• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

طلاق کے دو نوٹس بھیجنے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے اپنی بیوی کو ایک مہینے کے وقفے سے یکے بعد دیگرے طلاق کے دو نوٹس  بھیجے تھے، دونوں نوٹس پڑھنے کے بعد میں نے دستخط کیے تھے، تیسرا نوٹس نہیں بنوایا تھا، جس کے بعد میری بیوی نے عدالت سے خلع لے لیا، خلع کے   پیپرز پر میں نے بھی دستخط کیے تھے لیکن مجھے معلوم نہیں تھا کہ خلع کیا ہوتا ہے،   میں نے آباد کاری کا کیس کیا تھا اور ہم  دونوں میاں بیوی صلح پر رضا مند تھے لیکن آپس میں شرطیں طے کرنے میں زیادہ وقت گزر گیا اور شرطیں طے نہیں ہو سکیں  تو عدالت نے خلع  جاری کردیا، خلع کا فیصلہ طلاق کے ایک سال بعد ہوا تھا،  اس کے بعد میں نے دوسری شادی کر لی ہے، اب میری پہلی بیوی بھی آنا چاہتی ہے مہربانی فرماکر راہنمائی فرمائیں کہ وہ دوبارہ میرے ساتھ رہ سکتی ہے یا نہیں؟

بیوی کے چچا (وزیر علی) کا بیان:

 لڑکی کے چچا سے رابطہ کیا گیا تو اس نے یہ بیان دیا کہ ’’فی الحال راشد سے صلح کی بات طے نہیں ہوئی لیکن ہماری بات چیت چل رہی ہے، اگر اس نے شرائط مان لیں تو ہم صلح کر لیں گے، راشد نے طلاق کے دو نوٹس بھیجے تھے اس کے ایک سال بعد خلع کی ڈگری جاری ہوئی تھی، خلع کی ڈگری جاری ہونے سے پہلے لڑکی کی عدت گزر چکی تھی۔

پہلے نوٹس کی عبارت:

’’منکہ مسمی زید ولد خالد قوم ***سکنہ***کا رہائشی و سکونتی ہوں، من مقرر اقرار کرتا ہے کہ من مقر کا عقد نکاح بمطابق شریعت محمدی عرصہ ڈیڑھ سال قبل ہمراہ مسماۃ زینب دختر بکر قوم ***سکنہ ****ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ من مقر نوٹس طلاق اول رجعی ارسال کر رہا ہوں، مسماۃ مذکوریہ  اندر اندر ایک ماہ بخانہ مقر آباد ہو جائے اور حقوق زوجیت ادا کرے، بصورت دیگر نوٹس طلاق بائن ارسال کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ

المرقوم: 23-10-2018

دوسرے نوٹس کی عبارت:

’’منکہ مسمی زید ولد خالد قوم **سکنہ ***کا رہائشی و سکونتی ہوں، من مقرر اقرار کرتا ہے کہ من مقر کا عقد نکاح بمطابق شریعت محمدی عرصہ ڈیڑھ سال قبل ہمراہ مسماۃ زینب دختر بکر قوم **سکنہ ***ہوا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کہ من مقر نے نوٹس طلاق اول رجعی 23-10-2018 کو ارسال کیا مگر مسماۃ مذکوریہ بخانہ مقر آباد ہونے اور حقوق زوجیت ادا کرنے سے صاف انکاری ہے، یہ کہ من مقر نوٹس طلاق دوئم بائن ارسال کر رہا ہوں، مسماۃ مذکوریہ  اندر اندر ایک ماہ بخانہ مقر آباد ہو جائے اور حقوق زوجیت ادا کرے، بصورت دیگر نوٹس طلاق ثلاثہ آخری ارسال کر دیا جائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ

المرقوم: 14-11-2018

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر واقعتا شوہر نے طلاق کا تیسرا نوٹس نہیں بنوایا تھا تو مذکورہ صورت میں دو بائنہ طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہو گیا ہے، لہذا اگر میاں بیوی  اکٹھے رہنا چاہیں تو کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ دوبارہ نکاح کر کے  رہ سکتے ہیں۔

نوٹ: دوبارہ نکاح کرنے کے بعد شوہر کے پاس آئندہ صرف ایک طلاق کا حق باقی ہو گا۔

توجیہ: جب شوہر  پہلے نوٹس پر دستخط کیے تو نوٹس کے ان الفاظ سے کہ ’’ من مقر نوٹس طلاق اول رجعی ارسال کر رہا ہوں‘‘ ایک رجعی طلاق واقع ہو گئی، پھر عدت کے اندر جب شوہر نے دوسرے نوٹس پر دستخط کیے تو نوٹس کے ان الفاظ سے کہ ’’ من مقر نوٹس طلاق دوئم بائن ارسال کر رہا ہوں‘‘ دوسری بائنہ طلاق واقع ہو گئی اور نکاح ختم ہو گیا، کیونکہ بائنہ طلاق رجعی طلاق کو لاحق ہو جاتی ہے، اس کے بعد خلع کے کاغذات پر شوہر کے دستخط کرنے کی وجہ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی کیونکہ خلع ہونے کے لیے منجملہ دیگر شرائط کے بیوی کا نکاح یا طلاق رجعی کی عدت میں ہونا بھی شرط ہے جبکہ مذکورہ صورت میں خلع کے وقت بیوی کی عدت گزر چکی تھی۔

فتاوی شامی (443/4) میں ہے:

وفي التتارخانية: ……. و لو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه

درمختار (4/528) میں ہے:

(الصريح يلحق الصريح و) يلحق (البائن) بشرط العدة (و البائن يلحق الصريح).

درمختار مع ردالمحتار (531/4) میں ہے:

(لا) يلحق البائن (البائن)

ومنها ما قدمناه من قول المنصوري وإن كان الطلاق رجعيا يلحقها الكنايات، لأن ملك النكاح باق؛ فتقييده بالرجعي دليل على أن الصريح البائن لا يلحقه الكنايات؛ وكذا تعليله دليل على ذلك.ومنها ما في التتارخانية قبيل الفصل السادس: ولو طلقها على مال أو خلعها بعد الطلاق الرجعي يصح، ولو طلقها بمال ثم خلعها في العدة لا يصح. اهـ

درمختار (5/42) میں ہے:

(وينكح) مبانته بما دون الثلاث في العدة وبعدها بالإجماع.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved