- فتوی نمبر: 26-186
- تاریخ: 18 جولائی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > متفرقات مالی معاملات
استفتاء
میں OGDCL میں کام کرتا ہوں۔ OGDCL ایک نیم سرکاری ادارہ ہے جوکہ اپنے سارے اخراجات خود اٹھاتا ہے اور گورنمنٹ کو ٹیکس ادا کرتا ہے۔ اپنے ملازمین کی تمام تنخواہیں خود ادا کرتا ہے۔ OGDCL اپنے ملازمین کو مختلف نوعیت کے قرضے بلا سود فراہم کرتا ہے۔ مثلاً ہاؤس بلڈنگ لون یعنی گھر بنانے کیلئے قرضہ اور کنوینس لون یعنی گاڑی کے لیے قرضہ۔
اب چونکہ OGDCL بہت بڑا ادارہ ہے اور بہت سے ملازمین قرض کی اس سہولت کو حاصل کرتے ہیں تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی ملازم کی دوران ملازمت موت واقع ہوجاتی ہے تو چونکہ ملازم کے ذمہ قرض کی رقم واجب الادا ہوتی ہے تو اس کے لیے OGDCL نے ایک بینک اکاؤنٹ یا فنڈ بنایا ہوا ہے کہ جو بھی بندہ قرض لیتا ہے تو اُسے کچھ اضافی رقم اس فنڈ میں بھی دینی ہوتی ہے تاکہ خدانخواستہ کسی ملازم کی دوران ملازمت موت کی صورت میں اس کے ذمہ واجب الادا قرض اس فنڈ سے ادا ہو سکے اور فوت شدہ ملازم کے بقایا جات میں سے کوئی کٹوتی نہ کی جائے تاکہ اس کی فیملی پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ چونکہ بہت سے لوگ قرض لیتے ہیں اور کافی رقم بن جاتی ہے تو کمپنی یہ تمام رقم اپنے پاس سے ادا نہیں کرسکتی، اس لیے یہ فنڈ ترتیب دیا گیا ہے کہ فوت ہونے والے کا قرض بھی ادا ہوجائے اور اس کی فیملی پر بوجھ بھی نہ پڑے اور کمپنی کا قرض بھی ادا ہوجائے۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ قرض کے علاوہ جو کچھ اضافی رقم اس فنڈ کے لیے لی جاتی ہے تو کیا اس طرح یہ قرض لینا جائز ہے اس میں کوئی قباحت تو نہیں؟ کیونکہ ویسے یہ قرض بلاسود ہے۔ اس ضمن میں رہنمائی درکار ہے۔
تنقیحات: 1۔اس فنڈ سے سب ملازمین کویکساں فائدہ ہوتا ہے کیونکہ کسی بھی ملازم کی موت کی صورت میں اس کے ذمے واجب الادا سب قرض ادا ہوجاتا ہے یا دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ہر ملازم کا قرض انشورڈ ہوجاتا ہے اور کسی بھی ملازم کی موت کی صورت میں اس کا سارا قرض ادا ہوجاتا ہے اور قرض اس کے گھر والوں کو ادا نہیں کرنا پڑتا تاکہ ان پر بوجھ نہ پڑے۔
2۔اس فنڈ میں صرف وہ لوگ پیسے جمع کرواتے ہیں جو قرض لیتے ہیں اور بعد میں یہ پیسے واپس نہیں کیے جاتے۔
3۔کمپنی کے ملازمین کو یہ بات بتائی جاتی ہے کہ ملازم(مستقرض)کی وفات کی صورت میں اس کی فیملی سے کچھ
بھی نہیں لیا جاتا بلکہ کمپنی خود ہی اس کا قرضہ برداشت کر تی ہےچاہے فنڈ میں رقم کم پڑ جائے۔
4۔اگر کبھی ایسا ہو کہ سب قرضہ لینے والے اپنا قرضہ ادا کر دیں اور کسی کا بھی اس دوران انتقال نہ ہو تو اس صورت میں بھی فنڈ میں جمع کروائی ہوئی رقم واپس نہیں ملتی بلکہ آگے چلتی رہتی ہے۔
5۔اس فنڈ میں جو رقم جمع ہوتی ہے وہ اسی کام میں استعمال ہوتی ہے کمپنی اس کو اور کسی کام میں استعمال نہیں کرتی۔
6۔فنڈ میں جو رقم جمع کروانی ہوتی ہے وہ قرض کے حساب سے مختلف ہوتی ہے یعنی جس نے زیادہ قرض لینا ہوتا ہے وہ زیادہ رقم جمع کرواتا ہے اور جس نے کم قرض لینا ہوتا ہے وہ کم کرواتا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں یہ فنڈ بنانا جائز نہیں اور چونکہ کمپنی سے قرض لینا بھی اس فنڈ میں رقم جمع کروانے کے ساتھ مشروط ہے اس لیئے اس طرح قرض لینا بھی جائز نہیں۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں ملازمین اس امید پر فنڈ میں رقم جمع کرواتے ہیں کہ اس سے ان کے قرض کی ادائیگی ہو جائے گی اوراس فنڈ سے فائدہ بھی وہی ملازم اٹھاتا ہے جو اس میں رقم جمع کرواتا ہے اور قرض کے کم زیادہ ہونے سے اس فنڈ میں جمع کروائی جانے والی رقم بھی کم زیادہ ہوتی ہے اس لیئے ملازمین کا کمپنی کے ساتھ یہ معاملہ عقد معاوضہ ہے ۔اور چونکہ اس میں ہر فرد کی جمع کروائی ہوئی رقم سے یا تو دوسرے نفع اٹھا لیتے ہیں یا ان کی رقم سے یہ نفع اٹھا لیتا ہے اس لیئے یہ عقد قماراور سود پر مبنی ہونے کی وجہ سے نا جائز ہے۔ مزید تفصیل کیلئے ’’جدید معاشی مسائل کی اسلامائیزیشن کا شرعی جائزہ (ڈاکٹر مفتی عبد الواحد صاحبؒ) صفحہ 177 تا 240 ‘‘ دیکھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved