- فتوی نمبر: 36-74
- تاریخ: 21 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حضانت اور پرورش کا بیان
استفتاء
جب بیوہ عورت دوسری جگہ شادی کرتی ہے تو کیا اس کا حقِ پروش اپنے پہلے شوہر کے بچوں پر رہتا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: کس جگہ شادی کرنا چاہتی ہے؟ رشتہ داروں میں یا غیروں میں؟
جواب وضاحت: غیر ہیں، خونی رشتہ کوئی نہیں ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں عورت کو حقِ پرورش حاصل نہ ہوگا۔
شامی (5/259) میں ہے:
(تثبت للأم) النسبية (ولو) كتابية، أو مجوسية أو (بعد الفرقة) (إلا أن تكون مرتدة) فحتى تسلم لأنها تحبس ………. (أو متزوجة بغير محرم) الصغير.
مجمع الانہر (1/480) میں ہے:
(الأم أحق بحضانة ولدها قبل الفرقة وبعدها) ………. ومن نكحت غير محرمه سقط حقها لا من نكحت محرمه كأم نكحت عمه و جدة نكحت جده ويعود الحق بزوال نكاح سقط به.
(ومن نكحت غير محرمه) أي محرم الولد ممن لها حق الحضانة (سقط حقها) بالإجماع وينتقل إلى من بعدها لقوله – عليه الصلاة والسلام – «أنت أحق به ما لم تتزوجي» ؛ ولأن الأجنبي ينظر إليه شزرا أي نظر البغيض ويعطيه نزرا أي قليلا ولهذا قال في القنية ولو تزوجت الأم بزوج آخر وتمسك الصغير معها أم الأم في بيت غير الأب فللأب أن يأخذه منها فعلى هذا تسقط الحضانة
کفایت المفتی (6/428) میں ہے:
سوال: زید نے انتقال کیا، مال و اسباب وغیرہ چھوڑا دو بچے چھوڑے ایک لڑکا بعمر 7 سال اور ایک لڑکی بعمر 9 سال عورت نے بعد گزر جانے عدت کے غیر محرم سے نکاح کر لیا اور دونوں بچوں کے وارث تایا چچا زندہ ہیں وہ دونوں بچوں کو لینا چاہتے ہیں۔
جواب: بچوں کی ماں نے جب کے بچوں کے غیر محرم سے نکاح کر لیا ہے تو اس کا حق حضانت ساقط ہوگیا،اور لڑکے کی عمر سات سال کی ہو گئی تو وہ حد حضانت سے نکل گیا لہذا لڑکا تو چچا یا تایا کو پرورش اور نگرانی کے لیے مل جائے گا۔رہی لڑکی جس کی عمر نو سال کی ہے تو وہ بلوغ تک نانی کے پاس رہ سکتی ہے بشرطیکہ نانی اس کی تعلیم و تربیت اچھی طرح کر سکے اور اس کے چال چلن کی طرف اعتماد ہو ورنہ وہ بھی چچا یا تایا کو مل جائے گی۔
مسائل بہشتی زیور (2/441) میں ہے:
اگر ماں نے کسی ایسے مرد سے نکاح کر لیا جو بچے کا محرم رشتہ دار نہیں تو اب اس بچے کی پرورش کا حق ماں کو نہیں رہا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved