- فتوی نمبر: 36-85
- تاریخ: 02 اگست 2026
- عنوانات: عبادات > روزہ و رمضان > اعتکاف کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ معتکف مؤذن کے لیے حالتِ اعتکاف میں خارجِ مسجد اذان دینا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
جائز ہے۔
شامی (2/ 444)میں ہے:
(وحرم عليه) أي على المعتكف اعتكافا واجبا….(الخروج إلا لحاجة الإنسان) طبيعية كبول وغائط وغسل لو احتلم ولا يمكنه الاغتسال في المسجد كذا في النهر (أو) شرعية كعيد وأذان لو مؤذنا وباب المنارة خارج المسجد.
وفى الشامية: (قوله لو مؤذنا) هذا قول ضعيف والصحيح أنه لا فرق بين المؤذن وغيره كما في البحر والإمداد ح (قوله وباب المنارة خارج المسجد) أما إذا كان داخله فكذلك بالأولى قال في البحر: وصعود المئذنة إن كان بابها في المسجد لا يفسد وإلا فكذلك في ظاهر الرواية اهـ ولو قال الشارح وأذان ولو غير مؤذن وباب المنارة خارج المسجد لكان أولى ح.
احسن الفتاوٰی(4/508)میں ہے:
سوال:معتکف اذان دینے کے لیے مأذنہ پر جاسکتا ہے یا نہیں؟بینواتوجروا
جواب: اگر مأذنہ کا دروازہ مسجد میں داخل ہےتو وہاں معتکف بہر حال،ہر وقت جاسکتا ہےاور اگر دروازہ مسجد سے خارج ہےتو صرف اذان دینے کی غرض سے جاسکتا ہے۔
مسائل بہشتی زیور(1/424)میں ہے:
مسئلہ:اگر کوئی مؤذن اعتکاف کرے اور اسے اذان دینے کے لیے (لاؤڈ سپیکر نہ ہونے کی صورت میں ) مسجد سے باہر جانا پڑے تو نکلنا جائز ہے مگر اذان کے بعد نہ ٹھہرے۔اگر کوئی معتکف باقاعدہ مؤذن تو نہیں لیکن کسی وقت کی اذان دینا چاہتا ہے تو اس کو بھی نکلنا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved