• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا

استفتاء

ایک شخص کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔باپ کی ملکیت میں چار دکانیں ہیں۔بیٹا تقریبا تین سال سے باپ کے ساتھ دکان پر بیٹھتا ہے۔اب باپ جس دکان پر بیٹھتا ہے وہ بیٹے کے نام کر کے اس کی ملکیت میں دینا چاہتا ہے اور بقیہ پراپرٹی کو اسی طرح رہنے دینا چاہتا ہےاور مزید جگہ خرید کر بیٹے کے نام کرنے کا ارادہ ہے۔باپ کا ایسا کرنا شرعا کیسا ہے؟جبکہ بیٹیاں بھی باپ کے اس فعل پر راضی ہیں۔ اور سب بالغ ہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

والد اگر بقیہ پراپرٹی میں بیٹیوں کے لئے بھی  معقول حصہ چھوڑ رہا ہے اور بیٹے کو محنت یا  خدمت  کی وجہ سے زیادہ دے رہا ہے اور بیٹیاں راضی بھی ہیں تو اس کی گنجائش ہے۔

تکملہ فتح الملہم (2/71) میں ہے:

أن الوالد إن وهب لأحد أبنائه هبة أكثر من غيره اتفاقا، أو بسبب علمه، أو عمله، أو بره بالوالدين، من غير أن يقصد بذلك إضرار الآخرين، ولا الجور عليهم، كان جائزا على قول الجمهور،وهو محمل آثار الشيخين.

شامی (8/583) میں ہے:

وفي الخانية ‌لا ‌بأس ‌بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار

ہندیہ (4/391) میں ہے:

(الباب السادس في الهبة للصغير) . ‌ولو ‌وهب ‌رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة – رحمه الله تعالى – أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى  أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية. ‌رجل ‌وهب ‌في ‌صحته كل المال للولد جاز في القضاء ويكون آثما فيما صنع

مسائل بہشتی زیور (2/336) میں ہے:

جو چیز ہو اپنی اولاد کو برابر برابر دینا چاہیے۔لڑکا لڑکی سب کو برابر دے۔اگر کبھی کسی کو کسی وجہ سے مثلا اس کے دینداری،خدمت گزاری،دینی خدمات میں مشغولیت اور تنگدستی وغیرہ سے کچھ زیادہ دے دیا تو بھی خیر کچھ حرج نہیں لیکن جسے کم دیا اس کو نقصان دینا مقصود نہ ہو،نہیں تو کم دینا درست نہیں ہے۔البتہ دوسروں کو نقصان دینے کے غرض سے ہی کسی کو زیادہ دیا یا سارا دے دیا تو وہ  ہبہ نافذ ہو جائے گا لیکن باپ گنہگار ہوگا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved