- فتوی نمبر: 36-211
- تاریخ: 20 ستمبر 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز میں قراءت کرنے کا بیان
استفتاء
کیا کوئی شخص انفرادی فرض اور نفل نماز میں قرآن پاک کی تلاوت بلند آواز سے کرسکتا ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
منفرد کو جہری نمازوں میں اور رات کے نوافل میں جہراً اور سرا ًقراءت کرنے میں اختیار ہے چاہے جہراً قراءت کرے چاہے سرا ًقراءت کرے جبکہ سری نمازوں میں اور دن کے نوافل میں ظاہر الروایہ اور نوادر الروایہ کے مطابق بالاتفاق سرا ًقرات کرنا واجب ہے البتہ سری نمازوں میں اور دن کے نوافل میں جہرا ً قراءت کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ اس بارے میں اختلاف ہے ظاہر الروایہ کے مطابق سجدہ سہو واجب نہ ہوگا جبکہ نوادر الروایہ کے مطابق سجدہ سہو واجب ہوگا لہذا احتیاطا سجدہ سہو کر لینا چاہیے۔
نوٹ: عصام بن ابی یوسف نے ظاہر الروایہ کے مطابق سجدہ سہو واجب نہ ہونے سے استدلال کرتے ہوئے منفرد کے لیے سری نمازوں میں سرا ًاور جہرا ًقراءت کرنے میں اختیار ثابت کیا ہے لیکن راجح اور صحیح قول یہی ہے کہ ظاہر الروایہ اور نوادر الروایہ دونوں کے مطابق بالاتفاق سراً قراءت کرنا واجب ہے نیز بعض حضرات نے ظاہر الروایہ اور نوادر الروایہ کے درمیان یو ں تطبیق کی ہے کہ اگر منفرد ایسی جگہ نماز پڑھ رہا ہو جہاں اور لوگ بھی نماز پڑھ رہے ہوں تو اس صورت میں جہرا ًقراءت کرنے سے سجدہ سہو واجب ہوگا جیسا کہ نوادر الروایہ میں ہے ورنہ سجدہ سہو واجب نہ ہوگا جیسا کہ ظاہر الروایہ میں ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اگر منفرد نماز میں اپنی حالت بھول جائے اور اپنے آپ کو امام سمجھ کر امام کی طرح جہرا ًقراءت کرے تو اس صورت میں اس پر سجدہ سہو واجب ہوگا ورنہ واجب نہ ہوگا تاہم اکثر کا قول وہی ہے جو پہلے مذکور ہوا یعنی بہر صورت احتیاطاً سجدہ سہو کرلینا چاہیے۔
توجیہ: ظاہر الروایہ کے مطابق منفرد پر سری نمازوں میں جہراً قراءت کرنے سے سجدہ سہو اس لیے واجب نہ ہوگا کہ سجدہ سہو تو معتد بہ نقصان کی تلافی کے لیے واجب ہوتا ہے اور منفرد کی سری نماز میں جہراً قراءت کرنے میں چونکہ اس درجے کا (معتد بہ) نقصان نہیں ہے کہ جس کی تلافی کے لیے سجدہ سہو واجب ہو اس لیے منفرد پر سجدہ سہو واجب نہ ہوگا۔
بدائع الصنائع (1/161) میں ہے:
وإن كان منفردا فإن كانت صلاة يخافت فيها بالقراءة خافت لا محالة، وهو رواية الأصل، وذكر أبو يوسف في الإملاء إن زاد على ما يسمع أذنيه فقد أساء.
وذكر عصام بن أبي يوسف في مختصره وأثبت له خيار الجهر والمخافتة، استدلالا بعدم وجوب السهو عليه إذا جهر، والصحيح رواية الأصل لقوله صلى الله عليه وسلم : «صلاة النهار عجماء من غير فصل» ؛ ولأن الإمام مع حاجته إلى إسماع غيره يخافت فالمنفرد أولى ولو جهر فيها بالقراءة فإن كان عامدا يكون مسيئا، كذا ذكر الكرخي في صلاته وإن كان ساهيا لا سهو عليه نص عليه في باب السهو بخلاف الإمام (والفرق) أن سجود السهو يجب لجبر النقصان، والنقصان في صلاة الإمام أكثر؛ لأن إساءته أبلغ؛ لأنه فعل شيئين نهي عنهما: أحدهما أنه رفع صوته في غير موضع الرفع، والثاني أنه أسمع من أمر بالإخفاء عنه، والمنفرد رفع صوته فقط فكان النقصان في صلاته أقل، وما وجب لجبر الأعلى لا يجب لجبر الأدنى
البحر الرائق (1/355) میں ہے:
وقد أفاد أن المتنفل بالنهار يجب عليه الإخفاء مطلقا والمتنفل بالليل مخير بين الجهر والإخفاء إن كان منفردا
أما إن كان إماما فالجهر واجب كما ذكره الشارح رحمه الله وأن المنفرد ليس بمخير في الصلاة السرية بل يجب الإخفاء عليه، وهو الصحيح؛ لأن الإمام يجب عليه الإخفاء فالمنفرد أولى وذكر عصام بن أبي يوسف أن المنفرد مخير فيما يخافت فيه أيضا استدلالا بعدم وجوب سجود السهو عليه
اعلاء السنن(4/16) میں ہے:
واما فی السرية فلا یخیر الامام ولا المنفرد اصلا، بل الاخفاء متعین فی حق الکل اداء وقضاء کما مر منقولا عن الدر، وان اختلفوا فی وجوب السهو علی المنفرد لو جهر فی السرية، ففی ظاهر الرواية لا یلزمه سجود السهو، وفی رواية النوادر یلزم
الذخیرۃ البرہانیہ (2/261)میں ہے:
وأما المنفرد فلا سهو عليه ذكره في الأصل. وأما إذا خافت فيما يجهر لأنه ماترك واجبا من واجبات الصلاة؛ لأن الجهر غير واجب عليه، ولهذا خير بين الجهر والمخافتة، والتخییر ينافى الوجوب وكذلك إذا جهر فيما يخافت، لأنه لم يترك واجبا عليه ؛ لأن المخافتة إنما وجبت لنفى المغالطة وإنما يحتاج إلى هذا في صلاة تؤدى على سبيل الشهرة والمنفرد يؤدي على سبيل الخفية. وذكر في واقعات الناطفي رواية مالك عن أبي يوسف عن أبي حنيفة رحمهم الله في المنفرد إذا جهر فيما يخافت أن عليه السهو. والحاصل أن فى ظاهر الرواية : لا سهو عليه وفى رواية النوادر عليه السهو. وذكر شمس الأئمة الحلواني رحمه الله أنه إذا كان هذا الرجل يصلي وحده وليس ثمة أحد، فلا سهو علىه كما ذكره فى ظاهر الرواية، وإن كان هناك رجل آخر، وكل واحد منهما يصلي منفردا كان عليه السهو، كما ذكر في النوادر. وذكر أبو سليمان في نوادره أن المنفرد إذا نسي حاله في صلاته حتى ظن أنه إمام فجهر في صلاته كما يجهر الإمام سجد للسهو؛ لأن الجهر بهذه الصفة سنة الإمام دون المنفردين فإذا جهر كذلك فقد غير نظم القراءة وهيئتها فيلزمه سجود السهو.
خلاصۃ الفتاویٰ (1/94) میں ہے:
ثم المنفرد فى صلاة المخافة يخافت وفى صلاة الجهر يخير بين الجهر والمخافة والجهر أفضل فإن كان متنفلا إن كا في النهار يخافت وان كان في الليل يخير بين الجهر والمخافة والجهر أفضل
مراقی الفلاح (ص:130) میں ہے:
ويجب الإسرار ……. في نفل النهار للمواظبة على ذلك
آپ کے مسائل اور ان کا حل(4/201)میں ہے:
سوال: نماز نفل اور سنتیں جہرا پڑھ سکتے ہیں یا دونوں میں سے کوئی ایک؟ اگر نوافل یا سنتیں جہرا پڑھ لی جائیں تو سجدہ سہو کرنا لازم ہوگا؟
الجواب: رات کی سنتوں اور نفلوں میں اختیار ہے کہ خواہ آہستہ پڑھے یا جہرا پڑھے اس لیے رات کی سنتوں اور نفلوں میں جہرا پڑھنے سے سجدہ سہو لازم نہیں ہوتا، دن کی سنتوں اور نفلوں میں جہرا پڑھنا درست نہیں بلکہ آہستہ پڑھنا واجب ہے اور اگر بھول کر تین آیتیں یا اس سے زیادہ پڑھ لیں تو سجدہ سہو لازم ہوگا یا نہیں؟ اس میں اختلاف ہے قواعد کا تقاضا یہ ہے کہ سجدہ سہو واجب ہونا چاہیے اور یہی احتیاط کا مقتضا ہے۔
مسائل بہشتی زیور (1/168)میں ہے:
مسئلہ: امام اور منفرد کو ظہر اور عصر کی کل رکعتوں میں اور مغرب و عشاء کی اخیر رکعتوں میں آہستہ آواز سے قراءت کرنا واجب ہے۔
مسئلہ: جو نفل نمازیں دن کو پڑھی جائیں ان میں آہستہ آواز سے قراءت کرنا چاہیے اور جو نفلیں رات کو پڑھی جائیں ان میں اختیار ہے۔
مسائل بہشتی زیور (1/229)میں ہے:
اگر آہستہ آواز کی نماز میں کوئی شخص خواہ امام ہو یا منفرد بلند آواز سے قراءت کر جائے یا بلند آواز کی نماز میں امام آہستہ آواز سے قراءت کرے اور اس کی مقدار اتنی ہو جس سے نماز جائز ہوتی ہے یعنی تیس حروف کے بقدر تو اس کو سجدہ سہو کرنا چاہیے ہاں اگر آہستہ آواز کی نماز میں بہت تھوڑی قراءت بلند آواز سے کی جائے جو نماز صحیح ہونے کے لیے کافی نہ ہو مثلا دو تین لفظ بلند اواز سے نکل جائیں یا جہری نماز میں امام اسی قدر آہستہ پڑھ دے تو سجدہ سہو لازم نہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved