه.

ولو قيل له: لنحبسن أباك في السجن، أو لتبيعن هذا الرجل عبدك بألف درهم، ففعل، ففي القياس البيع جائز. لما بينا أن هذا ليس بإكراه، فإنه لم يهدد بشيء في نفسه، وحبس ابنه في السجن لا يلحق ضررا به والتهديد به لا يمنع صحة بيعه، وإقراره، وهبته، وكذلك في حق كل ذي رحم محرم، وفي الاستحسان ذلك إكراه كله ولا ينفذ شيء من هذه التصرفات؛ لأن حبس ابنه يلحق به من الحزن ما يلحق به حبس نفسه، أو أكثر فالولد إذا كان بارا يسعى في تخليص أبيه من السجن، وإن كان يعلم أنه يحبس، وربما يدخل السجن مختارا، ويحبس مكان أبيه ليخرج أبوه، فكما أن التهديد بالحبس في حقه يعدم تمام الرضا، فكذلك التهديد بحبس أبيه، والله أعلم.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved