• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عورت کا زیرِ ناف بال ریزر یا استرے سے صاف کرنے کا حکم

استفتاء

کیا عورت اپنے زیرِ ناف بال ریزر یا استرے وغیرہ سے صاف کرسکتی ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

کرسکتی ہے۔

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح (ص:527)میں ہے:

والسنة في حلق العانة أن يكون بالموسى لأنه يقوي وأصل السنة يتأدى بكل مزيل لحصول المقصود وهو النظافة وإنما جاء الحديث بلفظ الحلق لأنه الأغلب وسواء في ذلك الرجل والمرأة وقال النووي الأولى في حقه الحلق وفي حقها النتف.

شامی (6/ 406)میں ہے:

(قوله ويستحب حلق عانته) قال في الهندية ويبتدئ من تحت السرة ولو عالج بالنورة يجوز كذا في الغرائب وفي الأشباه والسنة في عانة المرأة النتف.

فتاوٰی محمودیہ(19/313)میں ہے:

سوال:باڈی جو عورتیں اپنے پستان پر لگاتی ہیں جائز ہے یا نہیں؟موئے زیرِ ناف اگر استرے سے لینا چاہے تو لے سکتی ہے کہ نہیں۔۔۔؟

جواب:پستان کی حفاظت کے لیے سینہ بند کا استعمال درست ہے۔موئے زیرِ ناف اگر عورت استرہ سے بنائے تب بھی گناہ نہیں ہےمگر افضل یہ ہے کہ صابون وغیرہ سے  صفائی کرے۔۔۔الخ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved