- فتوی نمبر: 36-220
- تاریخ: 22 ستمبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > حرمت مصاہرت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اور مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نے رات کے وقت اپنی اہلیہ کو بیدار کرنے کے لیے ہاتھ بڑھایا، لیکن اندھیرے اور بے خبری کی وجہ سے اسے اندازہ نہیں ہوا کہ اہلیہ اپنی چارپائی پر موجود نہیں ہے ،اتفاقاً ساتھ والی چارپائی پر اس کی بیٹی سوئی ہوئی تھی، اور زید کا ہاتھ غیر ارادی طور پر بیٹی کے چہرے پر بغیر حائل كے لگ گیا۔
شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس واقعہ کی بنا ء پر زید اور اس کی اہلیہ کے نکاح پر کوئی اثر پڑتا ہے یا نہیں؟
وضاحت مطلوب ہے:1۔ سائل کون ہے اور اس کا سوال سے کیا تعلق ہے؟ 2۔جب باپ کا ہاتھ بیٹی کو لگا تو دونوں میں سے کسی کو شہوت تھی؟3۔ جس بیٹی کو ہاتھ لگایا تھا اس کی کیا عمر ہے؟
جواب وضاحت: 1۔سائل متعلقہ مرد ہے، اس نے ہم سے سوال کیا ہے، اور ہم***کے ***کے سابقہ طالبعلم ہیں۔2۔جی باپ کو شہوت تھی، بیٹی کو نہیں۔3۔16 سال۔
شوہر کا بیان:
دار الافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے سوال کی تصدیق کی اور بتایا کہ بیٹی کو چھو نے سے پہلے مجھے شہوت تھی، اور میرا غالب گمان یہ ہے کہ چھونے کے بعد شہوت میں اضافہ ہواتھا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں چونکہ بیٹی کو ہاتھ لگانے کے بعد والد کی شہوت (آلہ تناسل کی حرکت) میں اضافہ ہوا ہے لہٰذا فقہ حنفی کے عام ضابطےکی رو سے تو حرمت مصاہرت ثابت ہو گئی ہے اور بیوی اپنے شوہر پر حرام ہو گئی ہے تاہم موجودہ دور میں بدلے ہوئے حالات کے پیش نظر بعض اہل علم کی رائے یہ ہےکہ جو صورت سوال میں مذکور ہے اس میں بیوی اپنے شوہر پر حرام نہیں ہوتی جس کی تفصیل حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب ؒ کی کتاب “فقہ اسلامی” (ص:34) میں مذکور ہے میاں بیوی چاہیں تو اس رائے پر عمل کر سکتے ہیں۔نیز آئندہ اس بات کا خیال رکھا جائے کہ ایسی نوبت دوبارہ نہ آئے۔
البحر الرائق (3/176) میں ہے:
والزنا واللمس والنظر بشهوة يوجب حرمة المصاهرة
وأطلق في اللمس والنظر بشهوة، فأفاد أنه لا فرق بين العمد والخطأ والنسيان والإكراه حتى لو أيقظ زوجته ليجامعها فوصلت يده إلى بنته منها فقرصها بشهوة وهي تشتهى يظن أنها أمها حرمت عليه الأم حرمة مؤبدة ولك أن تصورها من جانبها بأن أيقظته هي لذلك فقرصت ابنه من غيرها كذا في فتح القدير وأطلق في اللمس فشمل كل موضع من بدنها ………. وانصرف اللمس إلى أي موضع من البدن بغير حائل، وأما إذا كان بحائل فإن وصلت حرارة البدن إلى يده تثبت الحرمة وإلا فلا ……… وقيد بكون اللمس عن شهوة؛ لأنه لو كان عن غير شهوة لم يوجب الحرمة
والمراهق كالبالغ ووجود الشهوة من أحدهما كاف
وفي حاشيته:(قوله ووجود الشهوة من أحدهما كاف) قال الرملي أقول: قال في ملتقى الأبحر: وكذا اللمس بشهوة من أحد الجانبين
الدر المختار مع ردالمحتار (8/112) میں ہے:
والعبرة للشهوة عند المس والنظر لا بعدهما وحدها فيهما تحرك آلته أو زيادته به يفتى
(قوله: وحدها فيهما) أي حد الشهوة في المس والنظر .
(قوله: أو زيادته) أي زيادة التحرك إن كان موجودا قبلهما .
(قوله: به يفتى) وقيل حدها أن يشتهي بقلبه إن لم يكن مشتهيا أو يزداد إن كان مشتهيا، ولا يشترط تحرك الآلة وصححه في المحيط والتحفة وفي غاية البيان وعليه الاعتماد والمذهب الأول بحر قال في الفتح: وفرع عليه ما لو انتشر وطلب امرأة فأولج بين فخذي بنتها خطأ لا تحرم أمها ما لم يزدد الانتشار
فقہ اسلامی (ص:34) میں ہے:
چند اور احکام جو بدلے ہوئے حالات میں فقہ حنفی ہی کی رو سے معلوم ہوتے ہیں :
………………..6۔ مرد اگر اپنی ساس یا بیٹی سے صرف دواعی جماع کا ارتکاب کر بیٹھے تو اس سے اس کی بیوی اس پر حرام نہیں ہوتی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved