- فتوی نمبر: 36-215
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > کفار اور گمراہ لوگوں سے معاملات
استفتاء
زید کہتا ہے کہ بخاری شریف میں سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے الفاظ ” امصص بظر اللات” سے کافروں کو گالی دینے کا جواز معلوم ہوتا ہے، کیا زید کی یہ بات درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
زید کی مذکورہ بات فی الجملہ درست ہے تاہم اس میں تھوڑی سی تفصیل ہے وہ یہ ہے کہ جو کافر حربی ہو اسے گالی دینا جائز ہے خصوصاً جبکہ وہ کوئی ایسی شرارت کرے جس کی وجہ سے وہ سب وشتم کا حقدار بنتا ہو اور جو کافر حربی نہ ہو اسے گالی دینا درست نہیں۔
توجیہ: مسلمانوں سے محاربہ کی وجہ سے جیسے کافر حربی کی جان ومال کو احترام حاصل نہیں ہوتا اسی طرح اس کی عزت کو بھی احترام حاصل نہیں ہوتا۔ جبکہ کافر ذمی کو چونکہ مسلمانوں سے معاہدہ کرنے کی وجہ سے اس کی جان اور مال کو تحفظ حاصل ہوتا ہے اس لیے جب تک وہ معاہدہ نہ توڑے اس کی عزت کو بھی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
صحيح البخاری (رقم الحدیث: 2581) میں ہے:
«…………..فقال عروة عند ذلك: أي محمد، أرأيت إن استأصلت أمر قومك، هل سمعت بأحد من العرب اجتاح أهله قبلك، وإن تكن الأخرى، فإني والله لأرى وجوها، وإني لأرى أشوابا من الناس خليقا أن يفروا ويدعوك، فقال له أبو بكر: امصص بظر اللات، أنحن نفر عنه وندعه؟ فقال: من ذا؟ قالوا: أبو بكر، قال: أما والذي نفسي بيده، لولا يد كانت لك عندي لم أجزك بها لأجبتك……..
ترجمہ: اس موقع پر عروہ نے کہا: اے محمد! ذرا یہ بتاؤ، اگر تم اپنی قوم کا مکمل خاتمہ کر دو، تو کیا تم نے عربوں میں کبھی کسی ایسے شخص کے بارے میں سنا ہے جس نے تم سے پہلے اپنی قوم اور اپنے لوگوں کو اس طرح تباہ کیا ہو؟ اور اگر معاملہ اس کے برعکس ہوا، تو اللہ کی قسم! میں ایسے چہرے دیکھ رہا ہوں، اور ایسے مختلف قسم کے لوگوں کے جتھے بھی دیکھ رہا ہوں جو غالباً تمہیں چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور تمہارا ساتھ چھوڑ دیں گے۔اس پر حضرت ابو بکرؓ نے اس سے کہا کہ لات کی شرم گاہ چوس! کیا ہم رسول اللہ ﷺ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے اور آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے؟اس نے پوچھا: یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا کہ ابو بکر ہیں۔
اس نے کہا:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر تمہارا ایک سابقہ احسان مجھ پر نہ ہوتا، جس کا بدلہ میں نے ابھی تک تمہیں نہیں دیا، تو میں تمہیں ضرور اس کا جواب دیتا۔
التوضيح لشرح الجامع الصحيح ، لابن الملقن،ت: ۸۰۴ھ (17/ 57) میں ہے:
«وقوله: (امصص بظر اللات) هو بفتح الصاد الأولى كما قيده الأصيلي وصوبه صاحب “المطالع” من مص يمص وهو أصل مطرد في المضاعف مفتوح الثاني، وفي رواية أبي الحسن بضمها، والأول أصح؛ لأن ماضيه مص.
قال ابن التين: وهي كلمة تقولها العرب عند المشاتمة والذم، تقول: ليمصص بظر أمه، واستعار أبو بكر ذلك في الكلام لتعظيمهم إياها.
والبظر: بالظاء المعجمة قبلها باء موحدة ثم راء. قال الداودي: هو فرج المرأة، وقال ابن التين: هو عند أهل اللغة ما يخفض من فرجها أي يقطع عند خفاضها.»
مصابيح الجامع لابن الدمامینی ،ت: ۸۲۷ھ (6/ 165)میں ہے:
«(امصص بظر اللات): هي كلمة تقولها العرب عند الذم والمشاتمة، تقول: ليمصص بظر أمه، فاستعار ذلك أبو بكر رضي الله عنه في اللات؛ لتعظيمهم إياها، وامصص: بفتح الصاد الأولى؛ لأن أصل ماضيه مصص؛ مثل: مس يمس، وكذلك هو مضبوط في رواية أبي ذر، وهو في رواية الشيخ أبي الحسن: بضمها.
قال الداودي: البظر: فرج المرأة.
قال السفاقسي: والذي عند أهل اللغة أن البظر ما يخفض من فرج المرأة؛ أي: يقع عند خفاضها.»
شرح صحيح البخاری ، لابن بطال (8/ 128) میں ہے:
(امصص بظر اللات) وهكذا يجب أن يجاوب من جفا على سروات الناس وأفاضلهم ورماهم بالفرار.
فتح الباری لابن حجر (5/ 340 ) میں ہے:
«وفيه جواز النطق بما يستبشع من الألفاظ لإرادة زجر من بدا منه ما يستحق به ذلك. وقال ابن المنير: في قول أبي بكر تخسيس للعدو وتكذيبهم وتعريض بإلزامهم من قولهم إن اللات بنت الله، تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا، بأنها لو كانت بنتا لكان لها ما يكون للإناث.»
نیل الاوطار للشوکانی (14/ 360) میں ہے:
«وفيه جواز النطق بما يستبشع من الألفاظ لإِرادة زجر من بدأ منه ما يستحقّ به ذلك.
البدر التمام شرح بلوغ المرام للمغربی، ت: ۱۱۱۹ھ (10/ 276) میں ہے:
«”سباب المسلم فسوق، وقتاله كفر”. متفق عليه .
قوله: “سِباب”. بكسر السين المهملة مصدر سبَّ، تقول: سبَّه سبًّا وسبابا. والسب في اللغة الشتم والتكلم في عرض الناس [بما] لا يعني الساب.
والفسوق مصدر فسق، يقال: فسقًا وفسوقًا. والفسق معناه لغةً الخروج، وشرعًا الخروج عن طاعة الله تعالى.
والحديث يَدُلُّ على تحريم سب المسلم بغير حق، وهو حرام بالإجماع، وفاعله فاسق.
وقوله: “المسلم”. ظاهره أنه يجوز سب الكافر، وأما مرتكب الكبيرة فهو داخل في معنى المسلم، وإن كان في عصر النبوة ظاهر حالهم السلامة من ارتكاب الكبيرة، فهو مراد به الإسلام الكامل، وذكر المسلم للتنويه بزيادة احترام المسلم، وإن كان الذمي كذلك لا يجوز سبه؛ لتحريم أذيته، وأما الحربي فيجوز؛ لأنه لا حرمة له»
سبل السلام شرح بلوغ المرام للصنعانی (8/ 225 ) میں ہے:
«وفي مفهوم قوله: “المسلم”، دليل على جواز سب الكافر، فإن كان معاهدا فهو أذية وقد نهي عن أذيته، فلا يعمل بالمفهوم في حقه، وإن كان حربيا جاز سبه إذ لا حرمة له،»
لامع الدراری (2/451) میں ہے :
قوله: بظر اللات قال الحافظ بفتح الموحدةوسكون المعجمة قطعة تبقى بعد الختان في فرج المرأة واللات اسم أحد الأصنام التي كانت قريش و ثقيف يعبدونها وكانت عادة العرب الشتم بذلك لكن بلفظ الام أي تقول ليمصص بظر أمه فأراد أبوبكر مبالغة في سب عروة باقامة من كان يعبد مقام امه وحمله على ذلك ما أغضبه من نسبة المسلمين الى الفرار وفيه جواز النطق بما يستبشع من الالفاظ لارادة زجر من بدا منه ما يستحق به ذلك
انعام الباری (7/396) میں ہے:
صدیق اکبر کی غیرت ایمانی اور دفاع صحابہ رضی اللہ عنہ
صدیق اکبر ؓسے یہ بات برداشت نہ ہوئی اور شاید ساری زندگی میں کسی کو ایسی سڑی ہوئی گالی نہ دی ہوگی ، فورا صدیق اکبر ؓنے کہا” امصص بظر الللات انحن نفر عنه وندعه ؟ “ یہ بڑی مغلظ گالی تھی ، کیونکہ اہل عرب میں بھی جو عامی قسم کے لوگ تھے وہ یہ گالی دیتے تھے لیکن وہ بھی اسطرح کہ امصص بظر امک.” بظر “شرم گاہ کے اندر ایک بوٹی ہوتی ہے جو ختنہ کے اندر رہ جاتی ہے اس کو بظر کہتے ہیں ۔ آج کل انگریزی میں اس کو کلائی ٹوریس (clitoris) کہتے ہیں اور “امصص “کے معنی ہیں “چوسو “
عام طور پر گالی دینے والے ماں کے لفظ کے ساتھ دیتے تھے کہ “امصص بظر امک” لیکن صدیق اکبرؓ نے اس کو اور زیادہ مغلظ کرنے کے لئے لات کی طرف منسوب کر کے گالی دی ۔
معلوم ہوا کہ جہاں جہاد ہو اور مشرکین کے ساتھ مقابلہ ہو اور جہاں مسلمانوں کی غیرت کو للکارا جائے تو ایسے موقعہ پر اس قسم کے الفاظ کے استعمال کی گنجائش ہے ورنہ صدیق اکبرؓ ہے جیسے نرم خو خلیق اور با ادب آدمی کے منہ سے ایسا برا کلمہ نکلنا بالکل ہی غیر معمولی بات ہے ، معلوم ہوا کہ اس موقعہ پر اس کی گنجائش ہے ۔ اور حضور اقدس ﷺ نے اس پر ٹوکا بھی نہیں کہ بھائی ایسی گالی کیوں دے رہے ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved