• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تین طلاق کے بعد اہلحدیث سے فتوی لینا

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری بچی کا نام زینب ہے اور شوہر کا نام زید ہے۔ لڑکے کی والدہ لڑکے کی شادی اپنی کسی رشتہ دار سے کروانا چاہتی تھی ، لڑکے نے مورخہ 22/1/10سے تین سال قبل لڑکی کی  ماں کےسامنے تین مرتبہ لڑکی کے والدین کے گھر  آکر کہا کہ میں اسے اپنے گھر نہیں رکھنا چاہتا ”میں نے اسے طلاق طلاق طلاق دے دی ہے” اس واقعہ کو تقریباً تین سال گزرچکے ہیں اور ایک بچہ  بھی ہےجو تقریباً چھ، سات سال کا  ہے۔ اب وہ غیر مقلدین کے کسی ادارے سے فتوی لے کر آیا ہے کہ یہ ایک ہی طلاق ہوئی ہے، لہٰذا لڑکی کو میرے حوالےکردیں یا آپ کسی اور سے فتوی لے کر دکھا دیں برائے مہربانی رہنمائی فرمادیں کہ   ایک طلاق ہوئی یا تینوں واقع ہوچکی ہیں؟

نوٹ: لڑکی نے مذکورہ صورت حال کی تصدیق کی ہے،  اور لڑکی والوں نے لڑکے کا جونمبر دیا ہے اس پر رابطہ نہیں ہورہا  اور ان کے پاس اس کے علاوہ لڑکے کا کوئی نمبر نہیں ہے لہٰذا مشروط جواب لکھا جارہا ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر نے  یہ الفاظ کہے تھے کہ” میں نے اسے طلاق طلاق طلاق دے دی ہے “توبیوی کے حق میں اسی وقت تینوں طلاقیں واقع ہوگئی تھیں  جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی تھی۔ لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتاہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔

توجیہ: مذکورہ الفاظ اگرچہ اقرارِطلاق ہیں انشاء طلاق نہیں لیکن چونکہ اقرارِطلاق خواہ جھوٹا ہی ہو اس سے بیوی کے حق میں شوہر کی نیت کے بغیر بھی قضاءً طلاق واقع ہوجاتی ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں بیوی کے حق تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔

نوٹ: تین طلاقیں چاہے اکٹھی دی جائیں یا الگ الگ دی جائیں بہر صورت تین ہی  واقع ہوتی ہیں۔ جمہور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، وتابعین اور ائمہ اربعہ رحمہم اللہ کا یہی مذہب ہے۔

فتاوی شامی(4/428) میں ہے:

ولو أقر بالطلاق كاذبا أو هازلا وقع قضاء لا ديانة. اهـ. ويأتي تمامه۔۔۔(أو هازلا) لا يقصد حقيقة كلامه۔۔۔ (قوله أو هازلا) أي فيقع قضاء وديانة كما يذكره الشارح، وبه صرح في الخلاصة معللا بأنه مكابر باللفظ فيستحق التغليظ، وكذا في البزازية.

ابوداؤد(2/962) میں ہے:

عن نافع عن ابن عمرقال…………. أما أنت طلقتها ثلاثا فقد عصيت ربك فيما أمرك به من طلاق امرأتك وبانت منك.

ترجمہ: “نافع  ؒ سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر ؓ نے(اکٹھی تین طلاقیں دینے والے سے کہا) تم نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دی ہیں تو بیوی کو طلاق دینے کے بارے میں جوتمہارے رب کا حکم (بتایا ہواطریقہ) ہے اس میں تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے جداہوگئی”

عن مجاهد قال كنت عند ابن عباس فجاء رجل فقال إنه طلق امرأته ثلاثا قال: فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه.

ثم قال:ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول يا ابن عباس يا ابن عباس وإن الله قال (ومن يتق الله يجعل له مخرجا) وإنك لم تتق الله فلم أجد لك مخرجا عصيت ربك وبانت منك امرأتك.

ترجمہ: حضرت مجاہد  ؒ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ کے پاس  بیٹھاتھا اتنے میں ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا  کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دیدی ہیں تو(کیا گنجائش ہے اس پر) حضرت عبداللہ بن عباسؓ یہ سن کر خاموش ہو گئے کہ مجھے گمان ہوا کہ(حضرت کوئی صورت سوچ کر) شاید اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے  پھر آپ نے فرمایاکہ تم میں سے ایک شخص کھڑا ہوتا ہے اور حماقت پر سوار ہو جاتا ہے پھر نادم ہوتا ہے اور کہتا ہے۔ اے ابن عباس اے ابن عباس (کوئی راہ نکالئیے کی دہائی دینے لگتا ہے) حالانکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے :ومن يتق الله يجعل له مخرجا، ترجمہ (جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرے  اللہ اس کےلیے خلاصی کی راہ نکالتے ہیں)تم نے اللہ سے خوف نہیں کیا  (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے  دیں جو کہ گناہ کی بات ہے )تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا (اکٹھی تین طلاقیں دے کر) اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی ۔

چنانچہ عمدۃ القاری(232/1) میں ہے:

ومذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم منهم الأوزاعي والنخعي والثوري وأبو حنيفة وأصحابه ومالك وأصحابه ومالك وأصحابه والشافعي وأصحابه وأحمد وأصحابه وإسحاق وأبو ثور وأبو عبيد وآخرون كثيرون عل أن من طلق امرأته ثلاثا وقعن ولكنه يأثم

مرقاۃالمفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح(293/6) میں ہے:

قال النووي اختلفوا فيمن قال لامرأته أنت طالق ثلاثا فقال مالك والشافعي وأبو حنيفة وأحمد والجمهور من السلف والخلف يقع ثلاثا.

وفيه ايضا:وذهب جمعور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث.(330/3)

فتاوی شامی(4/509) میں ہے:

قوله ( كرر لفظ الطلاق ) بأن قال للمدخولة أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق وإذا قال أنت طالق ثم قيل له ما قلت فقال قد طلقتها أو قلت هي طالق فهي طالق واحدة لأنه جواب

بدائع الصنائع (295/3) میں ہے:

وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر لقوله عز وجل { فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره } وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة

احسن الفتاوی(199/5)میں ہے :

“…..حاصل یہ ہے کہ تین طلاقوں کے بعد کسی غیر مقلد سے فتویٰ لینا باجماع ِ امت حرام ہے اور خود غیر مقلدین کے امام حافظ ابن تیمیہ اس کی حرمت پر اجماع امت کے قائل ہیں ،غیر مقلد سے فتویٰ لینے سے بیوی حلال نہیں ہوتی ،یہ مرد اور عورت دونوں عمر بھر بدکاری کے گناہ میں مبتلارہیں گے ،عذاب آخرت کے علاوہ دنیوی وبال الگ ،اہل اثر مسلمانوں پر فرض ہے کہ ان میں تفریق کرائیں ،اور جب تک وہ اس حرام کاری سے باز نہیں آتے ان کے ساتھ کسی قسم کا کوئی تعلق نہ رکھیں،ورنہ دنیوی وبال واخروی عذاب میں ان کے ساتھ وہ سب لوگ بھی شریک ہونگے جو اُن سے قطع تعلق نہیں کرتے،اور ان کو حرام کاری سے روکنے کی کوشش نہیں کرتے”   

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved