• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

معمولی مقدار میں حلق سے پانی آنے کی صورت میں بغیر کلی کیے نماز پڑھنے کا حکما

استفتاء

جیسا کہ معمولی مقدار میں  اگر حلق سے منہ میں پانی آئے تو وہ ناقص وضو نہیں ہوتا تو سوال یہ ہے کہ کیا ایسا ہو جائے تو اس کے بعد اگر  کوئی بغیر کلی کیے نماز پڑھ لے تو نماز  پر کوئی فرق تو نہیں پڑے گا  یعنی وہ حلق سے آنے والا پانی پاک ہوگا یا ناپاک؟ اور  منہ کی ناپاکی اور پاکی کا کیا حکم ہوگا؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں منہ پاک رہے گا۔لہذا اگر بغیر کلی کے نماز پڑھ لی جائے تو نماز ہو جائے گی۔

توجیہ: جو قے منہ بھر کرنہ ہو وہ بمنزلہ لعاب کے ہوتی ہے،اس سے وضو نہیں ٹوٹتا،مذکورہ صورت میں بھی چونکہ حلق سے معمولی مقدار میں پانی آتا ہے اس لیے مذکورہ پانی ناقض وضو نہیں،جب مذکورہ پانی ناقض  وضو نہیں تو نجس بھی نہیں کیونکہ جو قے ناقض وضو نہیں ہوتی وہ نجس بھی  نہیں ہوتی  اور جب مذکورہ پانی نجس نہیں تو کلی کرنا ضروری نہیں،لہذا مذکورہ صورت میں اگر بغیر کلی کیے نماز پڑھ لی جائے تو جائز ہے۔

المبسوط للسرخسی (1/195) میں ہے:

إن قلس أقل من ملء الفم ثم رجع ‌فدخل ‌جوفه وهو لا يملكه فهذا بمنزلة ريقه، ألا ترى أنه لا ينقض وضوءه فكذلك لا يفسد صلاته.

شرح مختصر الطحاوی للجصاص (1/372) میں ہے:

‌إنما ‌اعتبرنا ‌في القيء ملء الفم، من قبل أنه قد ثبت أن يسير ما يخرج من هناك لا تنتقض به الطهارة هو الجشاء.

بدائع الصنائع (1/61) میں ہے:

(وأما) الدم الذي يكون على رأس الجرح والقيء إذا كان أقل من ملء الفم، فقد روي عن أبي يوسف أنه ليس بنجس وهو قياس ما ذكره الكرخي، لأنه لا يجب بخروجه الوضوء.

تبیین الحقائق (1/28) میں ہے:

قال رحمه الله (‌لا ‌ما ‌لم ‌يكن ‌حدثا) أي ما يخرج من بدن الإنسان إذا لم يكن حدثا لا يكون نجسا كالقيء القليل والدم إذا لم يسل.

البحر الرائق (1/242) میں ہے:

‌كل ‌ما ‌يخرج ‌من ‌بدن الإنسان مما يوجب خروجه الوضوء أو الغسل فهو مغلظ كالغائط والبول والمني والمذي والودي والقيح والصديد والقيء إذا ملأ الفم، أما ما دونه فطاهر على الصحيح.

ہندیہ (1/11) میں ہے:

‌ما ‌يخرج ‌من ‌بدن الإنسان إذا لم يكن حدثا لا يكون نجسا كالقيء القليل والدم.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved