- فتوی نمبر: 36-47
- تاریخ: 09 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > روزہ و رمضان > قضاء روزوں کا بیان
استفتاء
کسی خاتون نے ذوالحجہ کے دنوں میں چند روزے رکھے پہلا روزہ رکھنے سے پہلے وہ اس سوچ میں مبتلا تھی کہ ذوالحجہ کا روزہ رکھوں یا اس میں قضا روزے کی بھی نیت کر لوں لیکن ابھی ارادہ مکمل نہیں ہوا تھا اور عین سحری کے وقت ارادہ پختہ کرنا بھول گئی اور اس نے روزہ رکھ لیا تو یہ ذوالحجہ کا ہی شمار ہوگا یا قضا کا بھی ہو جائے گا ۔
اس کے بعد ذوالحجہ کا دوسرا روزہ رکھا اور اس میں ارادہ کر لیا کہ کہ اب جو بھی ذوالحجہ کے روزے رکھوں گی اس میں قضا کی نیت رکھوں گی امید ہے دونوں کا ثواب مل جائے لیکن پھر جب تیسرا اور چوتھا روزہ رکھا تو آخری وقت پر نیت دہرانا بھول گئی ذوالحجہ کی فضیلت کی وجہ سے ہی روزہ رکھا تھا پھر روزہ رکھنے کے بعد خیال آیا کہ میں تو نیت دہرانا بھول گئی تو جو باقی کے روزے ہیں وہ ذوالحجہ کے ہوئے یا قضا کے بھی ہو گئے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
قضا روزوں میں ہر روزے کے لیے علیحدہ نیت کا ہونا ضروری ہے لہٰذا مذکورہ صورت میں چونکہ پہلے تیسرے اور چوتھے روزے میں قضاء کی نیت حتمی نہیں تھی اس لیے پہلا ، تیسرا اور چوتھا روزہ ذوالحجہ کا ہوا اور دوسرے روزے میں قضا اور ذوالحجہ دونوں کی نیت کی تھی اور دونوں کی نیت کی صورت میں قضا روزہ ہو جائے گا ، الحاصل مذکورہ صورت میں صرف دوسرا روزہ قضاء کا شمار ہوگا باقی روزے ذوالحجہ کے شمار ہوں گے۔
ہندیہ (1/198) میں ہے:
ووقت النية كل يوم بعد غروب الشمس، ولا يجوز قبله كذا في محيط السرخسي ولو نوى قبل أن تغيب الشمس أن يكون صائما غدا ثم نام أو أغمي عليه أو غفل حتى زالت الشمس من الغد لم يجز، وإن نوى بعد غروب الشمس جاز كذا في الخلاصة
الدر المختار مع ردالمحتار (3/393) میں ہے:
(فيصح) أداء (صوم رمضان والنذر المعين والنفل بنية من الليل)
وفي الشامية: (والشرط للباقي) من الصيام قران النية للفجر ولو حكما وهو (تبييت النية) للضرورة (وتعيينها) لعدم تعين الوقت.
ہندیہ (1/197) میں ہے:
وإذا نوى قضاء بعض رمضان، والتطوع يقع عن رمضان في قول أبي يوسف رحمه الله تعالى ، وهو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى كذا في الذخيرة
فتاویٰ قاضیخان (1/179) میں ہے:
ولو نوى قضاء رمضان والتطوع كان عن القضاء في قول أبي يوسف رحمه الله تعالى لأنه أقوى، وعند محمد رحمه الله تعالى يقع عن التطوع لأن النيتين قد تدافعتا فبقي مطلق النية فيقع عن التطوع ولأبي يوسف رحمه الله تعالى ما قلنا ولأن نية التطوع للتطوع غير محتاج إليها فلغت فبقيت نية القضاء فتقع عن القضاء، ولو نوى قضاء رمضان وكفارة الظهار كان عن القضاء استحساناً، وفي قياس يكون تطوعاً وهو قول محمد رحمه الله تعالى لأن النيتين قد تدافعتا فصار كأنه صام مطلقاً وجه الاستحسان أن القضاء أقوى لأنه حق الله تعالى
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved